هر که محسوسات را تسخیر کرد
هر که محسوسات را تسخیر کرد
عالمی از ذره ئی تعمیر کرد
ترجمہ
جس نے محسوسات کو مسخر کر لیا، اس نے ایک ذرّے سے ایک دنیا تعمیر کر لی۔
تشریح
اس شعر میں اقبال اپنے بنیادی نکتے کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہیں: جو انسان محسوس دنیا کو سمجھ کر، پرکھ کر، اس کے قوانین معلوم کر کے، اور اس کی قوتوں کو اپنے مقصد کے تابع کر کے استعمال کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ چھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی بڑی تعمیر کر سکتا ہے۔ “ذره” یہاں حقارت کی علامت نہیں بلکہ امکان کی علامت ہے۔ ایک ذرہ بظاہر معمولی ہے، مگر اگر اس کے راز کھل جائیں تو اس سے ایک پورا عالم تعمیر ہو سکتا ہے۔ اقبال کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے اندر پھیلی ہوئی چھوٹی چھوٹی چیزیں، اجزا، مادّے، حرکتیں اور قوانین اگر انسان کی گرفت میں آ جائیں تو ان سے تمدن، صنعت، علم، قوت اور نئی صورتِ حیات پیدا کی جا سکتی ہے۔
یہ شعر مادی دنیا کی غلامی کی دعوت نہیں بلکہ اس کی ذمہ دارانہ تسخیر کی دعوت ہے۔ اقبال کے نزدیک مومن کو کائنات کے سامنے بے بس نہیں رہنا چاہیے۔ اسے اشیا کے راز سمجھنے چاہییں، ان کے استعمال کے آداب سیکھنے چاہییں، اور پھر انہیں اپنے بلند تر مقصد کے تابع کرنا چاہیے۔ “عالمی از ذره ئی تعمیر کرد” دراصل یہی بتاتا ہے کہ عظمت ہمیشہ بڑے ظاہری سرمائے سے پیدا نہیں ہوتی؛ بہت بار وہ چھوٹے مگر سمجھے ہوئے وسائل سے جنم لیتی ہے۔
محسوسات کی تسخیر:
محسوسات سے مراد وہ دنیا ہے جو حواس کے دائرے میں آتی ہے: مادّہ، حرکت، آواز، روشنی، پانی، ہوا، زمین، دھات، جسم، اور ان سب کے باہمی تعلقات۔ اقبال اس دنیا کو حقیر نہیں سمجھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے اندر چھپی ہوئی قوتیں تمہارے لیے میدان ہیں، شرط یہ ہے کہ تم انہیں جاننے اور برتنے کی صلاحیت پیدا کرو۔
تسخیر کا مطلب یہاں ظلم یا تباہی نہیں بلکہ فہم، ضبط اور خیر کے لیے استعمال ہے۔ جب انسان کسی شے کے قانون کو جان لیتا ہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہی علم عملی تمدن کی بنیاد ہے۔
ذرّے کی وسعت:
اقبال ذرّے کو اس لیے سامنے لاتے ہیں کہ انسان بڑے نتائج کے لیے بڑے ظاہری ڈھانچوں کا محتاج نہ بنے۔ کائنات کا راز یہ ہے کہ بڑے نظام اکثر چھوٹے اجزا کے صحیح فہم سے کھلتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا عنصر، ایک باریک سا قانون، ایک معمولی سی دریافت، ایک کم دکھائی دینے والی تدبیر، اگر درست جگہ استعمال ہو تو پورا منظر بدل سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ “عالمی” کہتے ہیں۔ مطلب یہ نہیں کہ ذرہ خود دنیا ہے، بلکہ یہ کہ سمجھے ہوئے ذرہ سے دنیا بنا لینے کی قوت پیدا ہو سکتی ہے۔ چھوٹے امکانات کو پہچاننا اور انہیں عظیم تعمیر میں بدلنا ہی زندہ ذہن کی پہچان ہے۔
تعمیر کا مزاج:
تعمیر محض عمارت کھڑی کرنا نہیں، بلکہ نئی صورتِ حیات پیدا کرنا ہے۔ جب کوئی قوم محسوسات کی تسخیر کر لیتی ہے تو اس کی معیشت، اس کی صنعت، اس کی تنظیم، اس کا علم، اس کا سفر، اس کی دوا، اس کی توانائی، سب بدل جاتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی تمدنی بیداری ہے۔
یہاں ایک اخلاقی شرط بھی پوشیدہ ہے۔ اگر یہ تسخیر خود پرستی کے تابع ہو تو فساد پیدا ہو گا، اور اگر یہ توحیدی ذمہ داری کے ساتھ ہو تو خیر پھیلے گا۔ اقبال مسلمان کو تعمیر کی طرف بلاتے ہیں، استحصال کی طرف نہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کی ایک بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ دنیا کے بہت سے ذرات کے پاس سے گزرتی ہے مگر ان میں چھپے ہوئے عالم کو نہیں دیکھتی۔ خام مال ہے مگر تحقیق کم، وسائل ہیں مگر نظم کم، نوجوان ہیں مگر تربیت کم، اور امکانات ہیں مگر تدبیر کم۔ اقبال اس شعر میں ہمیں یہی یاد دلاتے ہیں کہ راز قلتِ وسائل نہیں، قلتِ تسخیر ہے۔
اگر ہم محسوسات کے علم، تجربے اور ضبط کی طرف پلٹ آئیں تو چھوٹے ذرّات بھی بڑی تعمیرات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اقبال یہی ذہن پیدا کرنا چاہتے ہیں: دنیا کے اندر بکھرے ہوئے امکانات کو پہچانو، اور انہیں اپنے مقصد کے تابع کر کے عالم آفرینی کی قوت پیدا کرو۔
مثال
جیسے ایک ماہر معمار چند اینٹوں، لکڑی اور پتھر سے پورا گھر کھڑا کر دیتا ہے، ویسے ہی باشعور انسان چھوٹے مادی امکانات سے بڑی تہذیبی تعمیر کر سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ محسوس دنیا پر فہم اور ضبط حاصل کرنے والا انسان معمولی ذرّے سے بھی عظیم تعمیر کر سکتا ہے۔ ترقی کا راز امکانات کی کثرت نہیں، ان کی تسخیر ہے۔
