رموز بے خودی

شیر ببر آمد پدید از طرف دشت

شیر ببر آمد پدید از طرف دشت

از خروش او فلک لرزنده گشت

ترجمہ

دشت کی طرف سے ایک خونخوار شیر ظاہر ہوا، اور اس کی دھاڑ سے گویا آسمان تک لرز اٹھا۔

تشریح

علامہ اقبال اب حکایت کو اس مقام پر لاتے ہیں جہاں باطنی تیاری بیرونی امتحان سے ٹکراتی ہے۔ ابھی تک منظر میں سحر، تسبیح، نماز اور روحانی لطافت تھی، اور اب اچانک ایک مہیب شیر نمودار ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف کہانی کا موڑ نہیں بلکہ اقبال کے اس اصول کی نمایاں مثال ہے کہ زندگی میں حق کے ساتھ نسبت رکھنے والے انسان کو بھی خطرے اور آزمائش سے مستثنیٰ نہیں کیا جاتا۔ شعر کے مطابق:

شیر کا اچانک ظہور:

دشت کی طرف سے شیر کا نمودار ہونا اس امر کی علامت ہے کہ خطرات اکثر انسان کی حسابی دنیا سے باہر کے رخ سے آتے ہیں۔ آدمی نماز میں ہو، روحانی کیفیت میں ہو، یا فطرت کے حسن میں محو ہو، تب بھی امتحان اچانک سامنے آ سکتا ہے۔ اقبال اس ناگہانی کیفیت کو برقرار رکھتے ہیں تاکہ عالمگیر کی اصل باطنی ساخت بے پردہ ہو سکے۔

گویا شیر صرف ایک جانور نہیں، بلکہ اس اچانک خطرے کی علامت بھی ہے جو انسان کی سچائی کو پرکھ لیتا ہے۔

خروش اور ہیبت:

“از خروش او فلک لرزنده گشت” مبالغے کے ذریعے اس خوف کی شدت کو ظاہر کرتا ہے جو عام انسان کے دل پر چھا جائے۔ شیر کی دھاڑ اتنی عظیم بیان کی گئی ہے کہ گویا آسمان تک ہل گیا۔ اقبال اس سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ کوئی معمولی خطرہ نہ تھا، جسے ایک سرد قصے کی طرح سنا جائے۔ امتحان پورے جلال کے ساتھ آیا ہے۔

اس مبالغے میں اصل زور شیر کی حیوانی قوت پر نہیں بلکہ اس فضا پر ہے جس میں دلوں کی حقیقت کھلنے والی ہے۔

روحانی فضا اور خطرہ:

خاص بات یہ ہے کہ شیر اس وقت سامنے آتا ہے جب بادشاہ نماز اور ذکر کی کیفیت سے وابستہ ہو چکا ہے۔ اس سے اقبال ایک بڑا سبق دیتے ہیں: روحانیت انسان کو خطرے سے الگ نہیں کرتی، بلکہ خطرے کے وقت اس کے رویے کو سنوارتی ہے۔ جو دل حقیقت سے جڑا ہوا ہو، وہ شیر کی دھاڑ بھی ایک اور طرح سے سنتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکایت کا اصل زور بعد کے ردعمل پر ہوگا، مگر اس ردعمل کی معنویت اسی وقت بنتی ہے جب خطرہ واقعی شدید دکھایا جائے۔

شیر بطور آزمائشِ باطن:

اقبال کے ہاں بہت سی خارجی چیزیں باطنی معنی رکھتی ہیں۔ شیر یہاں محض جسمانی دشمن نہیں، بلکہ خوف، اضطراب اور جان کے امتحان کی مجسم صورت بھی ہے۔ اگر دل اندر سے کمزور ہو تو اس کی دھاڑ ہی آدمی کو توڑ دیتی ہے۔ اگر دل مضبوط ہو تو یہی خطرہ باطن کی پختگی کو ظاہر کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

پس شعر میں اصل سوال شیر کے بارے میں نہیں، اس دل کے بارے میں ہے جو اب اس کا سامنا کرے گا۔

ہماری زندگی میں اطلاق:

زندگی کے “شیر” کئی صورتوں میں آتے ہیں: شدید بیماری، اچانک حادثہ، عزت پر حملہ، رزق کا بحران، یا کوئی ایسا لمحہ جب انسان کی ساری تدبیریں چھوٹی لگنے لگیں۔ اقبال کا سبق یہ ہے کہ خطرے کی شدت سے انکار نہیں کرنا چاہیے، مگر اس کے سامنے دل کی تربیت ہی اصل سرمایہ ہے۔

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دھاڑ کی بڑائی سے زیادہ اہم اس دل کی بڑائی ہے جو اسے سن کر بھی ٹوٹتا نہیں۔

مثال

کسی ادارے میں اچانک بڑا بحران آ جائے تو اس کی خبر ہی بہت سوں کو ہلا دیتی ہے، حالانکہ اصل امتحان ابھی شروع بھی نہیں ہوا ہوتا۔ خبر کی شدت ایک “دھاڑ” ہے، اور اس کے بعد کا رویہ اصل باطن کو ظاہر کرتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق خطرہ اچانک اور پوری ہیبت کے ساتھ سامنے آتا ہے، مگر اسی لمحے انسان کے باطن کی حقیقت پرکھی جاتی ہے۔ شیر کی دھاڑ جتنی بڑی ہو، اس سے بڑھ کر اہم دل کی پختگی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button