آتشی از سوز او گردد بلند
آتشی از سوز او گردد بلند
ایں شرر بر شعلہ اندازد کمند
ترجمہ
اسی (خودی) کے سوز سے آگ بلند ہوتی ہے، اور اس کی چنگاری شعلے پر کمند ڈال دیتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خودی کے سوز اور اس کی بے پناہ قوت کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک خودی کی چھوٹی سی چنگاری بھی بڑی سے بڑی طاقت پر غالب آ سکتی ہے۔ شعر کے مطابق:
خودی کا سوز:
خودی کے اندر ایک آگ، ایک تڑپ اور ایک حرارت ہے۔ اسی سوز سے انسان کے اندر جوش، ولولہ اور عمل کی قوت پیدا ہوتی ہے۔
یہی اندرونی حرارت انسان کو بلند ہمت، پرعزم اور متحرک بناتی ہے، اور اسے بڑے کاموں کی طرف مائل کرتی ہے۔
چنگاری کا شعلے پر کمند ڈالنا:
خودی کی چھوٹی سی چنگاری بھی اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ بڑے سے بڑے شعلے کو قابو میں لے لیتی ہے، یعنی خودی کمزور کو بھی طاقتور پر غالب کر دیتی ہے۔
اس طرح خودی کی قوت ظاہری کمزوری کے باوجود بڑی طاقتوں پر حاوی ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد یقین اور جذبے پر ہے۔
خودی کی قوت:
یہی سوز اور حرارت خودی کی اصل طاقت ہے، جو انسان کو بڑے کارنامے سرانجام دینے اور ناممکن کو ممکن بنانے کے قابل بناتی ہے۔
جذبے کی برتری:
اقبال سمجھاتے ہیں کہ اصل طاقت ظاہری وسائل میں نہیں بلکہ خودی کے سوز اور جذبے میں ہے، جو کمزور کو بھی فاتح بنا دیتا ہے۔
مثال
جیسے ایک چھوٹی سی چنگاری پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، ویسے ہی خودی کی چنگاری بڑی سے بڑی قوت پر غالب آ جاتی ہے اور اسے مسخر کر لیتی ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خودی کے سوز سے وہ حرارت اور قوت پیدا ہوتی ہے جو کمزور کو بھی طاقتور پر غالب کر دیتی ہے، اور یہی جذبہ اصل طاقت ہے۔

