رموز بے خودی

نسخه ی اسرار تکوین حیات

نسخه ی اسرار تکوین حیات

بی ثبات از قوتش گیرد ثبات

ترجمہ

یہ زندگی کی تشکیل کے بھیدوں کا نسخہ ہے، اور بے ثبات اسی کی قوت سے ثبات پاتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال قرآنِ حکیم کی ایک اور صفت بیان کرتے ہیں۔ وہ اسے “نسخه ی اسرار تکوین حیات” کہتے ہیں، یعنی ایسی جامع رہنمائی جس میں زندگی کیسے بنتی ہے، کیسے سنورتی ہے، کیسے بگڑتی ہے، اور کیسے اپنے اصل مقصد تک پہنچتی ہے، اس کے راز مضمر ہیں۔ یہ صرف عبادت کی کتاب نہیں، صرف تاریخ کی کتاب نہیں، صرف قانون کی کتاب نہیں، بلکہ حیات کی تشکیل کا ربانی نسخہ ہے۔ پھر اقبال کہتے ہیں کہ “بی ثبات” بھی اس کی قوت سے ثبات پاتا ہے، یعنی جس زندگی میں بے ربطی، اضطراب، کمزوری اور ڈگمگاہٹ ہو، قرآن اسے مرکز، استحکام اور سمت عطا کرتا ہے۔ شعر کے مطابق:

نسخہ کا استعارہ:

نسخہ عام طور پر علاج، اصلاح اور ترتیب کے لیے ہوتا ہے۔ اقبال قرآن کو نسخہ کہتے ہیں تو اس میں یہ مفہوم آتا ہے کہ انسان اور ملت کی بیماریاں محض خارجی تدبیروں سے نہیں سنورتیں؛ انہیں ایسی وحیانی رہنمائی چاہیے جو مرض کی اصل کو پہچانے۔ قرآن حیات کے لیے اسی طرح کا نسخہ ہے: وہ انسان کے فکر، اخلاق، خواہش، تعلق، معاشرہ اور مقصد سب کو ترتیب دیتا ہے۔

یہ نسخہ سطحی نہیں بلکہ اسرارِ تکوین سے متعلق ہے، یعنی زندگی کے گہرے قوانین، اس کی باطنی ساخت اور اس کے صحیح نشوونما کے اصول اس میں موجود ہیں۔

اسرارِ تکوینِ حیات:

تکوینِ حیات کا مطلب زندگی کا بننا، نشوونما پانا اور اپنی صحیح ہیئت اختیار کرنا ہے۔ اقبال کے نزدیک قرآن انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ زندگی محض جسمانی بقا یا معاشی ترقی کا نام نہیں۔ حقیقی حیات ایمان، ذمہ داری، عدل، مقصد، قربانی، تعلق باللہ اور صالح اجتماع سے مل کر بنتی ہے۔

جو قومیں صرف مادہ سنبھال لیں مگر حیات کا باطن کھو دیں، وہ باہر سے مضبوط ہو کر بھی اندر سے کمزور رہتی ہیں۔ قرآن اسی باطن کو ترتیب دینے آتا ہے۔

بی ثبات کا ثبات پانا:

“بی ثبات” صرف ایک فرد نہیں، پوری انسانیت بھی ہو سکتی ہے، ایک معاشرہ بھی، ایک تہذیب بھی، اور خود مسلمان بھی جب وہ اپنے آئین سے دور ہو جائیں۔ بے ثباتی کا مطلب صرف سیاسی عدم استحکام نہیں، بلکہ فکری الجھن، اخلاقی بے وزنی، مقصدی کمزوری اور روحانی اضطراب بھی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ایسی بے ثباتی قرآن کی قوت سے ثبات پاتی ہے۔

یہ ثبات جمود نہیں بلکہ ایسا قائم رہنا ہے جس میں انسان اپنی اصل پہچان لے، صحیح و غلط میں فرق کرسکے، اور بدلتے حالات میں بھی اپنا مرکز نہ کھوئے۔

قرآن کی قوت:

یہاں قوت سے مراد محض جذباتی اثر نہیں بلکہ وہ حقیقی توانائی ہے جو ضمیر کو بیدار، عقل کو روشن، ارادے کو مضبوط اور اجتماع کو مربوط کرتی ہے۔ قرآن کی قوت انسان کو اندر سے کھڑا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے غلاموں کو رہبر، منتشر قبائل کو امت، اور بے سمت زندگیوں کو ایک صاحبِ مقصد تہذیب میں بدلا۔

اقبال کے نزدیک یہی قوت آج بھی موجود ہے، شرط یہ ہے کہ امت قرآن کو زندہ نسخہ سمجھ کر اس سے اپنا علاج چاہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کی دنیا اضطراب، سرعت، فکری انتشار اور شناختی بحران سے بھری ہوئی ہے۔ مسلمان بھی اس بے ثباتی سے محفوظ نہیں۔ ایسے میں اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وقتی نسخے، درآمد شدہ نظریات اور ظاہری اصلاحات کافی نہیں ہوں گی۔ اگر زندگی کے اسرار کی اصل ترتیب چاہیے تو قرآن کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔

جب فرد اور ملت قرآن سے اپنی نسبت تازہ کریں گے تو ان کی بے ثباتی میں بھی ایک مرکز، ایک وقار اور ایک پائیدار سمت پیدا ہوگی۔

مثال

جیسے ایک پیچیدہ مشین کے لیے سطحی اندازے نہیں بلکہ اصل بنانے والے کی ہدایت درکار ہوتی ہے، ویسے ہی انسانی حیات کے لیے بھی اصل ربانی نسخہ چاہیے، اور اقبال کے نزدیک وہ قرآن ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں قرآن کو زندگی کی تشکیل کے رازوں کا نسخہ قرار دیتے ہیں۔ اس کی قوت بے ثبات انسان اور بے سمت ملت کو ثبات، مرکزیت اور صحیح تعمیر کی راہ دکھاتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button