باز سوی حق رمید آن ناصبور
باز سوی حق رمید آن ناصبور
بود معراجش نماز با حضور
ترجمہ
وہ بے تاب دل پھر حق کی طرف لوٹ گیا، کیونکہ اس کی معراج حضورِ قلب کے ساتھ ادا کی جانے والی نماز تھی۔
تشریح
حکایت کے اس مقام پر علامہ اقبال پورے واقعے کا اصل سرچشمہ واضح کرتے ہیں۔ عالمگیر کی بہادری، حاضر جوابی اور عدمِ اندیشہ کسی خود ساختہ نفسیاتی قوت کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس نسبت سے پیدا ہوئی تھی جو اسے نمازِ باحضور کے ذریعے حق کے ساتھ حاصل تھی۔ شعر کے مطابق:
بازگشت الی الحق:
“باز سوی حق رمید” میں ایک خوب صورت حرکت ہے۔ گویا اس کا دل اصل میں ہمیشہ حق ہی کی طرف بھاگتا تھا، اور خطرے کے بعد بھی اسی طرف پلٹتا تھا۔ یہاں “ناصبور” کا لفظ بھی لطیف ہے: وہ دنیاوی بے صبری نہیں، بلکہ حق کی طرف بے قراری کی علامت ہے۔ ایسا دل خطرے کے بعد بھی سکون کو اللہ کے قرب میں تلاش کرتا ہے، نہ کہ محض اپنی کامیابی میں۔
یعنی واقعے کے بعد اس کا مرکز پھر وہی ہے جو پہلے تھا: حق۔
نماز بطور معراج:
اقبال کے نزدیک نماز مردِ مومن کی معراج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز انسان کو وقتی طور پر زمین کے اندیشوں، منصب کے غرور اور نفس کے شور سے اٹھا کر رب کے حضور لے جاتی ہے۔ وہاں سے اسے ایک ایسا توازن، نور اور یقین ملتا ہے جس سے وہ زندگی کے میدان میں مختلف انداز سے واپس آتا ہے۔
یہ شعر صاف بتاتا ہے کہ عالمگیر کی اصل توانائی اس نماز سے تھی جو صرف جسمانی ادائیگی نہ تھی بلکہ حضورِ قلب کے ساتھ ایک حقیقی ملاقات تھی۔
حضور کی اہمیت:
صرف نماز کی ظاہری صورت کافی نہیں، اقبال “نماز با حضور” کہتے ہیں۔ حضور کا مطلب دل کی موجودگی، ہوش، توجہ اور باطنی حاضری ہے۔ جب آدمی نماز میں حاضر ہو جاتا ہے تو اس کا دل پراکندگی سے نکلتا ہے، خوف کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے، اور دنیاوی پردوں کے پیچھے اصل حقیقت کی جھلک ملتی ہے۔
ایسی نماز انسان کے باطن کو نئی ساخت دیتی ہے، اور اسی باطن سے بعد کے اعمال کی جہت متعین ہوتی ہے۔
کامیابی کے بعد بھی مرکز بدلتا نہیں:
اہم نکتہ یہ ہے کہ شیر کو مارنے کے بعد بھی عالمگیر خودنمائی، فخر یا نفسانی سرور میں نہیں جاتا۔ وہ پھر حق کی طرف لوٹتا ہے۔ یہی اس کے باطن کی سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اگر وہ محض جنگجو ہوتا تو واقعے کا مرکز اپنی طاقت کو بناتا؛ مگر چونکہ اس کی معراج نماز ہے، اس لیے اس کی واپسی بھی اسی جانب ہے۔
اقبال یہیں مردِ مومن اور محض دلیر انسان کے درمیان اصل فرق قائم کرتے ہیں۔
ہمارے لیے دعوت:
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ ہماری قوت کا اصل منبع کیا ہونا چاہیے۔ اگر ہم اپنے سکون، جرات اور توازن کو محض نفس، تجربے یا دنیاوی کامیابی سے جوڑیں گے تو وہ کمزور بنیاد ہوگی۔ اصل استقامت تب آتی ہے جب دل نمازِ باحضور کے ذریعے بار بار حق کے ساتھ جڑتا رہے۔
اقبال کا پیغام نہایت سادہ اور گہرا ہے: جو حق کی طرف پلٹنا سیکھ لے، وہ خطرے کے بعد بھی بکھرتا نہیں۔
مثال
بعض لوگ بڑے بحران کے بعد فوراً اپنی کامیابی یا تدبیر کا چرچا کرنے لگتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ خاموشی سے شکر، دعا اور سجدے کی طرف جاتے ہیں۔ یہی فرق بتاتا ہے کہ ان کی اصل قوت کہاں سے آتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق مردِ مومن کی اصل طاقت اس نمازِ باحضور سے پیدا ہوتی ہے جو اسے حق کے قریب لاتی ہے۔ اسی نسبت کی وجہ سے وہ خطرے میں بھی قائم رہتا ہے اور کامیابی کے بعد بھی حق ہی کی طرف پلٹتا ہے۔