«کل مؤمن اخوة» اندر دلش
«کل مؤمن اخوة» اندر دلش
حریت سرمایه آب و گلش
ترجمہ
اس کے دل میں “ہر مومن بھائی ہے” کا راز زندہ ہے، اور آزادی اس کے آب و گل کا سرمایہ ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں اخوت اور حریت کو ایک ہی باطنی ساخت کے دو رخ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک امتِ محمدیہ کے دل میں مومنوں کی باہمی برادری کا شعور زندہ ہے، اور اسی امت کی مٹی اور مزاج میں آزادی سرمائے کی طرح شامل ہے۔ شعر کے مطابق:
کل مؤمن اخوة کا شعور:
یہ اخوت محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ دل کے اندر زندہ حقیقت ہے۔ “اندر دلش” کہہ کر اقبال بتاتے ہیں کہ امت کی برادری صرف معاہدہ یا رسمی تعلق نہیں، بلکہ ایک باطنی احساس ہے کہ مومن دوسرے مومن سے جڑا ہوا ہے۔ جب یہ شعور زندہ ہو تو حسد، نسلی تکبر، طبقاتی غرور اور باہمی استحصال کم ہونے لگتے ہیں۔
اخوت کا اصل گھر قانون سے پہلے دل ہے۔
حریت بطور سرمایہ:
سرمایہ وہ چیز ہوتی ہے جس سے باقی عمارتیں، حرکتیں اور منافع پیدا ہوتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس امت کی مٹی میں آزادی ہی سرمایہ ہے۔ یعنی آزادی اس کے مزاج کی خارجی چیز نہیں، اس کے وجود کی بنیادی ساخت ہے۔ یہ آزادی خدا کے سوا کسی کے آگے نہ جھکنے، ظلم کو قبول نہ کرنے، اور باطل امتیازات کے سامنے نہ بکنے میں ظاہر ہوتی ہے۔
اسی لیے اخوت بھی حقیقی رہتی ہے، کیونکہ غلام دل بھائی چارہ پوری سچائی سے نبھا نہیں سکتے۔
اخوت اور آزادی کا ربط:
اگر لوگ ایک دوسرے کے بھائی ہوں مگر باطنی آزادی نہ ہو، تو اخوت کمزور یا مصلحتی بن سکتی ہے۔ اور اگر آزادی ہو مگر اخوت نہ ہو، تو انفرادیت خود غرضی میں بدل سکتی ہے۔ اقبال کے نزدیک محمدی امت کی خوبی یہ ہے کہ اس کے دل میں اخوت اور اس کی فطرت میں حریت ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔
یہی توازن اسے نہ تو غلام جماعت بننے دیتا ہے اور نہ منتشر ہجوم۔
آب و گل کی تعبیر:
آب و گل انسانی تخلیق اور مزاج کی علامت ہے۔ حریت اگر آب و گل کا سرمایہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کی اصل تشکیل ہی آزاد بندگی پر ہوئی ہے۔ وہ آزادی بعد میں سیکھی ہوئی اضافی چیز نہیں، بلکہ رسالت نے اسے اس کے وجود میں پیوست کر دیا ہے۔
گویا اخوت دل کی شمع ہے اور حریت اس کے وجود کی مٹی میں ملی ہوئی حرارت۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے اندر نہ اخوت پوری طرح سلامت ہے نہ حریت پوری طرح زندہ۔ کہیں بھائی چارہ نسلی حدود میں ٹوٹ جاتا ہے، کہیں آزادی محض سیاسی نعرہ رہ جاتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ محمدی امت کے لیے دونوں کو ساتھ زندہ رکھنا ضروری ہے: دل میں اخوت، سرشت میں حریت۔
اگر یہ دونوں پھر جمع ہو جائیں تو امت کی شخصیت دوبارہ پہچانی جا سکتی ہے۔
مثال
ایک سچی ٹیم تب بنتی ہے جب اس کے افراد ایک دوسرے کو صرف ساتھی نہیں، اپنا سمجھیں، اور ساتھ ہی ہر ایک کو باوقار آزادی بھی میسر ہو۔ جب دونوں چیزیں جمع ہوں تبھی باہمی قوت پیدا ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امتِ محمدیہ کے دل میں اخوت زندہ ہے اور اس کی فطرت میں حریت سرمایہ کی طرح شامل ہے۔ یہی دونوں صفات مل کر اس کی حقیقی اجتماعی شخصیت بناتی ہیں۔