رموز بے خودی

ما ز نعمتهای او اخوان شدیم

ما ز نعمتهای او اخوان شدیم

یک زبان و یکدل و یکجان شدیم

ترجمہ

ہم اسی کی نعمتوں کے سبب بھائی بنے، اور ایک زبان، ایک دل اور ایک جان ہو گئے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں پوری بحث کو ایک نہایت محبت بھرے اور جامع نتیجے تک لے آتے ہیں۔ ملت کی وحدت صرف قانون، نسب، وطن یا مصلحت سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں نے اسے اخوت میں بدلا، یہاں تک کہ وہ ایک زبان، ایک دل اور ایک جان بن گئی۔ شعر کے مطابق:

نعمتوں کا اصل مفہوم:

“نعمتهای او” میں صرف مادی عطیات شامل نہیں بلکہ ہدایت، ایمان، کتاب، رسول، قبلہ، عبادت، اخلاق اور باہمی اخوت کی نعمتیں بھی شامل ہیں۔ اقبال اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امت کی وحدت کسی مصنوعی منصوبے سے نہیں بنی، بلکہ ایک ربانی عطیے کے طور پر بنی۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انسانوں کو ایک بڑے رشتے میں جوڑ دیا۔

یہ شعور اخوت کو محض سماجی معاہدہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے شکر، وفاداری اور دینی ذمہ داری کا مقام دیتا ہے۔

اخوان بننے کا راز:

“اخوان شدیم” میں وہ گہری برادری مراد ہے جو ایمان کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔ خون کے رشتے محدود ہوتے ہیں، مگر ایمانی اخوت بہت وسیع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف نسلوں، علاقوں اور زبانوں کے لوگ ایک امت بن جاتے ہیں۔ اقبال اسی حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ ملت کی اصل نسبت اللہ کی عطا کردہ اخوت میں ہے۔

یہ اخوت صرف جذباتی نہیں بلکہ اخلاقی اور عملی بھی ہے۔ اس میں ایک دوسرے کی خیر خواہی، مدد، امانت اور مشترک مقصد شامل ہیں۔

یک زبان کا معنی:

یہاں “یک زبان” سے مراد صرف لغوی زبان نہیں، بلکہ ایک مشترک اظہار، ایک مشترک کلمہ اور ایک مشترک تہذیبی لہجہ بھی ہے۔ امت کا کلمہ ایک ہے، اس کی دعا کی سمت ایک ہے، اس کے اذکار کا مرکز ایک ہے۔ یہی مشترک زبان مختلف لسانی تنوع کے باوجود اسے ایک روحانی لسان دیتی ہے۔

اس لیے یہ تعبیر ظاہری زبانوں کی نفی نہیں بلکہ اس بڑے اتحاد کی نشاندہی ہے جو ایک ربانی پیغام سے پیدا ہوتا ہے۔

یکدل و یکجان ہونا:

دلوں اور جانوں کا ایک ہونا اخوت کی اعلیٰ ترین صورت ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قوم کے افراد ایک دوسرے کو محض ساتھ رہنے والے لوگ نہیں سمجھتے، بلکہ ایک ہی مقصد کے شریک اور ایک ہی درد کے امین سمجھتے ہیں۔ ایسی وحدت میں دوسرے کا زخم اپنا زخم محسوس ہوتا ہے، دوسرے کی عزت اپنی عزت، اور دوسرے کی خیر اپنی خیر۔

اقبال کی خواہش یہی ہے کہ امت رسمی اتحاد سے آگے بڑھ کر اس اندرونی یکجانی تک پہنچے۔

شکر اور ذمہ داری:

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اخوت اگر نعمت ہے تو اس کی حفاظت بھی فرض ہے۔ اگر امت اللہ کی عطا سے ایک دل اور ایک جان ہوئی تھی تو حسد، تعصب، گروہ بندی اور خود غرضی اس نعمت کی ناقدری ہیں۔ اقبال اس نتیجے پر پہنچ کر گویا ہمیں شکر کے ساتھ ذمہ داری بھی سونپ دیتے ہیں کہ اس وحدت کو زندہ رکھا جائے۔

پس اخوت صرف ایک خوش کن تصور نہیں بلکہ ایک الٰہی امانت ہے جسے بگاڑنا نہیں، سنوارنا چاہیے۔

مثال

ایک خاندان میں مختلف مزاج کے لوگ ہوتے ہیں، مگر کسی بڑی نعمت یا بڑے دکھ کے وقت انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک جان ہیں۔ امت کی اخوت اس سے بھی بلند درجے کی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد ایک رب کی عطا اور ایک ایمان پر قائم ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امت کی اصل اخوت اللہ کی نعمتوں سے پیدا ہوئی ہے۔ اسی ربانی عطا نے اسے ایک زبان، ایک دل اور ایک جان بنایا، اور یہی حقیقت ملت کی سب سے بڑی عزت اور ذمہ داری ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button