همچنان آن رازدان جزو و کل
همچنان آن رازدان جزو و کل
گرد پایش سرمه ی چشم رسل
ترجمہ
اسی طرح وہ ہستی جزو و کل کے رازوں سے آگاہ تھی، اور اس کے قدموں کی خاک انبیا کی آنکھوں کا سرمہ تھی۔
تشریح
اقبال اس شعر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامِ معرفت اور مقامِ ختمِ رسالت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ “رازدان جزو و کل” سے مراد ایسی جامع بصیرت ہے جو انسان، کائنات، تاریخ، اخلاق، فرد، جماعت اور حقائقِ وجود کے باہمی تعلق کو الٰہی روشنی میں دیکھتی ہو۔ دوسرے مصرعے میں اقبال انتہائی محبت اور ادب کے انداز میں بتاتے ہیں کہ حضور کی نسبت دیگر انبیا کے لیے بھی باعثِ تعظیم و اکرام ہے۔ شعر کے مطابق:
رازدانِ جزو و کل:
جزو و کل ایک وسیع استعارہ ہے۔ جزو فرد ہے، لمحہ ہے، واقعہ ہے، انسان کی چھوٹی سطح ہے؛ کل امت ہے، تاریخ ہے، کائنات ہے، اور حقیقت کا بڑا منظرنامہ ہے۔ عام انسان یا تو جزو میں الجھ جاتا ہے یا کل کے دعوے میں کھو جاتا ہے، مگر نبوی بصیرت ان دونوں کو ان کے صحیح ربط میں دیکھتی ہے۔ حضور کی تعلیم فرد کو بھی سنوارتی ہے اور تمدن کو بھی، دل کو بھی جگاتی ہے اور معاشرے کو بھی۔
یہی جامعیت رسالت کو محض اخلاقی وعظ سے بڑھا کر مکمل ہدایت بناتی ہے۔
معرفت کی جامعیت:
اقبال یہاں کسی فلسفیانہ کل دانائی کا دعویٰ نہیں کر رہے، بلکہ یہ بتا رہے ہیں کہ نبوی علم باذنِ الٰہی انسان کی رہنمائی کے لیے کافی اور جامع ترین روشنی ہے۔ رسول اکرم کے پاس زندگی کے اساسی سوالوں کا ایسا جواب ہے جو عبادت، معاشرت، عدالت، سیاست، اخلاق، محبت اور قربانی سب کو ایک ہی مرکز سے جوڑ دیتا ہے۔
جس علم میں دل بھی ہو، نظم بھی ہو، اور آخرت کی جواب دہی بھی، وہی علم انسان کو پورا راستہ دیتا ہے۔
گردِ پا کا استعارہ:
“گرد پایش” نہایت بلند ادب کی تعبیر ہے۔ اس سے مراد حضور کی نسبت کی وہ برکت ہے جو محض قربِ جسمانی نہیں بلکہ قربِ روحانی کی علامت ہے۔ “سرمہ” بینائی کو تیز کرنے کے لیے آنکھ میں لگایا جاتا ہے؛ یوں “سرمه ی چشم رسل” کا مطلب یہ ہوا کہ حضور کی نسبت انبیا کے سلسلے کے کمال اور بصیرت کی تکمیل سے جڑی ہوئی ہے۔ اقبال اس طرح ختمِ رسالت کو ادب بھرے شعری استعارے میں بیان کرتے ہیں۔
یہ فضیلت تفاخر کے لیے نہیں، مرکزیتِ ہدایت کو سمجھانے کے لیے بیان ہوئی ہے۔
انبیا کی آنکھوں کا سرمہ:
اس مصرعے میں اقبال نے مختلف نبوتوں کو باہم متصادم نہیں بلکہ ایک ہی نورانی سلسلے میں مربوط دکھایا ہے۔ رسول اکرم اس سلسلے کے خاتم اور جامع ہیں، اس لیے ان کی نسبت پچھلے انبیا کے مقاصد کی تکمیل سے جڑتی ہے۔ گویا ان سب کی جدوجہد اسی نور کے مختلف مرحلے تھے جو آخرکار محمدی کمال میں اپنی جامع صورت پاتا ہے۔
یہ تصور امت کو انبیا سے محبت، اور رسالتِ محمدی سے مرکزیت، دونوں ایک ساتھ عطا کرتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج انسان یا تو محض جزئی مسائل میں کھو جاتا ہے، یا اتنے بڑے نظریات میں بھٹک جاتا ہے کہ فرد اور اخلاق گم ہو جاتے ہیں۔ اقبال ہمیں نبوی جامعیت کی طرف بلاتے ہیں: ایسا دین جو فرد کی نماز، بازار کی دیانت، معاشرے کے عدل، اور قوم کی سمت کو ایک ہی روحانی مرکز سے جوڑ دے۔ جب یہ مرکز نظروں سے اوجھل ہوتا ہے تو زندگی ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے۔
نبوی نسبت ہمیں ٹکڑوں سے اٹھا کر ایک مربوط معنی کی طرف لے جاتی ہے۔
مثال
ایک عام رہنما کسی ایک مسئلے کا حل دے سکتا ہے، مگر ایک الٰہی رہبر انسان کی شخصیت، عبادت، اخلاق، خاندان، تجارت اور اجتماع سب کے لیے ایک مربوط راستہ دیتا ہے۔ یہی جزو اور کل کی جامع بصیرت ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں رسول اکرم کی جامع نبوی بصیرت اور ان کے مقامِ ختم و کمال کو بیان کرتے ہیں۔ ان کی نسبت فرد اور کائنات کے ربط کو روشن کرتی ہے، اور انبیا کے سلسلے کی تکمیل کا مرکز بنتی ہے۔