قیس اگر آواره در صحراستی
قیس اگر آواره در صحراستی
مدعایش محمل لیلاستی
ترجمہ
اگر قیس صحرا میں آوارہ پھرتا تھا تو اس کا مدعا لیلیٰ کا محمل تھا۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مجنون و لیلیٰ کی معروف تمثیل کو مقصد کی توضیح کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ظاہری نگاہ سے قیس کی آوارگی ایک بے سمتی دکھائی دیتی ہے، مگر اقبال کہتے ہیں کہ اس آوارگی کے پیچھے بھی ایک مدعا تھا: لیلیٰ کا محمل۔ یعنی عاشق کی صحرا نوردی محض دیوانگی نہیں تھی، اس کے پیچھے ایک مرکز، ایک کشش اور ایک مطلوب موجود تھا۔ اقبال اس مثال سے یہ سمجھاتے ہیں کہ بڑی حرکتیں اکثر ظاہری نظر میں بے ترتیب معلوم ہوتی ہیں، لیکن اگر ان کے اندر سچا مقصد ہو تو وہ حقیقت میں آوارگی نہیں ہوتیں، تلاش ہوتی ہیں۔
“محملِ لیلیٰ” کا ذکر بہت بلیغ ہے۔ محمل وہ سواری ہے جس میں محبوب سفر کرتا ہے۔ قیس کا مطلوب خود صحرا نہیں، نہ محض چلتے رہنا، بلکہ لیلیٰ کی نسبت سے جڑا ہوا وہ مرکزِ طلب ہے جس کی طرف اس کے سارے قدم اٹھتے ہیں۔ اس سے اقبال ایک بڑا نکتہ نکالتے ہیں: آدمی کا اصل راز اس کی ظاہری حرکت میں نہیں، اس مطلوب میں ہے جس کے لیے وہ حرکت اختیار کرتا ہے۔ اگر مطلوب سچا ہو تو صحرا بھی تربیت گاہ بن جاتا ہے، اور اگر مطلوب نہ ہو تو آباد شہر بھی آوارگی سے بھر سکتا ہے۔
آوارگی یا تلاش:
دنیا اکثر ہر غیر معمولی حرکت کو آوارگی سمجھ لیتی ہے، خاص طور پر جب وہ عام حسابوں میں نہ سمائے۔ لیکن اقبال ہمیں سکھاتے ہیں کہ حرکت کا فیصلہ اس کی ظاہری صورت سے نہیں، اس کے مدعا سے کیا جائے۔ قیس صحرا میں تھا، مگر اس کے قدموں کے پیچھے عشق کا مرکز تھا۔ اسی لیے اس کی آوارگی دراصل جستجو تھی۔
یہ نکتہ بہت اہم ہے، کیونکہ ملت کی قربانیاں، ہجرتیں، مجاہدے اور علمی سفر بھی بسا اوقات عام نگاہ کو غیر معمولی یا بے فائدہ معلوم ہو سکتے ہیں۔ مگر اگر ان کے پیچھے زندہ مقصد ہو تو وہی حرکت تاریخ ساز بن جاتی ہے۔
لیلیٰ کا محمل:
اقبال نے لیلیٰ کے بجائے “محملِ لیلیٰ” کہا، اس میں لطیف معنی ہے۔ عاشق ہر نشان، ہر گزرگاہ، ہر نسبت اور ہر اثر میں اپنے محبوب کی جھلک تلاش کرتا ہے۔ یعنی مقصد کبھی صرف آخری حصول کا نام نہیں ہوتا، اس کے آثار اور نسبتیں بھی انسان کی حرکت کو زندہ رکھتی ہیں۔
یہی بات ملی زندگی میں بھی سچ ہے۔ بڑی منزل کے راستے میں آنے والے چھوٹے آثار، جزوی کامیابیاں، نشانیاں اور قربتیں انسان کو ثابت قدم رکھتی ہیں۔ مقصد جتنا بڑا ہو، اس کی نشانیاں بھی دل کے لیے محرک بن جاتی ہیں۔
عشق اور نظم:
اقبال کے ہاں عشق بے ترتیب دیوانگی نہیں۔ وہ مقصد والی آگ ہے۔ قیس کا صحرا میں نکل جانا اسی لیے بے معنٰی نہیں کہ اس کے دل میں لیلیٰ کا واضح مطلوب ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سچا عشق انسان کو پھیلاتا نہیں، سمیٹتا ہے۔ ظاہراً قدم بہت ہوں، مگر ان سب کی سمت ایک ہی ہوتی ہے۔
یہی اقبال کی فلسفیانہ قوت ہے کہ وہ معروف عشقیہ داستان سے بھی ملی اور روحانی سبق نکال لیتے ہیں۔ مقصد کے بغیر دیوانگی تباہی بن سکتی ہے، مگر مقصد کے ساتھ عشق زندگی کی سب سے بڑی محرک قوت بن جاتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا میں لوگ بہت دوڑ رہے ہیں، بہت سفر کر رہے ہیں، بہت بول رہے ہیں، بہت جڑ رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان سب حرکتوں کے پیچھے مدعا کیا ہے۔ اگر مدعا نہ ہو تو شہر کی مصروفیت بھی صحرا کی آوارگی سے زیادہ خالی ہو سکتی ہے۔ اقبال اس شعر میں ہمیں اپنے قدموں کا باطنی مرکز تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
یہ شعر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ جس قوم کے پاس بڑا مطلوب ہو، اس کی قربانیاں اور بے آرامیاں فضول نہیں جاتیں۔ بسا اوقات راستہ کٹھن، تنہائی بھرا اور صحرائی ہوتا ہے، مگر اگر دل میں لیلیٰ کا محمل ہو تو یہی سفر معنی سے بھر جاتا ہے۔ اقبال اسی بامقصد سفر کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک محقق برسوں ایک سوال کے پیچھے بھٹکتا ہوا دکھائی دیتا ہے مگر اس کے دل میں واضح مسئلہ موجود ہوتا ہے، ویسے ہی سچی جستجو ظاہری پراگندگی کے باوجود باطنی یکسوئی رکھتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ ظاہری آوارگی بھی اگر زندہ مدعا رکھتی ہو تو دراصل جستجو بن جاتی ہے۔ قیس کی مثال سے وہ سکھاتے ہیں کہ حرکت کی سچائی اس کے ظاہری ہنگامے میں نہیں، اس کے مطلوب میں ہوتی ہے۔
