رموز بے خودی

اسقف از بی طاقتی در مانده ئی

اسقف از بی طاقتی در مانده ئی

مهره ها از کف برون افشانده ئی

ترجمہ

اسقف بے بسی اور بے طاقتی میں حیران و درماندہ رہ گیا، اور اس نے اپنے ہاتھ کے مہرے بکھیر دیے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں مغربی مذہبی قیادت کی اس بے چارگی کو تصویر بناتے ہیں جو کلیسا کی کمزوری کے بعد ظاہر ہوئی۔ پچھلے شعر میں کلیسائی شمع کے سرد پڑنے کا ذکر تھا، اب اس کے نگہبان کی حالت دکھائی جا رہی ہے۔ اسقف، یعنی کلیسا کا نمائندہ، اپنے عہد کی فکری، سیاسی اور تہذیبی تبدیلیوں کے سامنے ایسا بے دست و پا نظر آتا ہے کہ گویا اس کے ہاتھ سے کھیل کے مہرے بکھر گئے ہوں۔ شعر کے مطابق:

اسقف کی علامت:

اسقف یہاں صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے مذہبی نظام، ایک تاریخی اتھارٹی اور ایک تہذیبی نگہبانی کی علامت ہے۔ اقبال اس کے ذریعے بتاتے ہیں کہ کلیسا اپنی روحانی قوت کھونے کے بعد مغربی زندگی کی سمت متعین رکھنے میں ناکام ہوتا گیا۔ وہ اب رہبر کم اور ماضی کی کمزور یادگار زیادہ بنتا چلا گیا۔

رہنمائی کا منصب صرف عہدہ نہیں، زندہ باطنی قوت کا مطالبہ کرتا ہے۔

بی طاقتی:

بی طاقتی کا مطلب صرف جسمانی کمزوری نہیں بلکہ فکری، روحانی اور تہذیبی عجز بھی ہے۔ اقبال کے نزدیک کلیسا نئے سوالوں، نئی سیاست، نئی قومیّت اور ابھرتی ہوئی جدیدیت کے سامنے اپنا مؤثر جواب پیش نہ کر سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے اندر دفاع کی قوت کم ہو گئی اور وہ محض ردِ عمل، گھبراہٹ یا بے سمتی کا شکار ہو گیا۔

جب مرکز اپنے سوالوں کا جواب کھو دے تو اس کی طاقت عہدوں کے باوجود گھٹنے لگتی ہے۔

درماندگی:

“در مانده” ہونے میں ایک داخلی بحران کی خبر ہے۔ یہ صرف شکست نہیں بلکہ راستہ نہ سوجھنے کی حالت ہے۔ اسقف جانتا ہے کہ اس کے سامنے کچھ بدل رہا ہے، مگر وہ نہ اس تبدیلی کو روک پا رہا ہے، نہ اسے صحیح رخ دے پا رہا ہے۔ اسی درماندگی سے وہ خلا پیدا ہوتا ہے جسے بعد میں سیاست اور قومی ریاست بھرنے لگتی ہے۔

جو رہبر سمت نہ دے سکے، اس کے پیروکار جلد کسی اور قطب کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

مهره ها از کف برون افشانده ئی:

یہ بہت خوب صورت استعارہ ہے۔ مہرے نظم، تدبیر، اختیار اور کھیل پر گرفت کی علامت ہیں۔ جب وہ ہاتھ سے بکھر جائیں تو مطلب یہ ہے کہ ترتیب ٹوٹ گئی، کنٹرول جاتا رہا، اور فیصلہ کن قوت رخصت ہو گئی۔ اقبال بتاتے ہیں کہ مغربی مذہبی قیادت اپنے عہد کے کھیل پر قابو نہ رکھ سکی، اس لیے میدان دوسروں کے لیے کھل گیا۔

جو اپنے مہرے سنبھال نہ سکے، وہ میدان کے قوانین بھی زیادہ دیر تک طے نہیں کر سکتا۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی اگر دینی قیادت محض عہدوں، روایتوں یا رسمی اقتدار پر قائم ہو اور زمانے کے سوالوں، تہذیبی چیلنجوں اور انسان کے باطنی درد کا زندہ جواب نہ دے سکے تو وہ اسی درماندگی کا شکار ہو سکتی ہے۔ اقبال کی تنبیہ صرف مغرب کے لیے نہیں، ہر مذہبی معاشرے کے لیے ہے: رہنمائی زندہ ہو، سوز رکھتی ہو، بصیرت رکھتی ہو، اور اپنے عہد سے باخبر ہو۔

اسلامی خودی کو ایسے مراکز درکار ہیں جو مہرے بکھیرنے کے بجائے میدان کو حق کے ساتھ ترتیب دے سکیں۔

مثال

اگر کسی معاشرے کی مذہبی قیادت نوجوان نسل کے سوالوں، عدل کے مسائل، تہذیبی دباؤ اور فکری تبدیلیوں کا کوئی بامعنی جواب نہ دے سکے تو آہستہ آہستہ لوگ اس سے ہٹ کر دوسرے مراکز سے رہنمائی لینے لگتے ہیں۔ یہی مہرے بکھرنے کی ایک صورت ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق کلیسا کی مذہبی قیادت فکری اور روحانی کمزوری کے سبب اپنے عہد کے چیلنجوں کے سامنے درماندہ ہو گئی۔ اس کے ہاتھ سے نظم و اختیار کے مہرے بکھر گئے اور میدان دوسرے تصورات کے لیے خالی ہو گیا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button