رموز بے خودی

از رسالت هم نوا گشتیم ما

از رسالت هم نوا گشتیم ما

هم نفس هم مدعا گشتیم ما

ترجمہ

رسالت ہی سے ہم ایک آواز ہوئے، ایک سانس والے ہوئے، اور ایک ہی مقصد کے طالب بن گئے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں امت کی وحدت کے تین بنیادی رخ جمع کرتے ہیں: آواز کی وحدت، زندگی کی وحدت، اور مقصد کی وحدت۔ ان کے نزدیک رسالت نے مختلف افراد، قبیلوں اور خطوں کو صرف ایک قانون کے تابع نہیں کیا، بلکہ ان کے اندر ہم آہنگی، مشترک سانس اور مشترک طلب پیدا کی۔ شعر کے مطابق:

ہم نوا ہونے کا معنی:

ہم نوا ہونا محض ایک جیسے الفاظ دہرانا نہیں، بلکہ ایک ایسی باطنی ہم آہنگی پیدا ہونا ہے جس میں مختلف لوگ ایک ہی سچائی کا آہنگ اختیار کر لیں۔ رسالت نے امت کو یہ آہنگ دیا۔ عقیدہ، ذکر، قبلہ، دعا، اخلاقی ترجیحات اور خیر و شر کے پیمانے سب ایک مشترک نغمے میں بندھ گئے۔

جب کسی جماعت کے اندر یہ آہنگ پیدا ہو جائے تو اس کی کثرت بوجھ نہیں رہتی، بلکہ حسنِ ترکیب بن جاتی ہے۔

ہم نفس ہونا:

ہم نفس ہونے میں ایک اور گہری بات ہے: گویا امت صرف ایک ساتھ بولتی ہی نہیں بلکہ ایک ساتھ سانس بھی لیتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی زندگی کے بنیادی محرکات مشترک ہیں۔ اس کے درد مشترک ہیں، اس کی امیدیں جڑی ہوئی ہیں، اس کے خوف اور اس کے ایمان کا مرکز ایک ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی مشترک نفَس ملت کو محض تنظیم نہیں رہنے دیتا بلکہ زندہ جسم بنا دیتا ہے۔

ہم مدعا کیوں:

مدعا یعنی مطلوب، مقصد اور نصب العین۔ اگر جماعت کی آواز ایک ہو مگر مقاصد مختلف ہوں تو وحدت پائیدار نہیں رہتی۔ رسالت کی اصل تاثیر یہ ہے کہ وہ امت کو ایک بڑے مقصد سے باندھتی ہے: توحید، عدل، رحمت، ہدایت اور خدا کی رضا۔ یہی مشترک مدعا افراد کو اپنے چھوٹے مفادات سے اٹھا کر بڑی غرض سے جوڑتا ہے۔

اس لیے شاعر ہم نوا اور ہم نفس کے بعد ہم مدعا کو لاتے ہیں، کیونکہ مقصد کے بغیر آہنگ جلد ٹوٹ سکتا ہے۔

رسالت کی وحدت سازی:

یہ شعر بتاتا ہے کہ رسالت وحدت کو محض بیرونی نظم سے نہیں بناتی، بلکہ دلوں اور مقاصد میں جا کر بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوی امت صرف ایک سیاسی بندوبست نہیں، ایک معنوی برادری ہے۔ جب دل ایک رخ پکڑیں، زبانیں ایک سچ کے تابع ہوں، اور منزل ایک ہو تو ملت کا وجود مضبوط ہوتا ہے۔

گویا رسالت وحدت کی تہذیبی اور روحانی انجینئر ہے۔

آج کا سبق:

آج امت کے اندر بہت سی آوازیں ہیں، مگر آہنگ کم ہے؛ بہت سے سانس لینے والے جسم ہیں، مگر مشترک نبض کمزور ہے؛ بہت سے دعوے ہیں، مگر مشترک مدعا دھندلا جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس بکھراؤ کا علاج پھر وہی ہے: رسالت کی طرف واپسی۔ جب نبوی مرکز زندہ ہوگا تو آواز بھی ہم آہنگ ہوگی، سانس بھی مشترک ہوگی، اور مقصد بھی واضح ہوگا۔

امت کی وحدت صرف جلسوں سے نہیں، مشترک نبوی روح سے بنتی ہے۔

مثال

ایک آرکسٹرا میں بہت سے ساز ہوتے ہیں، مگر اگر ہر ساز اپنی الگ دھن بجائے تو شور پیدا ہوتا ہے۔ جب سب ایک ہی راگ، ایک ہی رہنمائی اور ایک ہی رفتار پر آ جائیں تو موسیقی پیدا ہوتی ہے۔ امت کی ہم نوائی بھی ایسی ہی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق رسالت نے امت کو ایک آواز، ایک سانس اور ایک مقصد دیا۔ نبوی مرکز ہی وہ قوت ہے جو بکھری ہوئی کثرت کو زندہ ہم آہنگی میں بدلتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button