رموز بے خودی

بهر حق در خاک و خون غلتیده است

بهر حق در خاک و خون غلتیده است

پس بنای لااله گردیده است

ترجمہ

وہ حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹا ہے، اسی لیے وہ “لا الٰہ” کی بنیاد بن گیا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں امام حسین کی شہادت کو توحید کے کلمے سے براہ راست جوڑ دیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ حسین نے صرف ایک ظالم حکومت کے خلاف مزاحمت کی، بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ ان کا خاک و خون میں غلتنا خود “لا الٰہ” کے معنی کو تاریخ میں قائم کرنے والا عمل بن گیا۔ جب حق کے لیے جان دی جاتی ہے تو توحید محض زبان کا اقرار نہیں رہتی، زندہ حقیقت بن جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:

بهر حق:

یہاں بنیادی لفظ “حق” ہے۔ اگر قربانی کسی قبیلے، اقتدار، انتقام یا شخصی غیرت کے لیے ہوتی تو اس کی معنویت محدود رہتی۔ اقبال بتاتے ہیں کہ حسینی قربانی کا مرکز “حق” ہے، اور یہی حق اسے آفاقی اور دائمی بناتا ہے۔ حق سے وابستگی کا مطلب یہ ہے کہ مقصد خدا کی رضا، دین کی بقا، اور امت کی حریت کی حفاظت ہے۔

اسی لیے یہ خون تاریخی حادثے سے بڑھ کر دینی حجت بن جاتا ہے۔

خاک و خون میں غلتنا:

اقبال نے بہت جسمانی اور حسی تصویر استعمال کی ہے: خاک، خون، اور غلتنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کا دفاع صرف ذہنی استدلال سے نہیں ہوتا؛ بعض اوقات جسم کو بھی مٹی اور خون میں اترنا پڑتا ہے۔ امام حسین کی عظمت یہ ہے کہ انہوں نے حق کے نعرے کو جسمانی قیمت کے ساتھ سچا کیا۔

گویا “لا الٰہ” صرف فکر نہیں، وجودی امتحان بھی ہے۔

بنای لااله:

“لا الٰہ” توحید کا پہلا اور انکاری پہلو ہے: ہر باطل معبود، ہر جھوٹی اطاعت، ہر استبدادی خدائی کا انکار۔ اقبال کے نزدیک امام حسین نے یہی “لا” اپنے خون سے لکھا۔ یزیدیت صرف ایک شخص نہ تھی، وہ باطل اقتدار کی وہ صورت تھی جو اپنے لیے دینی جواز بھی چاہتی تھی۔ حسین کی شہادت نے اس جواز کو توڑ دیا اور توحید کے انکاری پہلو کو زندہ رکھا۔

اس لیے حسینیت توحید کی نفیِ باطل کا ابدی استعارہ بن جاتی ہے۔

کربلا کی توحیدی معنویت:

کربلا کو اگر صرف مظلومیت کے واقعے کے طور پر پڑھا جائے تو اس شعر کی گہرائی پوری نہیں کھلتی۔ اقبال اسے “بنای لااله” کہتے ہیں، یعنی کربلا دین کے بنیادی قلعے کی مرمت یا تجدید ہے۔ امام حسین نے اپنے خون سے امت کو یہ یاد دلایا کہ اسلام کی روح باطل طاقت کے سامنے جھکنے میں نہیں، اس کے انکار میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کربلا توحید کی سیاسی اور اخلاقی تفسیر بن جاتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی “لا الٰہ” کو محض لفظی ذکر بنا دینے کا خطرہ موجود ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر انسان جھوٹ، ظلم، مفاد، خوف یا استبداد کے سامنے جھک جائے تو کلمہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ سچا “لا الٰہ” وہی ہے جو باطل کی خدائی کو عملاً رد کرے، چاہے اس کی قیمت ادا کرنی پڑے۔

اسلامی حریت کا آغاز اسی “لا” سے ہوتا ہے جسے حسین نے خون سے زندہ کیا۔

مثال

جب کوئی شخص حق کے لیے ایسا مؤقف اختیار کرتا ہے جس میں اسے فائدے، آرام یا سلامتی کا نقصان اٹھانا پڑے، تو وہ محض اصولی بات نہیں کر رہا ہوتا بلکہ اپنے وجود سے یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ باطل میری عبادت کے لائق نہیں۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امام حسین کا خاک و خون میں غلتنا توحید کے کلمے “لا الٰہ” کی بنیاد بن گیا۔ ان کی شہادت نے باطل معبودوں کے انکار کو تاریخ میں زندہ اور معتبر رکھا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button