نقش پایش خاک را بینا کند
نقش پایش خاک را بینا کند
ذرہ را چشمک زن سینا کند
ترجمہ
اس (رہنما) کے نقشِ قدم مٹی کو بینا (دیکھنے والا) بنا دیتے ہیں، اور ایک ذرے کو چمکتا ہوا کوہِ سینا بنا دیتے ہیں۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما کے نقشِ قدم کی برکت کو بیان کرتے ہیں جو بے حیثیت وجود کو بھی بصیرت اور نور عطا کر دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:
مٹی کو بینا بنانا:
اقبال کہتے ہیں کہ رہنما کے نقشِ قدم مٹی کو بھی بینا اور دیکھنے والا بنا دیتے ہیں۔ یعنی اس کی رہنمائی سے بے شعور اور غافل انسان بھی بصیرت اور شعور پا لیتے ہیں۔
جہاں پہلے اندھیرا اور غفلت تھی، وہاں اس کے فیض سے آگاہی اور بصیرت کی روشنی پھیل جاتی ہے۔
ذرے کو کوہِ سینا بنانا:
شاعر کہتے ہیں کہ وہ ایک معمولی ذرے کو بھی چمکتا ہوا کوہِ سینا بنا دیتا ہے۔ کوہِ سینا وہ مقام ہے جہاں تجلیِ الٰہی ظاہر ہوئی، اور یہاں یہ نور اور عظمت کی علامت ہے۔
یعنی رہنما کی رہنمائی سے ایک بے حیثیت فرد بھی نور، عظمت اور بلندی کا مقام پا لیتا ہے۔
بے حیثیت کو عظمت بخشنا:
اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ کامل رہنما کے فیض سے معمولی اور بے حیثیت وجود بھی نور اور بصیرت کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔
فیضِ رہنمائی:
یہی فیض اور یہی برکت ہے جو ایک غافل اور بے شعور قوم کو بیدار، باشعور اور باعظمت بنا دیتی ہے۔
مثال
جیسے سورج کی کرن پا کر ایک معمولی شبنم کا قطرہ بھی موتی کی طرح چمک اٹھتا ہے، ویسے ہی رہنما کے فیض سے ایک بے حیثیت فرد بھی نور اور بصیرت پا لیتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما کے نقشِ قدم کی برکت بے شعور کو بصیرت اور بے حیثیت کو نور و عظمت عطا کر دیتی ہے۔


