در میان انجمن گردد بلند
در میان انجمن گردد بلند
ناله های این گدای دردمند
ترجمہ
اس انجمن کے درمیان اس دردمند گدا کی آہ و فریاد بلند ہوگی۔
تشریح
یہ شعر اس پورے واقعے کے اصل اخلاقی مرکز کو اچانک بہت نمایاں کر دیتا ہے۔ والد کہتے ہیں کہ اس عظیم انجمن کے درمیان اس دردمند گدا کی نالہ ہائے درد بلند ہوں گی۔ یعنی وہ فقیر، جسے دنیا میں شاید کوئی اہمیت نہ دی گئی ہو، آخرت کے اس بڑے منظر میں خاموش نہ رہے گا۔ اس کی آہ سنی جائے گی، اور اس کی فریاد ایسے مقام میں بلند ہوگی جہاں شہدا، زاہد، عاشق، علما اور نادم لوگ بھی موجود ہوں گے۔ اقبال کا یہ نکتہ نہایت زبردست ہے: کمزور انسان کی فریاد خدا اور رسول کے دربار میں بے وزن نہیں ہوتی۔
یہاں “گدای دردمند” صرف ایک شخص نہیں، ہر وہ کمزور ہے جسے کسی طاقت ور مزاج نے زخمی کیا ہو۔ دنیا میں اس کے پاس نہ دلیل ہوتی ہے، نہ طاقت، نہ مقام، مگر آخرتی انصاف کے منظر میں اس کا درد ایک بلند آواز بن جاتا ہے۔ اس لیے باپ بیٹے کو متنبہ کر رہا ہے کہ تم نے جسے معمولی سمجھا، وہ دراصل تمہارے لیے بہت بڑا اخلاقی امتحان تھا۔ اور اگر وہ امتحان خراب ہوا تو اس کی گواہی بھی معمولی نہ ہوگی۔
کمزور کی آواز کی بلندی:
دنیا کی مجالس میں عام طور پر طاقت ور کی آواز زیادہ اونچی سنائی دیتی ہے، مگر آخرت کی انجمن میں پیمانہ بدل جاتا ہے۔ وہاں آہ، ظلم کی چوٹ، اور مظلوم کا درد خود ایک حجت بن جاتے ہیں۔ اقبال اس شعر کے ذریعے یہ دکھا رہے ہیں کہ اسلامی اخلاقیات کی بنیاد ہی اس احساس پر ہے کہ تمہارا سلوک کمزور کے ساتھ ایک دن گواہی بن کر تمہارے سامنے کھڑا ہوگا۔
اسی لیے نبی کریم کی سیرت میں کمزوروں، یتیموں، بیواؤں، غلاموں اور سائلوں کی عزت پر اتنا زور ملتا ہے۔ جو شخص ان کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے وہ صرف سماجی غلطی نہیں کرتا، وہ رحمتِ نبوی کے مزاج کے خلاف جاتا ہے۔
نالہ بطور شہادت:
“ناله های” کا لفظ جمع میں ہے۔ گویا ایک انسان کا دکھ ایک ہی واقعہ تک محدود نہیں رہتا، وہ کئی آہوں میں، کئی اثرات میں، کئی زخمی لمحوں میں پھیل جاتا ہے۔ ایک بے رحم رویہ شاید ہمارے خیال میں ایک لمحے کی بات ہو، مگر مظلوم کے لیے وہ دیر تک جیتا رہتا ہے۔ اقبال کی حساسیت اسی حقیقت کو پکڑتی ہے کہ ظلم کی بازگشت خاموش نہیں رہتی۔
والد کا درد اس لیے بھی گہرا ہے کہ وہ جانتا ہے: اگر اس گدا کی آہ اس عظیم انجمن میں بلند ہوئی تو پھر محض دنیاوی معذرت کافی نہ ہوگی۔ اس لیے ابھی سے مزاج کی اصلاح ضروری ہے۔
حسنِ سیرت کا پیمانہ:
یہ شعر واضح کرتا ہے کہ حسنِ سیرت کا اصل امتحان اس بات سے ہوتا ہے کہ ہم کمزور کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ ہم طاقت ور کے ساتھ تو آداب دکھا ہی دیتے ہیں، کیونکہ وہاں ہمارا مفاد یا خوف موجود ہوتا ہے۔ مگر جہاں دوسرا شخص بے سہارا ہو، وہاں ہمارا اصل باطن ظاہر ہوتا ہے۔ اگر وہاں رحمت، عدل اور احترام باقی رہیں تو سمجھو سیرت میں کچھ حسن پیدا ہوا ہے۔ اگر وہاں سختی اور تحقیر نکل آئے تو سارا دعویٰ مشکوک ہو جاتا ہے۔
اقبال اسی لیے ایک فقیر کی نالہ کو شہیدوں اور علما کی مجلس میں لے آتے ہیں۔ تاکہ معلوم ہو کہ نبوی اخلاقیات میں کمزور کے حق کی اہمیت کتنی مرکزی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی ہماری زبان، اختیار، سماجی رتبہ یا علمی غرور ایسے بہت سے “گدایانِ دردمند” پیدا کر سکتے ہیں جن کی آہیں ہم سن نہیں پاتے۔ کوئی گھریلو ملازم، کوئی فقیر، کوئی کمزور طالب علم، کوئی محتاج رشتہ دار، یا کوئی ایسا شخص جو جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان کی فریاد ایک بڑے انصاف کے میدان میں بلند ہو تو ہم اپنے بارے میں کیا سننا چاہیں گے؟
یہ شعر ہمیں اپنی روزمرہ اخلاقیات کو آخرتی سنجیدگی کے ساتھ دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ کسی کمزور کے دل سے اٹھنے والی آہ چھوٹی چیز نہیں۔ یہی آہ ہمارا اصل تعارف بھی بن سکتی ہے اور اصل رسوائی بھی۔
مثال
جیسے خاموش وادی میں ایک ہلکی سی صدا بھی دور تک گونجتی ہے، ویسے ہی مظلوم کی آہ ایسے مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں طاقت کی چیخ بھی بے اثر ہو سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ کمزور کی فریاد آخرت کے بڑے منظر میں خاموش نہیں رہتی۔ اسی لیے حسنِ سیرت کی اصل آزمائش کمزور انسان کے ساتھ رحمت اور ادب کے سلوک میں ہے۔