رموز بے خودی

تنگ میداں ہستی خامش ہنوز

تنگ میداں ہستی خامش ہنوز

فکر او زیر لب بامش ہنوز

ترجمہ

اس کے خام وجود کا میدان ابھی تنگ ہے، اور اس کی فکر ابھی پست اور محدود ہے، بلندی تک نہیں پہنچی۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خام فرد کے وجود کی تنگی اور اس کی فکر کی پستی کو بیان کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

وجود کا تنگ میدان:

اقبال کہتے ہیں کہ اس خام فرد کے وجود کا میدان ابھی تنگ ہے۔ یعنی اس کی سوچ، اس کی صلاحیتیں اور اس کا دائرہِ عمل ابھی محدود ہے۔

وہ ابھی اپنی ذات کے چھوٹے سے دائرے میں محصور ہے اور وسیع اجتماعی زندگی اور بلند مقاصد سے ناآشنا ہے۔

پست اور محدود فکر:

شاعر کہتے ہیں کہ اس کی فکر ابھی پست اور نیچی ہے، بلندی تک نہیں پہنچی۔ اس کی سوچ میں ابھی وہ وسعت اور بلندی پیدا نہیں ہوئی جو بڑے کام کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

اس کی نظریں ابھی زمین تک محدود ہیں اور اس نے بلند مقاصد اور وسیع افق کی طرف پرواز کرنا نہیں سیکھا۔

خامی کی حالت:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ خام فرد کی سوچ اور اس کا وجود دونوں ابھی محدود ہیں، اور اسے وسعت اور بلندی کی ضرورت ہے۔

وسعت کی طرف دعوت:

اس محدودیت سے نکلنے کے لیے فرد کو اجتماع، تربیت اور رہنمائی درکار ہے، جو اس کی فکر کو بلند اور اس کے وجود کو وسیع کرے۔

مثال

جیسے ایک پرندہ جو ابھی اڑنا نہیں سیکھا، اپنے چھوٹے سے گھونسلے تک محدود رہتا ہے اور کھلے آسمان کی وسعت سے ناآشنا ہوتا ہے، ویسے ہی خام فرد اپنی محدود سوچ میں قید رہتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خام فرد کا وجود اور اس کی فکر دونوں ابھی محدود اور پست ہیں، اور اسے وسعت و بلندی کے لیے تربیت درکار ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button