گفت قاضی فی القصاص آمد حیوة
گفت قاضی فی القصاص آمد حیوة
زندگی گیرد باین قانون ثبات
ترجمہ
قاضی نے کہا: قصاص میں زندگی ہے، اور اسی قانون سے زندگی کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔
تشریح
یہ شعر قاضی کے فیصلے کی نظری بنیاد کو واضح کرتا ہے۔ اقبال محض ایک عدالتی کارروائی نہیں دکھا رہے بلکہ اسلامی قانون کی روح کو سامنے لا رہے ہیں۔ قاضی قصاص کو انتقام کے طور پر نہیں، زندگی کے ضامن اصول کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یعنی سزا کا مقصد خون ریزی بڑھانا نہیں بلکہ ظلم کو روکنا، معاشرتی توازن بحال کرنا اور انسانوں کے خون کو محفوظ بنانا ہے۔ شعر کے مطابق:
فی القصاص حیاة:
یہ قرآنی تصور ہے کہ قصاص دراصل زندگی کی حفاظت کرتا ہے۔ جب جرم کے مقابلے میں واضح اور عادلانہ جواب موجود ہو تو ظلم کی راہ بند ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک اسلامی قانون کی عظمت یہ ہے کہ وہ رحم اور شدت دونوں کو حکمت سے جوڑتا ہے۔ نہ ظلم کو کھلا چھوڑتا ہے، نہ سزا کو نفسانی انتقام بنا دیتا ہے۔
قصاص کی اصل روح حدود قائم کرنا ہے تاکہ مزید خون بہنے سے بچ جائے۔
قانون اور ثبات:
“زندگی گیرد باین قانون ثبات” ایک بہت بڑا سماجی اصول بیان کرتا ہے۔ جس معاشرے میں جان، جسم اور حق کی حرمت کے لیے یقینی قانون نہ ہو، وہاں لوگ طاقت، بدلے یا خوف کے سہارے جیتے ہیں۔ مگر جب سب کو معلوم ہو کہ خون کا حساب ہوگا اور طاقت ور بھی بچ نہیں سکے گا، تو اجتماعی زندگی میں اعتماد اور ثبات پیدا ہوتا ہے۔
یہی ثبات تہذیب، معیشت، عبادت اور باہمی تعلقات سب کی بنیاد بنتا ہے۔
قاضی کی حکمت:
قاضی یہاں محض حکم نہیں سنا رہا، تعلیم بھی دے رہا ہے۔ وہ بتا رہا ہے کہ یہ فیصلہ شخصی نزاع کا حل بھر نہیں بلکہ ملت کے قانونی شعور کی حفاظت ہے۔ اگر سلطان کو استثنا مل جائے تو قانون کی حرمت ٹوٹ جائے گی، اور اگر قانون یکساں نافذ ہو تو پوری جماعت سیکھے گی کہ جان کی حرمت واقعی برابر ہے۔
اس طرح عدالت ایک مدرسہ بھی بن جاتی ہے جہاں قانون کو سمجھایا جاتا ہے۔
اسلامی مساوات کی فقہی بنیاد:
یہ شعر اس حکایت کا فقہی مرکز ہے۔ مساوات صرف جذباتی ہمدردی یا سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ شرعی قانون کی بنیاد پر قائم اصول ہے۔ قاضی کے الفاظ واضح کرتے ہیں کہ معمار اور سلطان کے معاملے میں فیصلہ کسی طبقاتی غصے سے نہیں ہوگا، بلکہ قرآن کی قائم کردہ میزان سے ہوگا۔
اسی سے اسلامی عدل نرم دل بھی رہتا ہے اور مضبوط بھی۔
آج کے لیے سبق:
آج کے معاشروں میں جب سزا اور قانون پر بحث ہوتی ہے تو اکثر ایک طرف جذباتی نرمی اور دوسری طرف اندھی سختی آ جاتی ہے۔ اقبال کے ذریعے قاضی یاد دلاتا ہے کہ اصل سوال یہ ہے: کون سا قانون زندگی کو زیادہ محفوظ، مستحکم اور باوقار بناتا ہے؟ وہی قانون صالح ہے جو ظلم کو روکے، انتقام کو محدود کرے اور حق کو قائم رکھے۔
عدل کی مضبوطی کے بغیر رحمت بھی بے اثر ہو جاتی ہے، کیونکہ کمزور کی جان پھر بھی محفوظ نہیں رہتی۔
مثال
جب کسی ملک میں طاقت ور افراد کے خلاف بھی قتل، تشدد یا سنگین زیادتی کے مقدمات واقعی انجام تک پہنچتے ہیں تو معاشرے میں یہ اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ جان کی حرمت محض کتابی بات نہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں قصاص کو زندگی بخش قانون کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ قاضی واضح کرتا ہے کہ برابر اور یقینی انصاف ہی اجتماعی زندگی میں ثبات، امن اور جان کی حقیقی حفاظت پیدا کرتا ہے۔
