شعله ی توحید را پروانه بود
شعله ی توحید را پروانه بود
چون براهیم اندرین بتخانه بود
ترجمہ
وہ توحید کے شعلے کا پروانہ تھا، اور اس بت خانے میں ابراہیم کی طرح موجود تھا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں عالمگیر کے باطن اور اس کے تاریخی ماحول دونوں کو ایک انتہائی بلیغ استعارے میں جمع کر دیتے ہیں۔ ایک طرف “شعلۂ توحید” ہے، دوسری طرف “بت خانہ”، اور ان دونوں کے درمیان ایک ایسا شخص ہے جو ابراہیم علیہ السلام کی طرح توحید کا وفادار ہے۔ شعر کے مطابق:
پروانہ ہونے کا معنی:
پروانہ شمع کے گرد صرف گھومتا نہیں، اس پر فدا بھی ہو جاتا ہے۔ اقبال جب کہتے ہیں کہ وہ شعلۂ توحید کا پروانہ تھا تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ توحید کو پسند کرتا تھا، بلکہ یہ ہے کہ اس کی پوری وابستگی، محبت اور جانثاری اسی مرکز کے گرد تھی۔ توحید اس کے لیے کوئی فلسفیانہ تصور یا رسمی عقیدہ نہیں، بلکہ زندگی کا جیتا جاگتا محور تھی۔
یہی وابستگی انسان کے فیصلوں، سیاست، عبادت اور کردار سب میں رنگ پیدا کرتی ہے۔
بت خانہ کس چیز کی علامت ہے:
یہاں “بت خانہ” سے مراد صرف مادی بتوں کی جگہ نہیں، بلکہ وہ پورا ماحول ہے جہاں باطل اقدار، خودسری، نفس پرستی، دنیا طلبی یا فکری انحراف غالب ہوں۔ اقبال کے نزدیک اگر معاشرہ یا دربار ایسے رجحانات سے بھرا ہو تو وہ ایک معنوی بت خانہ بن جاتا ہے۔
اس صورت میں توحید پر قائم رہنا آسان نہیں رہتا۔ انسان کو محض تنقید نہیں بلکہ ابراہیمی جرأت بھی درکار ہوتی ہے۔
ابراہیمی نسبت:
عالمگیر کو ابراہیم سے تشبیہ دینا بہت بڑا دعویٰ ہے، اور اقبال اسے سوچ سمجھ کر لاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتیاز یہ تھا کہ انہوں نے اپنے عہد کے غالب نظام کے درمیان کھڑے ہو کر توحید کا اعلان کیا، اور مصلحت کے بجائے حق کو ترجیح دی۔ یہاں شاعر اسی روح کو عالمگیر کے باب میں دیکھتے ہیں: ایک ایسا شخص جو اپنے عہد کے پیچیدہ ماحول میں بھی دینی مرکزیت سے جدا نہ ہوا۔
یہ تشبیہ دراصل جرأت، اخلاص اور ابراہیمی یکسوئی کی تشبیہ ہے۔
توحید بطور سیاسی و روحانی مرکز:
اقبال کے نزدیک توحید صرف عقیدہ نہیں، تہذیبی اصول بھی ہے۔ جب حاکم کا مرکز توحید ہو تو اس کی سیاست میں بھی غیر اللہ کی بندگی کم ہوتی ہے۔ نسب، قوت، دولت اور درباری خوشامد سب اپنی اصل جگہ پر آتے ہیں۔ اسی لیے شاعر شعلۂ توحید کو عالمگیر کے کردار کا مرکزی استعارہ بناتے ہیں۔
گویا اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کے پاس اختیار کتنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس اختیار کا قبلہ کیا ہے۔
ہماری دنیا کا سبق:
آج بھی ہر دور میں بت خانے نئی صورتوں میں موجود ہوتے ہیں: کبھی اقتدار کی پرستش، کبھی نفس کی، کبھی قومیت کی، کبھی محض دنیاوی کامیابی کی۔ ایسے ماحول میں توحید کا پروانہ بننا یہی ہے کہ دل، فکر اور عمل سب کو ایک خدا کے سامنے جھکا دیا جائے، اور باقی سب کو اسی نسبت سے پرکھا جائے۔
اقبال کا پیغام یہی ہے کہ ابراہیمی کردار صرف ماضی کی داستان نہیں، ہر دور کی ضرورت ہے۔ توحید کے شعلے سے وابستگی ہی انسان کو بت خانے کے درمیان بھی سیدھا رکھتی ہے۔
مثال
ایک ایسا شخص جو رشوت، مفاد اور دباؤ سے بھرے ماحول میں بھی اصول پر قائم رہے، وہ اپنے ادارے کے “بت خانے” میں ایک ابراہیمی کردار کی مثال بن جاتا ہے۔ اس کی اصل طاقت اس کا اندرونی مرکز ہوتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق عالمگیر کا امتیاز یہ تھا کہ وہ توحید کے شعلے سے دل بستہ اور باطل ماحول کے درمیان بھی ابراہیمی یکسوئی پر قائم تھا۔ اصل استقامت یہی ہے کہ انسان ہر بت خانے میں توحید کے ساتھ زندہ رہے۔
