رموز بے خودی

گردش خونی که در رگهای ماست

گردش خونی که در رگهای ماست

تیز از سعی حصول مدعاست

ترجمہ

ہماری رگوں میں دوڑنے والے خون کی تیزی بھی دراصل مدعا کے حصول کی کوشش سے ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مقصد کو زندگی کے جسمانی، نفسیاتی اور روحانی جوش کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری رگوں میں خون کی جو گردش ہے، اس کی تیزی بھی مدعا کے حصول کی سعی سے وابستہ ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ طبّی معنی میں خون اپنی طبعی حرکت رکھتا ہے، مگر اقبال اس کے ذریعے ایک باطنی حقیقت بیان کر رہے ہیں: زندگی کے اندر جو حرارت، دوڑ، بے قراری اور آگے بڑھنے کی قوت پائی جاتی ہے، اس کا اصل منبع مطلوب کا جذبہ ہے۔ آدمی محض اس لیے زندہ نہیں کہ اس کا جسم چل رہا ہے، بلکہ اس لیے زندہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے اندر کسی چیز کو پانے کی طلب موجزن ہے۔

یہاں “سعی حصول مدعا” کا لفظی استعمال بہت اہم ہے۔ اقبال مقصد کو جامد تصور نہیں کرتے۔ مقصد محض نظریہ نہیں، تلاش بھی ہے۔ یہ تلاش ہی زندگی کو گرم رکھتی ہے۔ جو چیز حاصل کرنی ہو، جو منزل سامنے ہو، جو محبوب دل میں جاگا ہو، وہی خون کو تیز کرتی ہے۔ اسی لیے بے مقصد زندگی اکثر سستی، پژمردگی اور داخلی سردی کا شکار ہو جاتی ہے، جبکہ مدعا والی زندگی میں تھکن کے باوجود ایک عجیب حرکت باقی رہتی ہے۔ اقبال گویا کہتے ہیں کہ انسان کی اصل نبض اس کے مدعا سے چلتی ہے۔

خون کی گردش بطور استعارہ:

خون زندگی کا نشان ہے۔ جہاں خون چل رہا ہو وہاں حرارت، نمو اور احساس موجود ہوتے ہیں۔ اقبال خون کی گردش کو مقصد کی سعی سے جوڑ کر یہ بتاتے ہیں کہ باطنی طلب کے بغیر حیات کی بہت سی قوتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ جسم چل سکتا ہے، مگر دل سست ہو جاتا ہے؛ ہاتھ کام کر سکتے ہیں، مگر روح تھک جاتی ہے۔ مقصد اس دورانِ حیات میں ایک نیا جوش پیدا کرتا ہے۔

یہ استعارہ نہایت مؤثر ہے، کیونکہ خون پوری ہستی میں یکساں طور پر جاری ہوتا ہے۔ اسی طرح مدعا بھی انسان کی زندگی کے ایک گوشے تک محدود نہیں رہنا چاہیے؛ وہ اس کی سوچ، ارادہ، عمل، محبت اور قربانی سب میں دوڑنا چاہیے۔

سعی کی حرارت:

سعی کا مطلب مسلسل کوشش ہے، نہ کہ وقتی جوش۔ اقبال کے ہاں مدعا ایسا نہیں جو صرف تصور میں خوش کرے، بلکہ ایسا ہے جو آدمی کو دوڑائے، جگائے اور حرکت پر آمادہ رکھے۔ جو چیز ہمیں تلاش پر مجبور نہ کرے، وہ شاید ابھی حقیقی مدعا نہیں بنی۔

یہی سعی خون کی تیزی کا باعث ہے۔ یعنی انسان کا باطنی درجہ اس کی تلاش کے درجے سے پہچانا جا سکتا ہے۔ جس کے اندر کوئی اعلیٰ مطلوب نہیں، وہ جلد سکونِ مردہ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جس کے اندر طلب باقی ہو، اس کی رگوں میں زندگی زیادہ گرم رہتی ہے۔

ملت کی نبض:

یہ شعر صرف فرد کی نفسیات نہیں، ملت کی اجتماعی نبض بھی بیان کرتا ہے۔ قوموں کے اندر بھی ایک طرح کی گردشِ خون ہوتی ہے: ان کی علمی حرکت، تہذیبی حرارت، اجتماعی غیرت، اخلاقی بیداری اور تعمیری جدوجہد۔ اگر یہ سب کم زور پڑ جائیں تو سمجھنا چاہیے کہ مدعا کی سعی بھی کم زور ہو گئی ہے۔

امتِ محمدیہ کا مدعا اگر واقعی حفظ و نشرِ توحید ہے تو اس کے اندر ہر میدان میں ایک زندہ حرکت پیدا ہونی چاہیے۔ اگر یہ حرارت نہیں، تو محاسبہ ضروری ہے کہ ہماری رگوں میں مدعا کتنا باقی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ بظاہر مصروف ہیں مگر اندر سے تھکے ہوئے ہیں۔ کام ہے مگر ذوق کم، دوڑ ہے مگر معنی کم، سرگرمی ہے مگر مقصد کم۔ اقبال کا شعر بتاتا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ تم کتنے مصروف ہو، بلکہ یہ ہے کہ تمہاری سعی کس مدعا کے لیے ہے۔ اگر مطلوب بلند اور سچا ہو تو تھکن بھی ایک نئی حرارت پیدا کرتی ہے۔

یہ شعر ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی نبض پر ہاتھ رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ رگوں میں زندگی کی تیزی واپس آئے تو ہمیں اپنے مدعا کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا۔ مقصد کے بغیر خون چلتا ہے، مگر حیات کے شعلے کم زور پڑ جاتے ہیں۔ اقبال انہی شعلوں کو جگانا چاہتے ہیں۔

مثال

جیسے کسی نوجوان کے چہرے پر اس وقت الگ رونق آتی ہے جب وہ اپنے محبوب کام یا خواب کے لیے محنت کر رہا ہو، ویسے ہی سچا مدعا زندگی کی رگوں میں حرارت بڑھا دیتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک زندگی کی اصل تیزی اس سعی سے پیدا ہوتی ہے جو انسان کو اپنے مدعا کے حصول کے لیے آمادہ رکھتی ہے۔ مقصد ہی وہ قوت ہے جو حیات کی نبض کو گرم اور بیدار رکھتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button