رموز بے خودی

پست اندر سایہ اش گردد بلند

پست اندر سایہ اش گردد بلند

خاک چون اکسیر گردد ارجمند

ترجمہ

جو چیز اس کے سایے میں پست ہو وہ بھی بلند ہو جاتی ہے، اور مٹی اگر اکسیر سے مل جائے تو قیمتی بن جاتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں توحید کی تربیتی اور ارتقائی قوت کو ایک نہایت دلکش تمثیل کے ذریعے واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ توحید ایسی حقیقت ہے جس کے زیر اثر کمزور طاقت ور، معمولی باوقار، اور خاکی وجود روشن و قیمتی بن جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:

سایۂ توحید کی رفعت:

“پست” اور “بلند” کے الفاظ یہاں صرف ظاہری مرتبے کے لیے نہیں بلکہ باطنی کیفیت کے لیے بھی آئے ہیں۔ انسان جب اپنے نفس، ماحول، خوف یا محرومیوں کی وجہ سے خود کو کم تر محسوس کرتا ہے تو اس کی قوتیں دبی رہتی ہیں۔ مگر جب وہ توحید کے سائے میں آتا ہے تو اسے یہ شعور ملتا ہے کہ اس کا تعلق ایک ایسے رب سے ہے جو بلند، قادر اور کریم ہے۔ یہی نسبت اس کی کمزوری کو حوصلے میں بدل دیتی ہے۔

اقبال کے نزدیک اصل بلندی باہر سے نہیں ملتی، بلکہ اس صحیح تعلق سے پیدا ہوتی ہے جو انسان کو اس کے خالق کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔

خاک اور اکسیر کی تمثیل:

دوسرے مصرع میں “خاک” انسان کی اصلِ مادی اور اس کی بظاہر کمزور حیثیت کی علامت ہے، جبکہ “اکسیر” وہ کیمیائی تاثیر ہے جو عام دھات کو قیمتی بنا دے۔ اقبال یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انسان اپنی ظاہری ساخت میں خاک ہی سہی، مگر جب اس کے اندر توحید کی تاثیر اترتی ہے تو اسی خاک میں وقار، مقصد اور روشنی پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ تمثیل بتاتی ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے جسم یا دنیاوی وسائل میں نہیں، بلکہ اس روحانی نسبت میں ہے جو اس کے وجود کو بلند معنی بخشتی ہے۔

توحید شخصیت کو بدلتی ہے:

توحید صرف نظریہ نہیں رہتی بلکہ شخصیت ساز قوت بن جاتی ہے۔ یہ انسان کو خود ترسی سے نکالتی ہے، اسے اپنے مقصد کا احساس دیتی ہے، اور اس کے دل میں یہ یقین بٹھاتی ہے کہ اس کی زندگی بےکار نہیں۔ جب انسان اپنے آپ کو خدا کے بندے کے طور پر دیکھتا ہے تو وہ اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو بھی نئے انداز میں پہچاننے لگتا ہے۔

یوں ایک کمزور مزاج آدمی بھی استقامت پا سکتا ہے، اور ایک منتشر دل بھی وقار اور ترتیب اختیار کر سکتا ہے۔

فرد سے ملت تک اثر:

یہی اصول ملت پر بھی صادق آتا ہے۔ ایسی قوم جو بظاہر کمزور ہو، وسائل کم رکھتی ہو، یا تاریخی زوال سے دوچار ہو، اگر اس کے اندر توحید کا زندہ شعور پیدا ہو جائے تو وہ دوبارہ اٹھ سکتی ہے۔ اقبال کی نظر میں ملت کی عزت نسل، جغرافیہ یا دولت سے نہیں بلکہ اس روحانی مرکزیت سے پیدا ہوتی ہے جو اس کے افراد کو نئی جان دیتی ہے۔

پس جس طرح اکسیر خاک کو قیمتی بناتی ہے، اسی طرح توحید قوم کے بکھرے ہوئے اجزا کو وقار اور قوت دے سکتی ہے۔

اخلاقی پیغام:

اس شعر کا ایک اخلاقی پہلو یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنی پستی یا اپنی ماضی کی کمزوریوں سے مایوس نہ ہو۔ اگر وہ حق کے سائے میں آ جائے تو اس کی حالت بدل سکتی ہے۔ اقبال انسان کو یہ امید دیتے ہیں کہ اصل انقلاب اندر سے شروع ہوتا ہے، اور اس کی کنجی صحیح روحانی وابستگی میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ توحید مایوسی کو امید، اور حقارت کو خودی کے صحیح شعور میں تبدیل کر دیتی ہے۔

مثال

ایک معمولی سا بیج بظاہر خاک میں گم ہو جاتا ہے، مگر جب اسے درست ماحول، پانی اور روشنی ملتی ہے تو وہ ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ اسی طرح انسان بظاہر معمولی ہو سکتا ہے، لیکن توحید کی تربیت اس کے اندر ایسی نشوونما پیدا کرتی ہے جو اسے باوقار بنا دیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق توحید کی نسبت پست کو بلند اور خاک کو ارجمند بنا دیتی ہے۔ اصل بلندی اور اصل قیمت اسی روحانی تاثیر سے پیدا ہوتی ہے جو انسان کو خدا سے جوڑ کر اس کے وجود کو مقصد، وقار اور قوت عطا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button