رموز بے خودی

از کلاه و بوریا تاج و سریر

از کلاه و بوریا تاج و سریر

فقر او از خانقاهان باج گیر

ترجمہ

اس نے ٹوپی اور بوریا ہی سے گویا تاج اور تخت بنا لیا ہے، اور اس کا فقر خانقاہوں سے خراج وصول کرنے والا بن گیا ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال اس جعلی یا بگڑے ہوئے فقر پر سخت تنقید کرتے ہیں جو اپنی اصل سادگی، بے نیازی اور خدا کی طرف انقطاع کھو کر ایک نیا اقتدار بن جاتا ہے۔ “کلاه و بوریا” زاہدانہ سادگی، قناعت اور درویشی کی علامت ہیں۔ مگر اقبال کہتے ہیں کہ جب یہی چیزیں “تاج و سریر” بن جائیں تو سمجھو فقر اپنی حقیقت سے ہٹ چکا ہے۔ یعنی درویشی کا لباس رہ گیا ہے، مگر اس کے پیچھے اقتدار، نفوذ، منصب، اور دوسروں پر بالا دستی کی ایک نئی نفسیات پیدا ہو گئی ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ اس کا فقر خانقاہوں سے باج لینے لگا ہے، یعنی وہ فقر اب بوجھ اتارنے کے بجائے خود ایک نظامِ مفاد بن گیا ہے۔ شعر کے مطابق:

کلاه و بوریا کی اصل علامت:

کلاه اور بوریا اپنے اندر انکسار، فقیری، سادگی اور دنیا سے بے نیازی کا مفہوم رکھتے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو بظاہر معمولی، بے زرق اور کم قیمت نظر آتی ہیں۔ حقیقی فقر میں یہی سادگی عزت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے پیچھے دل کی آزادی اور خدا کی طرف خالص توجہ ہوتی ہے۔

اقبال کو اصل فقر سے کوئی دشمنی نہیں۔ ان کے ہاں فقر ایک بلند مقام ہے، مگر وہ ایسا فقر چاہتے ہیں جو خودی کو قوی کرے، بندگی کو خالص کرے، اور باطل کے سامنے بے نیاز رکھے۔

تاج و سریر بن جانا:

جب درویشی کی علامتیں ہی اقتدار کی صورت اختیار کر لیں تو خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ یعنی فقر کا ظاہری لباس تو باقی ہے، مگر وہ انسان کے لیے خدا کی راہ نہ رہا بلکہ لوگوں پر وقار جمانے، تقدس بیچنے، اور ایک روحانی اشرافیہ قائم کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ بوریا اب بوریا نہیں رہا، تخت بن گیا؛ اور ٹوپی اب سادگی کی نہیں، تاج کی علامت بن گئی۔

یہی الٹ پھیر اقبال کو بے چین کرتی ہے۔ روحانی فقر اگر دنیاوی امارت کے نئے سانچے میں ڈھل جائے تو اس کا زہر بسا اوقات دنیاوی بادشاہت سے بھی زیادہ گہرا ہو سکتا ہے۔

فقر کا باج گیر ہونا:

“باج گیر” نہایت سخت تعبیر ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ فقر اب خانقاہوں سے خراج لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خانقاہ، جو اصل میں تربیت، ذکر، اصلاحِ نفس اور روحانی پاکیزگی کی جگہ ہونی چاہیے تھی، وہ کسی جگہ مفاد، وابستگی، نذرانے، مریدی کے استحصال یا بے جا تقدس کے نیٹ ورک میں بدل گئی۔

اس طرح فقر انسان کو آزاد کرنے کے بجائے نئے انحصار پیدا کرتا ہے۔ وہ فقر جسے جھوٹی سلطنتوں کو توڑنا تھا، خود چھوٹی سلطنت بن بیٹھا ہے۔

اقبال کا اصل اعتراض:

اقبال کے اعتراض کا مرکز صوفیانہ الفاظ یا خانقاہ کی اصل روایت نہیں، بلکہ اس کا بگڑا ہوا معاشرتی اور نفسیاتی روپ ہے۔ اگر فقر انسان کو خود احتسابی، جرأت، سچائی اور قرآن کی طرف لے جائے تو وہ اقبال کے نزدیک قیمتی ہے۔ لیکن اگر فقر ذریعۂ اقتدار، سہولت، یا دوسروں سے خراج لینے کی صورت بن جائے تو وہ اپنی حقیقت کھو دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال بار بار فقر کو قرآن، عشق، اور خودی سے جوڑتے ہیں، نہ کہ محض خانقاہی شکلوں سے۔

امت کے لیے پیغام:

امت کی زندگی میں دینی یا روحانی قیادت کا مقام بہت اہم ہے۔ اگر یہی طبقہ دنیا سے بے نیاز ہونے کے بجائے تقدس کے نام پر طاقت جمع کرنے لگے تو امت کی روحانی صحت خراب ہو جاتی ہے۔ لوگ سچائی کے بجائے ظاہری نسبتوں میں الجھ جاتے ہیں، اور قرآن کے زندہ معیار کے بجائے شخصیات کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔

اقبال چاہتے ہیں کہ امت فقر کی اصل اور اس کی نقل میں فرق کرے، تاکہ وہ تقدس کے لباس میں چھپے ہوئے اقتدار کو پہچان سکے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی مذہبی دنیا میں سادگی کی علامتوں کے ساتھ اقتدار، مالی مفاد، گروہی بالا دستی یا مریدانہ انحصار جڑ جاتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ اصل سوال لباس یا عنوان کا نہیں، بلکہ روح کا ہے۔ کیا یہ فقر آزاد کرتا ہے یا تابع بناتا ہے؟ کیا یہ قرآن کی طرف لے جاتا ہے یا ایک نئے روحانی دربار کی طرف؟

اگر امت کو صحیح تجدید چاہیے تو اسے فقر کی اس بگڑی ہوئی صورت سے بچنا ہوگا اور اس درویشی کو اپنانا ہوگا جو سادگی میں بھی باج گیر نہیں، بلکہ خدا کے سوا ہر باج سے آزاد ہو۔

مثال

جیسے کوئی خدمت کا ادارہ اگر خدمت کے نام پر ہی اپنے لیے اقتدار اور فائدہ جمع کرنے لگے تو اس کی اصل روح مر جاتی ہے، ویسے ہی فقر بھی جب بے نیازی چھوڑ کر مفاد کا نظام بن جائے تو وہ فقر نہیں رہتا۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں اس بگڑے ہوئے فقر پر تنقید کرتے ہیں جو سادگی کے نام پر اقتدار بنا لیتا ہے اور خانقاہی نسبت کو خراج لینے کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اصل فقر وہ ہے جو انسان کو آزاد کرے، نہ کہ نئی سلطنت بن جائے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button