رموز بے خودی

جنتی جستند در بئس القرار

جنتی جستند در بئس القرار

تا «احلوا قومهم دار البوار»

ترجمہ

لوگوں نے ایک بری جائے قرار میں جنت تلاش کی، یہاں تک کہ اپنی قوموں کو ہلاکت کے گھر میں لے آئے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں وطن پرستی کے فریب کو نہایت قرآنی شدت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسانوں نے ایسی جگہ جنت ڈھونڈنی چاہی جو حقیقت میں “بئس القرار” یعنی بری ٹھہرنے کی جگہ تھی۔ مراد یہ ہے کہ انہوں نے نجات، عزت، امن اور خوش حالی کو ایک ایسے محدود قومی نظریے میں تلاش کیا جو دراصل تباہی کا سبب بننے والا تھا۔ دوسرے مصرعے میں قرآنی تعبیر “احلوا قومهم دار البوار” کے ذریعے وہ اس انجام کو اور نمایاں کرتے ہیں کہ یہ غلط رہنمائی اپنی قوموں کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:

جنتی جستند:

یہاں “جنت” آرام، امن، ترقی، عزت اور مثالی اجتماعی زندگی کی علامت ہے۔ ہر قوم اور ہر انسان کسی نہ کسی جنت کا خواہاں ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ اسے کہاں ڈھونڈتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جدید سیاسی ذہن نے یہ جنت وطن کے محدود تصور میں تلاش کی، گویا یہ سمجھ لیا کہ اگر وطن ہی سب کچھ بن جائے تو انسان کی تمام ضرورتیں پوری ہو جائیں گی۔

جھوٹی جنت کی پہچان یہ ہے کہ وہ انسان کو بڑا کرنے کے بجائے اس کا افق تنگ کر دیتی ہے۔

بئس القرار:

یہ تعبیر بہت اہم ہے۔ “قرار” وہ جگہ ہے جہاں ٹھہراؤ، امن اور اطمینان ہونا چاہیے، مگر اقبال کہتے ہیں کہ یہ ٹھہرنے کی جگہ بری نکلی۔ یعنی جو نظریہ امن کا وعدہ کر رہا تھا، وہ اصل میں بے امنی پیدا کرنے والا تھا۔ وطن پرستی بظاہر نظم، وفاداری اور استحکام کا وعدہ کرتی ہے، مگر جب وہ انسانیت اور اخلاق سے کٹ جائے تو یہی قرار اضطراب کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔

غلط جگہ کا سکون بھی دراصل ایک مؤخر بے چینی ہوتا ہے۔

احلوا قومهم دار البوار:

یہ قرآنی فقرہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ گمراہ قیادتیں اپنی قوموں کو ہلاکت کے گھر میں لے جاتی ہیں۔ اقبال اس سے واضح کرتے ہیں کہ وطن پرستی محض فکری غلطی نہیں، عملی تباہی کا راستہ بھی بن سکتی ہے۔ اگر قوم کا شعور تنگ مفاد، قومی غرور اور سرحدی خود پرستی میں ڈھل جائے تو وہ جنگ، دشمنی، نفرت اور مسلسل کشمکش کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔

فکری انحراف جب اجتماعی مزاج بن جائے تو اس کا انجام صرف نظری نہیں رہتا۔

جھوٹی نجات کا مسئلہ:

اقبال اس شعر میں یہ بنیادی بات سمجھاتے ہیں کہ نجات کا مقام غلط چن لیا جائے تو پوری اجتماعی زندگی بگڑ جاتی ہے۔ اگر قوم سمجھنے لگے کہ اس کی کامیابی صرف اپنی زمین کی بڑائی، اپنی نسل کی فوقیت یا اپنے مفاد کی حفاظت میں ہے، تو وہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں سے دور ہو جاتی ہے۔ ایسی قوم وقتی طور پر طاقتور بھی ہو جائے تو اندر سے بربادی کے بیج اٹھائے پھرتی ہے۔

غلط مرکز پر بنی کامیابی دیر سے اپنی قیمت وصول کرتی ہے، مگر ضرور کرتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سے معاشرے یہ سمجھتے ہیں کہ اگر قومی مفاد محفوظ ہو تو ہر چیز درست ہے، چاہے انصاف مجروح ہو، انسانیت زخمی ہو یا سچائی پیچھے رہ جائے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ایسی جنت دراصل بئس القرار ہے۔ ترقی، امن اور عزت کا راستہ تنگ قومی خود پرستی سے نہیں، بلکہ عدل، اخوت، اخلاقی بصیرت اور بڑی انسانی ذمہ داری سے نکلتا ہے۔

اسلامی خودی اس جنت سے دھوکا نہیں کھاتی جو دوسروں کی بربادی یا روح کی تنگی پر قائم ہو۔

مثال

اگر کوئی ریاست اپنی عظمت کے نام پر ایسا نظام بنا لے جو دوسرے انسانوں کی حرمت پامال کرے، مسلسل جنگ کو ناگزیر سمجھے، یا اپنے شہریوں کو بھی خوف اور نفرت پر پالے، تو بظاہر وہ جنت ڈھونڈ رہی ہے مگر حقیقت میں دار البوار کی طرف بڑھ رہی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک وطن پرستی میں نجات اور جنت تلاش کرنا ایک خطرناک فریب ہے۔ ایسا راستہ بظاہر امن اور عزت کا وعدہ کرتا ہے مگر انجام کار قوموں کو ہلاکت، کشمکش اور اخلاقی بربادی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button