رموز بے خودی

لابه و مکاری و کین و دروغ

لابه و مکاری و کین و دروغ

این همه از خوف می گیرد فروغ

ترجمہ

فریاد و گڑگڑاہٹ، مکاری، کینہ اور جھوٹ، یہ سب خوف ہی سے اپنی روشنی اور قوت پاتے ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں پچھلے شعر کی بات کو مزید واضح کر دیتے ہیں۔ اب وہ چند مخصوص اخلاقی خرابیوں کے نام لے کر بتاتے ہیں کہ ان کے پیچھے بھی خوف کا عنصر کام کرتا ہے۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے، کیونکہ اقبال برائیوں کو الگ الگ جزیرے نہیں سمجھتے، بلکہ ان کی جڑ میں بیٹھے ہوئے ایک بنیادی مرض کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

لابہ اور بےجا گڑگڑاہٹ:

“لابہ” اس عاجزانہ گڑگڑاہٹ کے لیے بھی آتا ہے جو وقار کے ساتھ دعا یا درخواست نہ ہو بلکہ خوف سے پیدا ہونے والی خود شکنی ہو۔ اقبال کے نزدیک ایسا رویہ انسان کی عزتِ نفس کو کم کرتا ہے۔ جب دل خدا سے مضبوط نہ ہو تو وہ بندوں کے سامنے ضرورت سے زیادہ جھکنے لگتا ہے، اور یہی بےجا انکسار دراصل خوف کی ایک صورت بن جاتا ہے۔

یہ عاجزی نہیں، کمزوری ہے۔ سچی عاجزی خدا کے سامنے ہوتی ہے، مگر مخلوق کے خوف سے پیدا ہونے والی لابہ شخصیت کے وقار کو توڑ دیتی ہے۔

مکاری کی پیدائش:

مکاری اکثر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان سچائی کے بجائے بچاؤ کا راستہ ڈھونڈ رہا ہو۔ وہ صاف راستہ اختیار کرنے کے بجائے چال، پردہ داری اور غیر ضروری پیچیدگی کا سہارا لیتا ہے، کیونکہ اسے نتائج کا خوف ہوتا ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ مکاری ہمیشہ ذہانت کی علامت نہیں، بہت مرتبہ یہ ڈرے ہوئے دل کی پیداوار ہوتی ہے۔

یعنی جسے لوگ چالاکی سمجھتے ہیں، وہ باطن میں خوف زدہ ذہن کی تدبیر بھی ہو سکتی ہے۔ توحید کا راستہ سچائی اور وضوح کا ہے، جبکہ خوف انسان کو پیچ دار راستوں کی طرف لے جاتا ہے۔

کینہ اور دروغ:

کینہ بھی اکثر خوف سے پیدا ہوتا ہے: عزت چھن جانے کا خوف، برابری نہ ملنے کا خوف، یا اپنے باطن کی کمی کے سامنے آنے کا خوف۔ اسی طرح جھوٹ بھی بہت دفعہ کسی ایسے دل سے نکلتا ہے جو سچ کے نتائج سے ڈرتا ہے۔ اس طرح خوف صرف کمزوری تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اخلاقی آلودگیوں میں بدل جاتا ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ ان سب خرابیوں کی تہہ میں خوف موجود ہے۔ اگر دل میں توحیدی اعتماد ہو تو نہ جھوٹ کی ضرورت رہتی ہے، نہ مکاری کی، نہ کینہ پالنے کی۔

“فروغ” کا الٹا استعمال:

شاعر نے یہاں “فروغ” کا لفظ لایا ہے، جو عام طور پر روشنی اور چمک کے لیے آتا ہے۔ مگر وہ بتا رہے ہیں کہ ان برائیوں کی جھوٹی چمک بھی خوف سے آتی ہے۔ یعنی وہ وقتی طور پر کارگر یا چالاک معلوم ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی اصل روشنی حیات بخش نہیں بلکہ خوف کی اندھیری آگ سے نکلی ہوئی ہوتی ہے۔

یہ اسلوب شعر کو اور زیادہ بلیغ بنا دیتا ہے۔ ظاہر میں یہ چیزیں تدبیر یا مصلحت لگ سکتی ہیں، مگر باطن میں یہ خوف کی تاریکی سے روشن ہو رہی ہوتی ہیں۔

فرد اور ملت کی اخلاقی اصلاح:

فرد کی سطح پر اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی بعض اخلاقی کمزوریوں کو صرف عادت یا مزاج کہہ کر نہ چھوڑ دے، بلکہ ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے خوف کو پہچانے۔ امت کی سطح پر بھی یہی نکتہ ہے: اگر قوم اپنے اجتماعی کردار میں مصلحت کوشی، منافقت، جھوٹ اور اندرونی کینہ پال رہی ہو تو اسے اپنی جڑ میں موجود خوف کا علاج کرنا ہوگا۔

اقبال یوں اخلاقی تزکیے کو براہِ راست توحیدی جرات سے جوڑ دیتے ہیں۔ جہاں خوف کم ہوگا، وہاں صداقت، صفائی اور وقار بڑھے گا۔

مثال

بہت سے لوگ غلطی چھپانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں، اپنا حق لینے کے بجائے چاپلوسی کرتے ہیں، یا دوسروں کی کامیابی سے اس لیے جلتے ہیں کہ انہیں اپنا مقام خطرے میں محسوس ہوتا ہے۔ مختلف صورتیں ہیں، مگر جڑ میں خوف ہی بیٹھا ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق لابہ، مکاری، کینہ اور جھوٹ جیسی کئی برائیاں خوف سے قوت پاتی ہیں۔ حقیقی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب دل توحیدی اعتماد سے مضبوط ہو اور غیر اللہ کے خوف سے آزاد ہو۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button