رهزنان از حفظ او رهبر شدند
رهزنان از حفظ او رهبر شدند
از کتابی صاحب دفتر شدند
ترجمہ
اس کی حفاظت اور حفظ سے رہزن بھی رہبر بن گئے، اور محض ایک کتاب کے ذریعے لوگ صاحبِ دفتر، صاحبِ علم اور صاحبِ نظم ہو گئے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال قرآنِ حکیم کے تہذیبی انقلاب کو نہایت اختصار مگر بڑی قوت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کتاب کی برکت سے وہ لوگ بھی جو کبھی رہزن تھے، رہبر بن گئے؛ اور جو بے کتاب، بے تحریر یا غیر منظم تھے، وہ صاحبِ دفتر ہو گئے۔ یعنی قرآن نے صرف عقائد نہیں بدلے، انسان کی پوری تہذیبی ساخت بدل دی: کردار، علم، تنظیم، قیادت، تحریر، قانون، تہذیب اور اجتماعی نظم سب اس کے زیرِ اثر نئی صورت اختیار کر گئے۔ شعر کے مطابق:
رہزن سے رہبر:
رہزن وہ ہے جو راستہ کاٹتا ہے، خوف پیدا کرتا ہے اور دوسروں کی زندگی میں خرابی کا سبب بنتا ہے۔ رہبر اس کے برعکس وہ ہے جو راستہ دکھاتا ہے، بھٹکے ہوئے کو منزل تک پہنچاتا ہے، اور اجتماع کے لیے سہارا بنتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن کی تاثیر ایسی ہے کہ وہ انسان کے باطن کو اس قدر بدل دیتی ہے کہ اس کی پوری سمت تبدیل ہو جاتی ہے۔
یہ محض اخلاقی نصیحت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک گہری ربانی تربیت کا اثر ہے۔ جب ضمیر بیدار ہو، مقصد واضح ہو، اور زندگی کو حق کے میزان پر پرکھا جائے، تو تخریب کار شخصیت بھی تعمیر کار بن سکتی ہے۔
حفظِ قرآن کا معنی:
“از حفظ او” کو صرف زبانی یاد کرنے تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس میں حفظ بمعنی حفاظت، یادداشت، اور قلب و عمل میں محفوظ کر لینے کے معانی جمع ہیں۔ قرآن جب صرف زبان پر نہیں بلکہ ذہن، ضمیر اور کردار میں محفوظ ہو جائے تو انسان کے اندر انقلاب برپا کرتا ہے۔
ایسی یادداشت محض تکرار نہیں، تہذیبی تربیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی پہلی نسل نے اسے صرف پڑھا نہیں، جیا؛ اور اسی جینے سے رہزن رہبر بن گئے۔
صاحبِ دفتر ہونا:
دوسرے مصرعے میں “دفتر” علم، تحریر، تنظیم، حساب، ادارہ اور باقاعدہ تہذیب کی علامت ہے۔ عرب کے بدوی ماحول میں ایک کتاب کے ذریعے صاحبِ دفتر ہو جانا اس بات کا استعارہ ہے کہ قرآن نے امت کو علمی، قانونی اور تہذیبی نظم عطا کیا۔ جو لوگ بکھری ہوئی روایات اور غیر منظم زندگی میں تھے، وہ کتاب کے ذریعے ضابطے، تحریر اور شعور کے حامل بن گئے۔
گویا قرآن نے محض روحانیت نہیں دی، بلکہ ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جس میں علم لکھا بھی جاتا ہے، محفوظ بھی ہوتا ہے، ادارے بھی بنتے ہیں، اور اجتماعی زندگی بھی نظم پاتی ہے۔
کتاب سے تہذیب تک:
اقبال کے نزدیک حقیقی کتاب وہی ہے جو انسان اور تاریخ دونوں کو بدل دے۔ قرآن کی خاصیت یہی ہے کہ اس نے ایک امت کو زبانی معاشرے سے صاحبِ علم معاشرے، منتشر قبائل سے منظم ملت، اور ذاتی حمیت سے اصولی قیادت کی طرف منتقل کیا۔
اس تبدیلی میں نہ صرف اخلاقی اصلاح بلکہ علمی بیداری بھی شامل تھی۔ اس لیے اقبال کی نگاہ میں قرآن ملت کے باطن کا بھی معمار ہے اور اس کی تہذیبی صورت کا بھی۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان دنیا میں ایک تلخ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا قرآن سے تعلق ہمیں واقعی رہبر بنا رہا ہے؟ کیا ہم کتاب رکھتے ہیں مگر دفتر نہیں، تلاوت رکھتے ہیں مگر نظم نہیں، آواز رکھتے ہیں مگر علمی تہذیب نہیں؟ اقبال کا شعر ہمیں اس خلا کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اگر قرآن سے ہمارا تعلق زندہ ہو جائے تو وہ ہمارے کردار بھی بدل سکتا ہے اور ہمارے ادارے بھی۔ وہ ہمیں صرف مذہبی شناخت نہیں، تہذیبی قیادت بھی دے سکتا ہے۔
مثال
جیسے ایک اچھا قانون اگر صرف کتاب میں نہ رہے بلکہ اداروں، تربیت اور کردار میں اتر جائے تو پورا معاشرہ بدل سکتا ہے، ویسے ہی قرآن نے انسانوں کو بدل کر تہذیب کی صورت بدل دی۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک قرآن کی تربیت رہزن کو رہبر اور بے نظم انسان کو صاحبِ دفتر بنا دیتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن صرف انفرادی ہدایت نہیں بلکہ تہذیبی، علمی اور اجتماعی انقلاب کی بھی بنیاد ہے۔