رموز بے خودی

فرد را شرع است مرقات یقین

فرد را شرع است مرقات یقین

پخته تر از وی مقامات یقین

ترجمہ

فرد کے لیے شریعت یقین تک پہنچنے کی سیڑھی ہے، اور یقین کے مقامات اسی سے زیادہ پختہ ہوتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال فرد کی روحانی ترقی اور شریعت کے تعلق کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ شریعت فرد کے لیے “مرقاتِ یقین” ہے، یعنی وہ زینہ ہے جس کے ذریعے انسان شک، غفلت، بے سمتی اور سطحیت سے نکل کر یقین کے مدارج تک پہنچتا ہے۔ پھر دوسری سطر میں وہ مزید کہتے ہیں کہ یقین کے مقامات اسی شریعت کے ذریعے زیادہ پختہ ہوتے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کے نزدیک باطنی کمال شریعت کے خلاف نہیں بلکہ اسی کے راستے سے پیدا ہوتا ہے۔ شعر کے مطابق:

مرقاتِ یقین کا مفہوم:

“مرقات” یعنی سیڑھی یا زینہ۔ شریعت یہاں بوجھ یا محض پابندی کے طور پر نہیں آئی، بلکہ ایک اوپر اٹھانے والے وسیلے کے طور پر آئی ہے۔ بندگی کے آداب، نماز، روزہ، حلال و حرام، ذکر، معاملات، طہارت، ادب اور حدود سب فرد کو سنوارتے سنوارتے اس کے دل کو اس مقام تک لے جاتے ہیں جہاں ایمان رائے نہیں رہتا بلکہ یقین بننے لگتا ہے۔

اقبال کا یہ تصور شریعت کو روحانی ترقی کا رفیق بنا دیتا ہے، رکاوٹ نہیں۔

یقین کے مدارج:

یقین ایک ہی لمحے میں مکمل نہیں ہوتا۔ دل میں ابتدا میں علم آتا ہے، پھر عمل سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، پھر مجاہدہ، عبادت، اخلاق اور صدق سے وہ گہرا ہو کر حال اور مقام بنتا ہے۔ اقبال کے نزدیک شریعت اسی تدریجی پختگی کا ماحول بناتی ہے۔ اگر زندگی بے قاعدہ ہو تو یقین جذباتی دعویٰ بن کر رہ جاتا ہے، مگر منظم شریعت اسے راسخ کرتی ہے۔

گویا یقین کے مقامات کسی بے ضابطہ الہام سے نہیں، بلکہ مسلسل طاعت سے پکتے ہیں۔

باطن اور عمل کا تعلق:

یہ شعر اس غلط فہمی کو بھی دور کرتا ہے کہ باطن کی ترقی کے لیے ظاہری ضابطہ کم اہم ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ فرد کا یقین پختہ تر اسی راستے سے ہوتا ہے۔ یعنی عمل دل کو بناتا ہے، ادب شعور کو نکھارتا ہے، اور اطاعت اندرونی استحکام پیدا کرتی ہے۔ شریعت کے بغیر یقین کی عمارت یا تو ناتمام رہتی ہے یا کمزور۔

اس لیے جو شخص یقین کا طالب ہو اسے شریعت کے زینے سے گزرنا ہی پڑے گا۔

انفرادی تربیت کی حکمت:

فرد کو شریعت اس لیے بھی درکار ہے کہ انسانی نفس خود بخود یقین پیدا نہیں کرتا۔ نفس خواہش، سہولت، رائے، جذبات اور غفلت کی طرف مائل ہوتا ہے۔ شریعت اس کو ایک ترتیب دیتی ہے، نفس کو توڑتی ہے، اور دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہی تربیت آہستہ آہستہ علم کو حال اور حال کو مقام میں بدلتی ہے۔

یوں شریعت فرد کے باطن میں ایک پائیدار دینی ساخت قائم کرتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ یقین چاہتے ہیں مگر نظم نہیں، روحانیت چاہتے ہیں مگر شریعت کے زینے سے گزرنا نہیں چاہتے۔ اقبال انہیں یاد دلاتے ہیں کہ پختہ یقین شارٹ کٹ سے نہیں بنتا۔ نماز، ذکر، دیانت، حلال رزق، پاکیزہ اخلاق اور بندگی کی پابندیاں ہی وہ زینے ہیں جن سے دل اوپر اٹھتا ہے۔

یہ شعر فرد کو صبر کے ساتھ شریعت کے اندر چل کر یقین کی تلاش سکھاتا ہے۔

مثال

جیسے بلند منزل تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں، ویسے ہی یقین کے مدارج تک پہنچنے کے لیے شریعت کے زینے سے گزرنا پڑتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں شریعت کو فرد کے لیے یقین تک پہنچنے کی سیڑھی قرار دیتے ہیں۔ روحانی پختگی اور قلبی یقین اسی منظم اطاعت سے مضبوط ہوتے ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button