تا امید از آرزوی پیہم است
تا امید از آرزوی پیہم است
نا امیدی زندگانی را سم است
ترجمہ
جب تک مسلسل آرزو سے امید پیدا ہوتی رہتی ہے، زندگی باقی رہتی ہے، اور ناامیدی تو زندگی کے لیے زہر ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امید اور آرزو کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک امید کوئی جامد یا اتفاقی کیفیت نہیں، بلکہ مسلسل آرزو، جستجو اور بہتر ہونے کی خواہش سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ناامیدی زندگی کے جسم و روح میں ایسے زہر کی طرح اترتی ہے جو آہستہ آہستہ اس کی حرارت کو ختم کر دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:
پیہم آرزو کا مطلب:
“آرزوی پیہم” میں استمرار کا مفہوم بہت اہم ہے۔ انسان کی زندگی میں ایک وقتی خواہش سے زیادہ اس مستقل شوق کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے بار بار بہتر رخ کی طرف لے جائے۔ یہ آرزو صرف مال، منصب یا دنیاوی کامیابی نہیں، بلکہ اصلاح، قربِ الٰہی، خیر، علم، کردار اور اجتماعی بھلائی کی بھی ہو سکتی ہے۔
جب یہ جستجو مسلسل رہتی ہے تو انسان کے اندر امید زندہ رہتی ہے، کیونکہ اسے ہر حال میں آگے بڑھنے کا کوئی دروازہ نظر آتا رہتا ہے۔
امید زندگی کی غذا ہے:
اقبال کے ہاں امید محض نفسیاتی آسرا نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی غذا ہے۔ یہ انسان کو کام پر آمادہ کرتی ہے، رنج کے بعد حوصلہ دیتی ہے، گناہ کے بعد توبہ کی طرف لاتی ہے، اور شکست کے بعد دوبارہ جدو جہد کے لیے تیار کرتی ہے۔ جس دل میں امید ہو، اس میں حرکت باقی رہتی ہے۔
اس لیے شاعر امید کو کسی ایک مرحلے کا سہارا نہیں بلکہ پوری زندگی کی بقا کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
ناامیدی بطور زہر:
“سم” کا لفظ نہایت معنی خیز ہے۔ زہر فوراً بھی اثر کر سکتا ہے اور آہستہ آہستہ بھی۔ ناامیدی بھی اکثر اسی طرح انسان کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے۔ پہلے اس کی کوشش کم ہوتی ہے، پھر اس کا یقین کمزور ہوتا ہے، پھر اس کی نظر میں امکانات سکڑ جاتے ہیں، اور آخرکار وہ اپنی ہی صلاحیتوں سے بےاعتماد ہو جاتا ہے۔
یہ زہر صرف فرد کو نہیں مارتا، بلکہ اس کے تعلقات، اس کے اخلاق اور اس کے اجتماعی کردار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
توحید اور امید کا ربط:
اقبال امید کو کسی خود ساختہ خوش فہمی سے پیدا نہیں کرتے، بلکہ اسے توحید اور اللہ کی رحمت سے جوڑتے ہیں۔ جب انسان یہ جانتا ہے کہ کائنات بےسہارا نہیں، اس کا رب زندہ ہے، درِ توبہ کھلا ہے، اور حق کی مدد ممکن ہے، تو امید ایک سچی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبالی امید خام خیالی نہیں بلکہ ایمانی حقیقت ہے۔ اسی سے آرزو پاکیزہ بنتی ہے اور کوشش باوقار رہتی ہے۔
ملت کا اجتماعی علاج:
اقبال کی نگاہ فرد سے آگے ملت پر بھی ہے۔ اگر ایک قوم اپنی شکست، پسماندگی یا محرومیوں کے باعث ناامیدی کا شکار ہو جائے تو اس کے اندر تخلیقی قوت ختم ہونے لگتی ہے۔ لیکن اگر اس کے اندر مسلسل بہتر مستقبل کی آرزو باقی رہے، تو وہ دوبارہ اٹھنے کی طاقت رکھتی ہے۔
پس قوموں کی حیات بھی امید اور آرزو کی اس باہمی غذا پر قائم رہتی ہے۔ یہی اسے زہرِ یأس سے محفوظ رکھتی ہے۔
مثال
ایک مریض اگر علاج کے ساتھ صحت یاب ہونے کی امید بھی رکھتا ہو تو وہ دوا، پرہیز اور محنت پر قائم رہتا ہے۔ لیکن اگر امید ہی چھوڑ دے تو بعض اوقات اچھا علاج بھی کم اثر کرتا ہے۔ اسی طرح زندگی میں امید جد و جہد کو قائم رکھتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک مسلسل آرزو سے امید زندہ رہتی ہے، اور یہی امید زندگی کو سنبھالتی ہے۔ اس کے برعکس ناامیدی ایسا زہر ہے جو فرد اور ملت دونوں کی حیات کو آہستہ آہستہ کمزور کر دیتا ہے۔