نوع انسان را پیام آخرین
نوع انسان را پیام آخرین
حامل او رحمة للعالمین
ترجمہ
یہ پوری نوعِ انسان کے لیے آخری پیغام ہے، اور اس پیغام کے حامل وہ ہیں جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال قرآنِ حکیم کی آفاقیت اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عالم گیر رحمت دونوں کو ایک ہی کڑی میں باندھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن محض کسی قبیلے، علاقے، قوم یا محدود تاریخی مرحلے کا پیغام نہیں، بلکہ “نوع انسان” کے لیے “پیام آخرین” ہے۔ یعنی انسانیت کی فکری، اخلاقی اور روحانی رہنمائی کے سلسلے میں اس کی حیثیت آخری، جامع اور کامل پیغام کی ہے۔ پھر اقبال اس حقیقت کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب سے جوڑتے ہیں: چونکہ اس آخری پیغام کے حامل “رحمة للعالمین” ہیں، اس لیے قرآن کا پیغام بھی تنگ دائرے، تعصب یا نسلی محدودیت سے بالا تر ہے۔ شعر کے مطابق:
نوعِ انسان سے خطاب:
اقبال کے ہاں اسلام کا افق ہمیشہ وسیع ہے۔ “نوع انسان” کہنا اس بات کی نفی کرتا ہے کہ قرآن کسی ایک نسلی گروہ یا مذہبی اشرافیہ کی جاگیر ہے۔ اس کا خطاب انسان سے ہے، کیونکہ اس کے پیش کیے گئے سوال بھی انسانی ہیں: میں کون ہوں؟ مجھے کیسے جینا ہے؟ خیر کیا ہے؟ عدل کیا ہے؟ بندگی کیا ہے؟ اور اجتماع کی صحیح بنیاد کیا ہے؟
یہی وجہ ہے کہ قرآن انسان کی فطرت سے بات کرتا ہے۔ وہ انسان کو اس کے رب، اس کے نفس، اس کی تاریخ اور اس کے انجام سب سے روشناس کراتا ہے۔
پیامِ آخرین:
“آخرین” کا مطلب محض زمانی آخریت نہیں، بلکہ جامعیت اور تکمیل بھی ہے۔ قرآن کے آخری پیغام ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ وحی کی وہ بنیادیں، اصول اور ہدایتیں جو انسان کے لیے لازم تھیں، اب کمال کے ساتھ اس میں جمع کر دی گئی ہیں۔ اس کے بعد انسان کو ہدایت کے لیے کسی نئی بنیادی شریعت یا نئے آسمانی مرکز کی ضرورت نہیں۔
اقبال کے نزدیک یہ آخریت امت کے لیے آرام طلبی کا بہانہ نہیں، بلکہ ذمہ داری کا اعلان ہے۔ اب اس پیغام کو سمجھنا، جینا اور انسانیت تک پہنچانا اسی امت کے حصے میں آیا ہے۔
حاملِ پیغام:
اقبال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو محض پیغام پہنچانے والے کی حیثیت سے نہیں، بلکہ پیغام کی مجسم تفسیر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ “حامل او” میں یہ معنی بھی شامل ہے کہ جس ہستی نے اس وحی کو اٹھایا، انہوں نے اسے زندگی، کردار، عدل، رحمت، قیادت، عبادت، جہاد اور معاشرت سب میں مجسم کر دیا۔
اس لیے قرآن کو رسول سے الگ کر کے سمجھنا اور رسول کو قرآن کے بغیر دیکھنا دونوں ادھوری نگاہیں ہیں۔ اقبال کے نزدیک پیغام اور حامل ایک دوسرے کے نور کو مکمل کرتے ہیں۔
رحمة للعالمین:
یہ لقب اس پیغام کی روح کو واضح کرتا ہے۔ اگر حاملِ وحی رحمت للعالمین ہیں تو قرآن کا مقصد بھی انسانیت کو جکڑنا نہیں بلکہ اس کی نجات، اصلاح، بلندی اور خیر خواہی ہے۔ یہ رحمت صرف نرمی کا نام نہیں، بلکہ ایسی ہدایت کا نام ہے جو انسان کو ہلاکت سے بچائے، عدل قائم کرے، باطل توڑے، اور دلوں کو اپنے رب سے جوڑ دے۔
اسی لیے اسلام کی آفاقیت کوئی سرد قانونی دعویٰ نہیں، بلکہ رحمت پر مبنی آفاقیت ہے۔ یہ انسانیت پر تسلط کا منصوبہ نہیں، اس کی بھلائی کا الٰہی انتظام ہے۔
امت کے لیے معنی:
اگر قرآن واقعی نوعِ انسان کے لیے آخری پیغام ہے تو امت کو اپنے اندر تنگ نظری، فرقہ پرستی، لسانی غرور اور جغرافیائی خود پرستی کو کم کرنا ہوگا۔ جس پیغام کا افق عالمگیر ہو، اس کی حامل امت کا ظرف بھی بڑا ہونا چاہیے۔ اسے انسانیت کی سطح پر سوچنا، دکھ محسوس کرنا، عدل کا معیار قائم کرنا اور رحمت کی گواہی دینا سیکھنا ہوگا۔
اقبال امت کو صرف اپنی بقا کے لیے نہیں جگاتے، بلکہ اسے انسانیت کی خدمت کے بڑے مشن کے لیے بیدار کرنا چاہتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا میں بہت سے نظریات انسانیت کے نام پر سامنے آتے ہیں مگر یا تو انسان کو مادہ تک محدود کر دیتے ہیں یا اسے اخلاقی مرکز سے کاٹ دیتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کے لیے آخری اور کامل خیر اسی پیغام میں ہے جو رحمت للعالمین کے ذریعے آیا۔
امت اگر اپنے مشن کو دوبارہ سمجھ لے تو وہ محض ایک زخمی گروہ نہیں رہے گی، بلکہ دوبارہ انسانیت کے لیے ہدایت، عدل اور رحمت کی گواہ بن سکتی ہے۔
مثال
جیسے سورج ایک شہر کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے طلوع ہوتا ہے، ویسے ہی قرآن کا پیغام بھی کسی ایک قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ قرآن نوعِ انسان کے لیے آخری اور جامع پیغام ہے، اور اس کے حامل رحمت للعالمین ہیں۔ اس لیے اسلام کی آفاقیت رحمت، ہدایت اور عالم گیر ذمہ داری پر قائم ہے۔