رموز بے خودی

ہر چہ از خود می دمد بردارَدش

ہر چہ از خود می دمد بردارَدش

ہر چہ از بالا فتد بردارَدش

ترجمہ

جو کچھ اس کے اپنے اندر سے پھوٹتا ہے وہ اسے اٹھا لیتا ہے، اور جو کچھ اوپر سے گرتا ہے وہ بھی اٹھا لیتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خام فرد کی بے عملی اور محض حاصل شدہ چیزوں پر گزارا کرنے کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

اپنے اندر سے پھوٹنے والی چیز:

اقبال کہتے ہیں کہ یہ فرد جو کچھ اس کے اپنے اندر سے پیدا ہوتا ہے، اسے قبول کر لیتا ہے۔ یعنی وہ اپنی محدود صلاحیتوں اور فطری وسائل پر گزارا کرتا ہے۔

وہ ان چیزوں کو نکھارنے یا بڑھانے کی خاص کوشش نہیں کرتا، بلکہ جو کچھ خود بخود میسر آ جائے اسی پر اکتفا کر لیتا ہے۔

اوپر سے گرنے والی چیز:

شاعر کہتے ہیں کہ جو کچھ اوپر سے گرتا ہے، وہ بھی اسے اٹھا لیتا ہے۔ یعنی وہ باہر سے ملنے والی چیزوں اور سہاروں پر بھی انحصار کرتا ہے۔

یہ کیفیت اس کی محنت اور جدوجہد سے دوری اور محض حاصل شدہ چیزوں پر گزارا کرنے کی عادت کو ظاہر کرتی ہے۔

بے عملی اور انحصار:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ خام فرد میں تخلیق اور جدوجہد کا جذبہ کم ہوتا ہے، اور وہ محض موجود وسائل پر انحصار کرتا ہے۔

تخلیقی جذبے کی کمی:

اس کیفیت کا علاج یہ ہے کہ فرد کے اندر تخلیق، محنت اور کوشش کا جذبہ بیدار کیا جائے، تاکہ وہ محض وصول کنندہ نہ رہے بلکہ خالق اور معمار بنے۔

مثال

جیسے ایک شخص محض درخت سے خود گرنے والے پھل پر گزارا کرے اور خود محنت کر کے کچھ نہ اگائے، ویسے ہی خام فرد محض حاصل شدہ چیزوں پر اکتفا کرتا ہے اور تخلیق سے دور رہتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خام فرد محنت اور تخلیق کے بجائے محض حاصل شدہ چیزوں پر گزارا کرتا ہے، اور اسے تخلیقی جدوجہد کے جذبے کی ضرورت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button