رموز بے خودی

مهر را آزاده رفتن آبروست

مهر را آزاده رفتن آبروست

عرصه ی آفاق زیر پای اوست

ترجمہ

سورج کی آبرو اسی میں ہے کہ وہ آزادانہ چلتا رہے، اور ساری کائنات کی وسعت اس کے قدموں کے نیچے ہو۔

تشریح

اقبال اس شعر میں مسلم کی آزاد حرکت، آفاقی وسعت اور بے قیدی کو سورج کے استعارے سے واضح کرتے ہیں۔ سورج کسی ایک جگہ نہیں رکتا، کسی ایک گوشے کی ملکیت نہیں بنتا، اور اسی آزاد حرکت میں اس کی شان ہے۔ اگر وہ رک جائے تو سورج نہ رہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ زندہ خودی، زندہ ملت اور زندہ حیات بھی اسی حرکت، آزادی اور وسعت سے عزت پاتی ہے۔ شعر کے مطابق:

مهر بطور استعارہ:

مہر یعنی سورج، روشنی، مرکزیت، فیض، زندگی اور آفاقی اثر کی علامت ہے۔ سورج اپنی روشنی کسی ایک قوم، ایک شہر یا ایک خطے کے لیے مخصوص نہیں کرتا۔ اس کی فطرت ہی پھیلنے والی ہے۔ اقبال مسلم کو یہی آفاقی مزاج دینا چاہتے ہیں۔

جو خودی سورج سے نسبت چاہتی ہے، اسے محدود سایوں میں قید نہیں رہنا چاہیے۔

آزاده رفتن:

آزادانہ چلنا یہاں بے مقصد بھٹکنے کا نام نہیں، بلکہ اس قید سے آزاد ہونا ہے جو حرکت کو روک دے۔ سورج کا چلنا منظم بھی ہے، باقاعدہ بھی، اور کائناتی نظم کے تابع بھی۔ اقبال اسی سے بتاتے ہیں کہ حقیقی آزادی، نظم کے خلاف نہیں ہوتی؛ وہ قیدِ جمود کے خلاف ہوتی ہے۔

آزادی جب مقصد اور نظم سے جڑی ہو تو آبرو بن جاتی ہے۔

آبرو کی معنویت:

آبرو یعنی وقار، شان اور اصل عزت۔ اقبال کہتے ہیں کہ سورج کی آبرو اس کے آزادانہ سفر میں ہے۔ اگر یہ استعارہ مسلم پر لاگو کیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ مسلمان کی عزت بھی تنگ اقلیمی تعصب، فکری جمود، یا محدود مفاد میں بند ہونے سے نہیں، بلکہ آفاقی شعور، زندہ حرکت اور بلند مقصد کے ساتھ جینے سے پیدا ہوتی ہے۔

رک جانے والی خودی میں روشنی کم اور سایہ زیادہ ہونے لگتا ہے۔

عرصه ی آفاق زیر پای اوست:

یہ مصرع وسعتِ امکان کا بیان ہے۔ جو سورج کی طرح چلتا ہے، اس کے لیے آفاق محدود دیواریں نہیں رہتے۔ اس کی نگاہ کھلتی ہے، میدان وسیع ہوتے ہیں، اور وجود کی سطح بلند ہوتی ہے۔ مسلم اگر اپنی اصل پر قائم ہو تو اس کے لیے ساری دنیا ایک میدان بن سکتی ہے: خدمت کا، دعوت کا، تعمیر کا، اور بندگی کا۔

وسعت پہلے نگاہ میں پیدا ہوتی ہے، پھر راستوں میں ظاہر ہوتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ محفوظ محدودیت کو عزت سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ کئی بار وہ صرف خوف کی دوسری شکل ہوتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ عزت وہاں ہے جہاں خودی آزاد ہو، حرکت رکھتی ہو، اور بڑا افق اختیار کرے۔ اگر آدمی اپنے آپ کو کسی چھوٹے دائرے میں قید کر لے تو اس کی روشنی بھی اسی دائرے تک محدود ہو جاتی ہے۔

اسلامی خودی کی آبرو اس کی آفاقی حرکت، روشن مزاجی اور قید شکن وسعت میں ہے۔

مثال

ایک علم یا خدمت کا آدمی اگر صرف اپنی چھوٹی جماعت یا محدود مفاد کے لیے جئے تو اس کا اثر کم رہتا ہے، مگر اگر وہ وسیع تر انسانیت اور حق کے لیے کام کرے تو اس کی روشنی زیادہ دور تک پہنچتی ہے۔

خلاصہ

اقبال سورج کے استعارے سے بتاتے ہیں کہ عزت اور وقار آزاد حرکت، آفاقی وسعت اور روشنی کے پھیلاؤ میں ہے۔ مسلم کی حقیقی آبرو بھی تنگی میں نہیں، بلکہ وسیع میدان میں زندہ حرکت کے ساتھ جینے میں ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button