نکتۂ توحید باز آموزدش
نکتۂ توحید باز آموزدش
رسم و آئیں نیاز آموزدش
ترجمہ
وہ (رہنما) اسے توحید کا نکتہ دوبارہ سکھاتا ہے، اور اسے نیاز مندی و بندگی کا طریقہ اور آئین سکھاتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما یعنی نبی کے سب سے بڑے اور آخری سبق، یعنی توحید اور بندگی کی تعلیم کو بیان کرتے ہیں۔ یہی اس مضمون کا نقطۂ عروج ہے۔ شعر کے مطابق:
توحید کا نکتہ سکھانا:
اقبال کہتے ہیں کہ رہنما انسان کو توحید یعنی اللہ کی وحدانیت کا نکتہ دوبارہ سکھاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جو انسان کی پوری زندگی اور اس کی ملت کی بنیاد ہے۔
توحید انسان کو ایک خدا سے جوڑ کر تمام جھوٹے سہاروں اور معبودوں سے آزاد کر دیتی ہے، اور اسی سے فرد اور ملت میں وحدت پیدا ہوتی ہے۔
نیاز مندی کا آئین:
شاعر کہتے ہیں کہ وہ اسے نیاز مندی اور بندگی کا طریقہ اور آئین سکھاتا ہے۔ یعنی وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ اپنے خالق کے سامنے کیسے جھکنا اور اس کی بندگی کیسے کرنی ہے۔
یہی نیاز مندی اور یہی بندگی انسان کو حقیقی عاجزی اور ساتھ ہی ساتھ حقیقی عظمت عطا کرتی ہے، کیونکہ ایک خدا کے سامنے جھکنے والا سب کے سامنے سربلند ہو جاتا ہے۔
تربیت کی تکمیل:
اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ ملت کی تربیت کی تکمیل توحید اور بندگی کی اسی تعلیم سے ہوتی ہے، جو نبوت کا اصل پیغام ہے۔
نبوت کا مقصد:
یہی توحید اور یہی بندگی وہ بنیاد ہے جس پر ایک بکھری ہوئی انسانیت ایک عظیم اور مضبوط امت بن جاتی ہے، اور یہی اس پورے مضمون کا خلاصہ ہے۔
مثال
جیسے ایک استاد اپنے شاگرد کو سب سے بنیادی اور اہم سبق آخر میں پختہ کراتا ہے تاکہ اس کی تعلیم مکمل ہو، ویسے ہی رہنما انسان کو توحید اور بندگی کا بنیادی سبق سکھا کر اس کی تربیت مکمل کرتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما انسان کو توحید اور بندگی کی تعلیم دے کر اس کی اور اس کی ملت کی تربیت مکمل کرتا ہے، اور یہی نبوت کا اصل مقصد اور اس مضمون کا خلاصہ ہے۔