رموز بے خودی

اصل ملت در وطن دیدن کہ چہ

اصل ملت در وطن دیدن کہ چہ

باد و آب و گل پرستیدن کہ چہ

ترجمہ

ملت کی اصل کو صرف وطن میں دیکھنا کیا معنی رکھتا ہے، اور ہوا، پانی اور مٹی ہی کو مرکز بنا لینا آخر کس کام کا ہے؟

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں اپنے استدلال کو اور زیادہ صاف کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر ملت کی اصل صرف وطن میں دیکھی جائے، اور انسان اپنی وفاداری کا مرکز صرف مٹی، پانی اور جغرافیہ کو بنا لے، تو پھر اس کی روحانی اور اخلاقی حقیقت کہاں باقی رہتی ہے؟ یہ شعر ایک سوالیہ انداز میں ایک بڑی فکری غلطی کی نشاندہی کرتا ہے۔ شعر کے مطابق:

اصلِ ملت کیا ہے:

اقبال کے نزدیک ملت کی اصل اس کے ایمان، اس کے مشترک اخلاقی مرکز، اور اس کے روحانی ربط میں ہے۔ اگر اس اصل کو چھوڑ کر صرف وطن کو بنیاد بنا لیا جائے تو ملت کی تعریف بہت محدود ہو جاتی ہے۔ وطن اپنی جگہ محبت کے قابل ہو سکتا ہے، مگر ملت کی حقیقت اس سے کہیں وسیع تر ہے۔ ملت دلوں کا، عقیدے کا، مقصد کا اور تاریخی ذمہ داری کا رشتہ ہے۔

اس لیے شاعر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر قوم کی اصل کو صرف ایک جغرافیائی دائرے میں کیوں بند کیا جائے، جبکہ اس کی روحانی وسعت اس سے کہیں بلند ہے۔

باد و آب و گل پرستی:

دوسرے مصرع میں اقبال نے “باد و آب و گل” کہہ کر مادّی عناصر کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ مٹی، پانی، فضا اور اس زمینی دنیا کے نمائندہ الفاظ ہیں۔ ان کو “پرستیدن” سے جوڑ کر شاعر یہ بتا رہے ہیں کہ جب انسان وطن کو اس درجے تک پہنچا دے کہ وہ اس کے ایمان، اخلاق اور آفاقی تعلقات پر حاوی ہو جائے، تو یہ ایک طرح کی پرستش بن جاتی ہے۔

یعنی مسئلہ وطن سے محبت نہیں، بلکہ وطن کو اصل معبودِ وفاداری بنا دینے کا ہے، جس سے انسان کی نگاہ تنگ اور اس کا دل محدود ہو جاتا ہے۔

روحانی وسعت کا زوال:

اسلامی ملت کا تصور رنگ، نسل اور خطے سے بلند ہے۔ اگر اس کو صرف مٹی سے باندھ دیا جائے تو اس کی وہ آفاقی وسعت ختم ہونے لگتی ہے جو اسے مختلف ملکوں، نسلوں اور زبانوں کے انسانوں کو ایک رشتے میں جوڑنے کے قابل بناتی ہے۔ اقبال اسی زوال سے خبردار کر رہے ہیں۔

ان کے نزدیک ملت کی اصل کو جغرافیہ میں محدود کرنا دراصل روح کو جسم تک محدود کر دینے کے مترادف ہے۔ جسم اہم ہے، مگر اصل جان ہے۔

اخلاقی خطرہ:

جب وطن ہی سب کچھ بن جائے تو خیر و شر کے فیصلے بھی اکثر اسی عصبیت کے تابع ہو جاتے ہیں۔ پھر عدل کے بجائے مفاد، اخوت کے بجائے تعصب، اور انسانی وقار کے بجائے گروہی برتری اہم ہونے لگتی ہے۔ اقبال یہ نہیں چاہتے کہ مسلمان اپنی اخلاقی میزان کو مٹی کے پیمانے سے ناپنے لگیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ ملت کی وفاداری حق کے ساتھ رہے، تاکہ وطن سے محبت بھی اخلاقی ہو، متوازن ہو، اور بت پرستی کی شکل اختیار نہ کرے۔

فرد کے لیے اشارہ:

یہ شعر فرد سے بھی یہ سوال کرتا ہے کہ وہ اپنی پہچان کہاں تلاش کر رہا ہے۔ کیا وہ صرف اپنے علاقے، زبان یا سرزمین میں خود کو محدود دیکھتا ہے، یا اپنے آپ کو ایک بڑے روحانی سلسلے کا حصہ سمجھتا ہے؟ اگر اس کی ساری انا اور وفاداری صرف مٹی تک محدود ہو جائے تو اس کی پرواز کم ہو جاتی ہے۔

اقبال فرد کو یاد دلاتے ہیں کہ زمین پر رہنا ضروری ہے، مگر زمین ہی میں سمٹ جانا اس کی اصل شان نہیں۔

مثال

ایک دریا اگر اپنے کنارے ہی کو سب کچھ سمجھ لے اور سمندر سے نسبت بھول جائے تو اس کی وسعت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح قوم اگر صرف اپنے جغرافیے میں بند ہو جائے تو اس کا بڑا روحانی ربط کمزور پڑنے لگتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک ملت کی اصل کو صرف وطن میں دیکھنا اور مٹی، پانی، ہوا کو وفاداری کا آخری مرکز بنا لینا ایک فکری تنگی ہے۔ امت کی اصل روحانی، اخلاقی اور ایمانی وحدت میں ہے، جو جغرافیہ سے کہیں بڑی حقیقت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button