دهر سیلی بر بنا گوشش کشید
دهر سیلی بر بنا گوشش کشید
زندگی خون گشت و از چشمش چکید
ترجمہ
زمانے نے اس کے کان پر طمانچہ مارا، اور اس کی زندگی خون بن کر آنکھوں سے ٹپکنے لگی۔
تشریح
اس شعر میں اقبال زوال کی ذلت اور درد کو ایک نہایت تیز، مختصر اور لرزا دینے والی تصویر میں سمو دیتے ہیں۔ پچھلے شعر میں وہ اس قوم کی اصل عظمت یاد دلا چکے تھے کہ وہ رسولوں کی آغوش میں پلی بڑھی تھی، اور اب یہاں دکھاتے ہیں کہ جب ایسی قوم اپنے مرکز اور جمعیت سے محروم ہوئی تو زمانے نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ “دهر سیلی بر بنا گوشش کشید” میں ایک ایسی توہین کا نقشہ ہے جو صرف شکست نہیں بلکہ اہانت، بے بسی اور حیثیت کے مجروح ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ جب تک قوم کے پاس اپنی باطنی طاقت، وحدت اور مرکز موجود ہو، زمانہ اسے آسانی سے رسوا نہیں کر پاتا۔ مگر جب اندر کا توازن بکھر جائے تو بیرونی دنیا کا تھپڑ بھی ناقابلِ برداشت بن جاتا ہے۔
دوسرے مصرعے میں اقبال اور زیادہ گہرا دکھ دکھاتے ہیں۔ “زندگی خون گشت و از چشمش چکید” میں گویا پوری قومی حیات ایک زخم بن گئی ہے۔ آنکھ سے خون ٹپکنا صرف گریہ نہیں، شدید کرب اور مسلسل اذیت کی علامت ہے۔ زندگی، جو حرارت، نمو اور امید کا نام تھی، اب خون میں بدل کر رس رہی ہے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایسا تنزل ہے جس میں قوم کی باطنی طاقت درد میں تبدیل ہو گئی۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان زوال کے مسئلے کو صرف سیاسی یا عسکری شکست کے طور پر نہ دیکھے؛ اصل سانحہ وہ ہوتا ہے جب زندگی کی شیرینی اور توانائی دکھ اور خون چکاں حالت میں ڈھل جائے۔
زمانے کا تھپڑ:
زمانہ سب کے لیے یکساں نہیں ہوتا۔ جس کے اندر استحکام ہو، وہ آزمائش کو تجربہ بنا لیتا ہے؛ جس کے اندر کم زوری ہو، وہی آزمائش ذلت بن جاتی ہے۔ اقبال “سیلی” کے لفظ سے یہ بتاتے ہیں کہ زوال یافتہ قوم دنیا کے سامنے وقار کے ساتھ کھڑی نہیں رہتی بلکہ اس کی بے بسی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ زمانہ اسے جھڑک بھی سکتا ہے۔ یہ تصویر دل دہلا دینے والی ہے، کیونکہ یہاں شکست سے بڑھ کر رسوائی نمایاں ہے۔
یہی نکتہ افراد پر بھی صادق آتا ہے۔ جو شخص اپنی خودی، اصول اور مرکز سے کٹ جائے، دنیا اس کے ساتھ بھی بے وقعت سلوک کرنے لگتی ہے۔ اقبال ملت کے پردے میں فرد کا قانون بھی سمجھا دیتے ہیں۔
زندگی کا خون بن جانا:
خون زندگی کا بھی نشان ہے اور زخم کا بھی۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ زندگی خون بن کر آنکھ سے ٹپکی تو وہ یہ بتاتے ہیں کہ حیات اپنی اصل مثبت قوت میں باقی نہیں رہی، بلکہ درد اور ضیاع کی صورت اختیار کر گئی۔ قوم کی قوت اگر تعمیر، علم، اخلاق اور جمعیت میں نہ ڈھلے تو وہ یا تو ضائع ہوتی ہے یا رنج میں بدل جاتی ہے۔
آنکھ کا ذکر اس لیے بھی معنی خیز ہے کہ آنکھ شعور، ادراک اور بیداری کی علامت ہے۔ گویا یہاں صرف جسم زخمی نہیں، شعور بھی زخم خوردہ ہے۔ قوم اپنے حال پر روتی بھی ہے اور اپنا خون بہاتا ہوا بھی دیکھتی ہے۔
ذلت کی جڑیں:
اقبال کے نزدیک بیرونی ذلت کی جڑ ہمیشہ اندرونی کم زوری میں ہوتی ہے۔ جب مرکز کھو جائے، جمعیت ٹوٹ جائے، اور روحانی وفاداری سرد پڑ جائے تو زمانے کی سختی بڑھ جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مظلوم پر سارا الزام ڈال دیا جائے، بلکہ یہ کہ عزت کی بحالی کے لیے صرف دشمن کو کوسنا کافی نہیں؛ اپنی داخلی خرابی کو بھی سمجھنا ہوگا۔
یہ شعر اس لحاظ سے اصلاحی ہے کہ وہ زوال کو ایک اخلاقی اور روحانی مسئلے کے طور پر سمجھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر ہم صرف نتائج دیکھیں گے تو علاج ہاتھ نہیں آئے گا، مگر اگر اس کے اسباب تک پہنچیں گے تو واپسی کی راہ پیدا ہو سکتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی بہت سی جماعتیں اور قومیں بظاہر وسائل رکھتی ہیں، مگر اندر سے منتشر ہونے کے باعث ذلت کا شکار رہتی ہیں۔ ان کے پاس زبان ہے مگر وزن نہیں، طاقت ہے مگر اثر نہیں، تاریخ ہے مگر سمت نہیں۔ اقبال کا شعر یاد دلاتا ہے کہ اگر زندگی خون بن کر رسنے لگے تو اس کی جڑیں باطن میں تلاش کرنی چاہییں۔ صرف حالات کو کوسنے سے کچھ نہیں بنتا۔
مسلمان کے لیے یہ پیغام اور زیادہ سنجیدہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ زمانہ ہمیں تھپڑ مارنے کی جرأت نہ کرے تو ہمیں اپنے اندر وہ قوت پیدا کرنی ہوگی جو مرکز، جمعیت، کردار اور زندہ ایمان سے آتی ہے۔ وقار اندر سے بنتا ہے، پھر باہر محفوظ رہتا ہے۔
مثال
جیسے ایک مضبوط عمارت پر آندھی صرف شور مچاتی ہے مگر کھوکھلی دیوار کو تھپڑ کی طرح توڑ دیتی ہے، ویسے ہی باطنی کم زوری قوم کو زمانے کے سامنے ذلیل کر دیتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں زوال کی ذلت کو نہایت دردناک تصویر میں دکھاتے ہیں۔ جب قوم اپنا باطنی مرکز کھو دیتی ہے تو زمانہ اسے رسوا کرتا ہے اور اس کی زندگی تعمیر کے بجائے خون چکاں کرب میں بدلنے لگتی ہے۔