رموز بے خودی

جوی اشک از چشم بیخوابش چکید

جوی اشک از چشم بیخوابش چکید

تا پیام «طهرابیتی» شنید

ترجمہ

اس کی بے خواب آنکھوں سے آنسوؤں کی نہر بہہ نکلی، جب اس نے “میرے گھر کو پاک کرو” کا پیغام سنا۔

تشریح

علامہ اقبال یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی اس رقت، بیداری اور جواب دہی کو دکھاتے ہیں جو انہیں محض معمار یا بزرگ نہیں رہنے دیتی بلکہ خدا کے حکم پر لرز اٹھنے والی شخصیت بنا دیتی ہے۔ “طهرابیتی” کا اشارہ قرآن کے اس حکم کی طرف ہے کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔ شعر کے مطابق:

بی خوابی کا راز:

یہ بی خوابی صرف جسمانی جاگنا نہیں، بلکہ روحانی بیداری کی علامت ہے۔ جو شخص بڑی ذمہ داری اٹھاتا ہے، وہ غفلت کی نیند میں نہیں رہ سکتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دل ملت، عبادت گاہ اور آئندہ نسلوں کی ذمہ داری سے اس قدر وابستہ ہے کہ ان کی آنکھیں جاگتی ہیں، ان کا باطن متوجہ رہتا ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی بیداری رسالت کے ماحول کو جنم دیتی ہے۔ غافل دل نہ گھرِ خدا کا معنی سمجھ سکتا ہے، نہ ملت کی تعمیر کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔

اشکوں کی نہر:

“جوی اشک” کی ترکیب بتاتی ہے کہ یہ رقت سطحی یا وقتی نہیں، بلکہ گہری اور مسلسل ہے۔ خدا کا حکم سننا یہاں رسمی فرمان سن لینا نہیں، بلکہ ایسا تجربہ ہے جو دل کو پانی کر دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے لیے عبادت گاہ کی تطہیر محض عمارت کا معاملہ نہ تھا، بلکہ ایک عہد اور ایک امانت تھی۔

جب انسان کے دل میں حکمِ حق کی عظمت جاگ جائے تو آنکھ خشک نہیں رہتی۔ اقبال اسی باطنی نرمی کو نمایاں کر رہے ہیں۔

“میرے گھر” کی نسبت:

کعبہ کو “بیتی” کہنا نسبتِ شرف کی علامت ہے۔ یہ مٹی اور پتھر کی عمارت نہیں رہتی بلکہ خدا کی طرف منسوب مرکز بن جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے اس مرکز کو پاک کرنا ایک ایسی ذمہ داری بن جاتی ہے جس میں عبادت، خدمت، تعظیم اور آئندہ ملت کی بنیاد سب شامل ہو جاتے ہیں۔

اقبال اس نکتے سے بتاتے ہیں کہ رسالت کی فضا میں مقدس مراکز محض یادگار نہیں بلکہ زندہ ذمہ داریاں ہوتے ہیں۔

تطہیر کا وسیع مفہوم:

گھر کی پاکی صرف ظاہری صفائی نہیں۔ اس میں شرک سے پاکی، باطل سے پاکی، نفس پرستی سے پاکی، اور عبادت کے مقصد کو خالص رکھنے کی جدوجہد بھی شامل ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس حکم کو پورے وجود سے سنتے ہیں، اس لیے ان کے اشک محض جذبات نہیں، ایک گہری ذمہ داری کا اظہار ہیں۔

یہی تطہیر بعد میں امت کی روحانی زندگی کا مرکز بن جاتی ہے، کیونکہ جو گھر پاک ہوگا وہ دلوں کو بھی پاکی کی طرف بلائے گا۔

ہمارے لیے سبق:

یہ شعر پوچھتا ہے کہ ہم پر جب کوئی دینی ذمہ داری آتی ہے تو ہمارے دل کا حال کیا ہوتا ہے؟ کیا ہم اسے رسمی کام سمجھ کر نبٹا دیتے ہیں، یا اس میں خدا کی نسبت اور امت کی امانت دیکھتے ہیں؟ اقبال چاہتے ہیں کہ دین کے بڑے کام دل میں رقت، آنکھ میں نمی اور باطن میں بیداری پیدا کریں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اشک ہمیں سکھاتا ہے کہ سچی تعمیر ہمیشہ سچے خوف اور سچی محبت سے شروع ہوتی ہے۔

مثال

اگر کسی شخص کو کسی امانت دار ادارے، مسجد یا مدرسے کی ذمہ داری ملے اور وہ اسے صرف انتظامی منصب نہ سمجھے بلکہ عبادت اور جواب دہی کا معاملہ جانے، تو اس کے انداز میں سنجیدگی خود بخود آ جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے گھر کی تطہیر کا حکم محض سنا نہیں بلکہ دل سے محسوس کیا۔ ان کی بیداری، اشک اور جواب دہی رسالت کی فضا کی حقیقی علامتیں ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button