دشمنت ترسان اگر بیند ترا
دشمنت ترسان اگر بیند ترا
از خیابانت چو گل چیند ترا
ترجمہ
اگر تیرا دشمن تجھے خوف زدہ دیکھ لے تو وہ تجھے باغ سے پھول کی طرح توڑ لے گا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خوف کے عملی اور خارجی نتائج کو نہایت تیز تمثیل میں بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب دشمن یہ دیکھ لیتا ہے کہ اس کا مقابل خوف زدہ ہے، تو پھر اس کے لیے اسے گرانا مشکل نہیں رہتا۔ وہ اسے ایسے چن لیتا ہے جیسے باغبان یا کوئی راہ گیر پھول کو ٹہنی سے توڑ لے۔ شعر کے مطابق:
خوف کی بیرونی علامت:
اندر کا خوف اکثر باہر بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔ لہجہ بدل جاتا ہے، فیصلہ کمزور پڑ جاتا ہے، نگاہ جھکنے لگتی ہے، اور عمل میں لرزش آ جاتی ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ دشمن کو ہمیشہ تلوار یا تعداد سے طاقت نہیں ملتی، کئی بار وہ سامنے والے کی باطنی کمزوری سے حوصلہ پاتا ہے۔
اس لیے خوف صرف ایک ذاتی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ وہ انسان کے مخالف کو بھی جرات فراہم کر سکتا ہے۔
پھول کی تمثیل:
پھول نرم، نازک اور آسانی سے توڑا جانے والا ہوتا ہے۔ اقبال اس تشبیہ سے بتاتے ہیں کہ خوف انسان کے وقار اور سختی کو کم کر دیتا ہے۔ وہ جس شخصیت میں اصل میں قوت، فکر اور ارادہ ہو سکتا تھا، خوف کے باعث اتنی کمزور نظر آنے لگتی ہے کہ دشمن اسے مزاحمت کے قابل نہیں سمجھتا۔
یہاں یہ بھی اشارہ ہے کہ خوب صورتی یا قابلیت تنہا کافی نہیں، اگر باطن میں جرات نہ ہو تو نرمی کمزوری میں بدل سکتی ہے۔
دشمن کی نفسیات:
اقبال دشمن کی نفسیات کو بھی سمجھتے ہیں۔ ظلم کرنے والا یا غالب آنے والا اکثر وہاں زیادہ آگے بڑھتا ہے جہاں اسے مزاحمت کم نظر آئے۔ جب اسے سامنے والے کی روحانی اور عملی کمزوری کا اندازہ ہو جائے تو اس کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے خوف اپنے اندر رہ کر بھی دوسروں کی قوت کو بڑھا سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شاعر فرد اور ملت دونوں کو باطنی جرات کی تربیت دینا چاہتے ہیں، کیونکہ وقار صرف دفاع نہیں، مزاحمت کی فضا بھی پیدا کرتا ہے۔
توحید اور وقار:
اس مسئلے کا علاج اقبال پھر توحید میں دیکھتے ہیں۔ جب دل خدا سے وابستہ ہو تو انسان اپنی عزت کا مرکز مخلوق میں نہیں ڈھونڈتا۔ وہ حالات کو دیکھتا ہے، حکمت بھی اختیار کرتا ہے، مگر خوف زدہ ہو کر اپنی شخصیت کو نرم اور ٹوٹا ہوا نہیں دکھاتا۔ اس کے اندر ایک وقار باقی رہتا ہے، اور یہی وقار ظالم کے حوصلے کو بھی کم کرتا ہے۔
توحید دل کو ایسا توازن دیتی ہے کہ نرمی باقی رہتی ہے مگر کمزوری پیدا نہیں ہوتی۔
قوموں کے لیے تنبیہ:
یہ شعر فرد کی طرح امت کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ اگر کوئی قوم خود کم بینی، خوف یا شکست خوردگی کا کھلا اظہار کرتی رہے تو اس کے مخالف اس پر زیادہ آسانی سے چڑھ بیٹھتے ہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت اپنی باطنی قوت کو زندہ کرے، تاکہ کوئی دشمن اسے آسان شکار نہ سمجھے۔
پس یہ شعر صرف جذباتی جوش نہیں بلکہ قومی وقار کی نفسیات بھی سکھاتا ہے: اندر مضبوط رہو، تاکہ باہر تمہارا وزن قائم رہے۔
مثال
بازار میں بھی چور اکثر اسی شخص کو نشانہ بناتا ہے جو پہلے ہی گھبرایا ہوا، بےتوجہ یا کمزور دکھائی دے۔ اسی طرح زندگی کے میدان میں بھی خوف انسان کو آسان ہدف بنا سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق جب دشمن کسی انسان یا قوم کو خوف زدہ دیکھتا ہے تو اس پر غالب آنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ نجات اسی میں ہے کہ دل توحیدی وقار سے بھر جائے اور شخصیت خوف کے بجائے ثابت قدمی ظاہر کرے۔