رموز بے خودی

چون مقام عبدہ محکم شود

چون مقام عبدہ محکم شود

کاسۂ دریوزہ جام جم شود

ترجمہ

جب بندگی کا مقام مضبوط ہو جاتا ہے تو گداگری کا کاسہ بھی جامِ جم بن جاتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں بندگی کی ایسی کیمیا بیان کرتے ہیں جو محتاجی کو بینائی، کم مائیگی کو دولتِ معنی، اور ظاہری کمی کو باطنی غنا میں بدل دیتی ہے۔ “جامِ جم” فارسی روایت میں وہ جام ہے جس میں ساری دنیا کے احوال دکھائی دیتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب عبدیت پختہ ہو جائے تو فقیرانہ کاسہ بھی ایسی بصیرت اور وقار حاصل کر لیتا ہے۔ شعر کے مطابق:

مقامِ عبدہ کا استحکام:

“محکم شود” میں پوری بات کا راز ہے۔ بہت سے لوگ بندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کی عبدیت ناپختہ، وقتی یا سطحی ہوتی ہے۔ جب بندگی محکم ہوتی ہے تو انسان کا رشتہ اپنے رب سے مستقل، شعوری اور وفادارانہ بن جاتا ہے۔ پھر وہ حالات کے بدلنے سے نہیں بدلتا، تعریف و ملامت سے بےجا متاثر نہیں ہوتا، اور اپنے اصول کو سستی سے ضائع نہیں کرتا۔

محکم عبدیت دل کو ایسا استقرار دیتی ہے جو دنیا کے سہاروں سے کہیں زیادہ قوی ہوتا ہے۔

کاسۂ دریوزہ کی معنویت:

گداگری کا کاسہ بظاہر کم مائیگی اور محتاجی کی علامت ہے۔ اقبال نے اسی کو اختیار کر کے ایک بڑا الٹاؤ دکھایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر بندہ حقیقی معنی میں عبد بن جائے تو اس کی ظاہری کمی اس کے باطن کی دولت کو کم نہیں کرتی۔ بلکہ اس کا سادہ اور بےسر و سامان وجود بھی خدا کی معرفت سے ایسا بھر جاتا ہے کہ وہ دنیا داروں کے خزانے سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔

یہاں اصل اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ عزت اور بصیرت کا تعلق دولت سے نہیں، نسبتِ حق سے ہے۔

جامِ جم کا استعارہ:

جامِ جم وہ چیز ہے جسے بادشاہی بصیرت اور ہمہ گیری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اقبال اس استعارے سے بتاتے ہیں کہ سچا بندہ دنیا کو محض سطح پر نہیں دیکھتا، بلکہ اسے معاملات کے اندر کے معنی، انسانی حالت کی اصل، اور زندگی کے ربط کا شعور ملنے لگتا ہے۔ یعنی وہ فقیر ہو کر بھی بینا ہوتا ہے۔

یہ بصیرت اس کی ملکیت، مرتبے یا ظاہری شان سے نہیں بلکہ مضبوط بندگی سے پیدا ہوتی ہے۔

فقر اور غنا کا نیا معنی:

اقبال کے فکر میں حقیقی فقر بےبسی نہیں بلکہ غیر اللہ سے بےنیازی ہے۔ جب بندہ صرف اپنے رب کا محتاج ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی غلامی سے نکل آتا ہے۔ یہی آزادی اسے اندر سے غنی بناتی ہے۔ تب اس کا چھوٹا سا کاسہ بھی بادشاہوں کے جام سے بڑھ کر ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں دنیا کی طلب نہیں بلکہ معرفت کی روشنی ہوتی ہے۔

اس طرح اقبال فقر کو ذلت نہیں بلکہ روحانی رفعت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

ملت کے لیے سبق:

یہ شعر امت کے لیے بھی بڑا پیغام رکھتا ہے۔ اگر ایک قوم ظاہری اعتبار سے کمزور، وسائل میں محدود یا دنیاوی پیمانوں میں پیچھے ہو، مگر اس کی عبدیت محکم ہو، تو وہ بصیرت، وقار اور اثر میں بہت سی طاقتور قوموں سے آگے ہو سکتی ہے۔ اقبال قوم کو سکھاتے ہیں کہ اصل سرمایہ خدا کے ساتھ سچا تعلق ہے، نہ کہ صرف ظاہری اسباب۔

جب یہ تعلق مضبوط ہو تو کمی بھی قوت میں بدل سکتی ہے۔

مثال

بعض لوگ سادہ لباس اور معمولی وسائل رکھتے ہیں، مگر ان کی بات میں ایسی سچائی اور بصیرت ہوتی ہے کہ بڑے بڑے اہل دنیا بھی ان سے رہنمائی لیتے ہیں۔ یہ فرق دولت کا نہیں، اندرونی استحکام اور سچی بندگی کا ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جب بندگی پختہ ہو جاتی ہے تو ظاہری کمی باطنی دولت میں بدل جاتی ہے۔ پھر گداگری کا کاسہ بھی جامِ جم جیسی بصیرت اور وقار کا حامل بن سکتا ہے، کیونکہ اصل عزت نسبتِ حق سے پیدا ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button