ملت از یک رنگی دلہاستی
ملت از یک رنگی دلہاستی
روشن از یک جلوہ این سیناستی
ترجمہ
ملت دلوں کی ہم رنگی ہی سے بنتی ہے، اور یہ سینا اسی ایک جلوے سے روشن ہوتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ملت کی اصل بنیاد نہایت اختصار مگر بڑی گہرائی سے بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ امت کا وجود صرف افراد کے جمع ہو جانے سے نہیں بنتا، بلکہ دلوں کی ہم رنگی سے بنتا ہے۔ اور جب یہ ہم رنگی کسی ایک جلوۂ حق، ایک مرکزِ ایمان اور ایک مشترک شعور سے پیدا ہو، تب اجتماعی وجود روشن اور بامعنی ہو جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:
ہم رنگی کا مفہوم:
“یک رنگی دلہا” سے مراد یہ نہیں کہ سب لوگوں کے ذوق، مزاج یا صلاحیتیں ایک جیسی ہو جائیں۔ اقبال کا مقصود باطنی ہم آہنگی ہے۔ یعنی دلوں کا رخ ایک ہو، وفاداری ایک ہو، نصب العین ایک ہو، اور خیر و شر کا بنیادی معیار ایک ہو۔ جب یہ یک رنگی ہوتی ہے تو تنوع بھی حسن بن جاتا ہے، اختلاف بھی فساد میں نہیں بدلتا۔
گویا ملت کی وحدت یکسانیت سے نہیں بلکہ مشترک قلبی سمت سے پیدا ہوتی ہے۔
ملت کی تعمیر کا راز:
اقبال بتاتے ہیں کہ ملت اصل میں دلوں کے اشتراک سے بنتی ہے۔ اگر افراد جسمانی طور پر ساتھ ہوں مگر دل مختلف خداؤں، مختلف مقاصد اور مختلف وفاداریوں میں بٹے ہوں، تو حقیقی ملت وجود میں نہیں آتی۔ اس کے برعکس اگر دل ایک جلوۂ حق سے روشن ہوں تو دوریاں، فرق اور بیرونی تنوع بھی وحدت کو نہیں توڑتے۔
یہی وجہ ہے کہ شاعر سیاسی یا نسلی تعریفوں سے آگے بڑھ کر ملت کی روحانی تعریف پیش کرتے ہیں۔
سینا کی تعبیر:
“سینا” یہاں سینے کی جمع بھی سمجھا جا سکتا ہے اور اس میں طورِ سینا کی طرف ایک لطیف اشارہ بھی محسوس ہوتا ہے۔ یعنی دلوں کا سینہ تبھی روشن ہوتا ہے جب اس پر ایک ہی جلوہ پڑے۔ یہ جلوہ توحید کا، حق کا، یا ربانی حقیقت کا جلوہ ہے جو باطن کو روشن کر دیتا ہے۔ جب ایک ہی نور سے بہت سے سینے روشن ہوں تو ان کے درمیان ایک مشترک روحانی فضا پیدا ہوتی ہے۔
یہی روشنی ملت کو اندھی تقلید، باہمی نفرت اور فکری تاریکی سے بچاتی ہے۔
اجتماعی اخلاق اور فکری نظم:
ہم رنگیِ دل کا ایک بڑا نتیجہ یہ ہے کہ ملت کے اندر اخلاقی اور فکری نظم پیدا ہوتا ہے۔ لوگ محض اپنے مفاد کی بنیاد پر نہیں سوچتے، بلکہ ایک بڑے خیر کے تحت سوچتے ہیں۔ اسی سے اعتماد، قربانی، خدمت اور باہمی ذمہ داری کی فضا بنتی ہے۔ اگر دلوں کا رنگ مختلف خدشات اور خواہشات کے تابع ہو جائے تو قوم کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے۔
پس ملت کے استحکام کے لیے دلوں کی ہم رنگی بنیادی شرط ہے، نہ کہ صرف ظاہری اتحاد۔
فرد کے لیے رہنمائی:
ہر فرد اپنے دل کے رنگ کا ذمہ دار ہے۔ اگر اس کا دل حق کے جلوے سے روشن ہو تو وہ ملت کی روشنی میں اضافہ کرتا ہے، اور اگر اس کا دل صرف ذاتی فائدے، تعصب یا غفلت کے رنگ میں رنگا ہو تو اجتماعی تاریکی بڑھتی ہے۔ اقبال فرد کو ملت کے باطن کی ایک زندہ اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اسی لیے یہ شعر انفرادی تزکیہ اور اجتماعی تعمیر دونوں کو ایک ہی اصول پر جمع کرتا ہے۔
مثال
جب بہت سے چراغ ایک ہی روشنی کے سلسلے میں جلتے ہیں تو پورا کمرہ منور ہو جاتا ہے۔ اگر ہر چراغ الگ سمت میں، الگ رنگ میں یا بجھا ہوا ہو تو روشنی منتشر رہتی ہے۔ اسی طرح ملت دلوں کی اس ہم رنگ روشنی سے بنتی ہے جو ایک ہی جلوے سے پیدا ہو۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک ملت کی اصل بنیاد دلوں کی یک رنگی ہے، اور یہ یک رنگی ایک ہی جلوۂ حق سے پیدا ہوتی ہے۔ جب دل اس نور میں ہم آہنگ ہوں تو اجتماعی وجود روشن، مضبوط اور بامعنی ہو جاتا ہے۔

