علم اسما اعتبار آدم است
علم اسما اعتبار آدم است
حکمت اشیا حصار آدم است
ترجمہ
ناموں کا علم آدم کا اعتبار اور وقار ہے، اور اشیا کی حکمت آدم کا حصار اور حفاظت ہے۔
تشریح
یہ شعر اس پورے حصے کا فیصلہ کن خلاصہ ہے۔ اقبال پہلے بتا چکے ہیں کہ انسان کیوں پسماندہ ہوتا ہے، کیوں آوارگی میں بھٹکتا ہے، کیوں دوسروں کو باج دیتا ہے، اور کیوں معنی کی لیلیٰ اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ اب وہ اصل جواب سامنے رکھتے ہیں: “علم اسما” اور “حکمت اشیا”۔ “علم اسما” براہِ راست قرآن کے اس واقعے کی یاد دلاتا ہے جس میں آدم علیہ السلام کو نام سکھائے گئے۔ اقبال کے نزدیک اس کا مطلب محض الفاظ یاد کر لینا نہیں، بلکہ شناخت، شعور، مفہوم، تصور آفرینی، اور حقیقتوں کو پہچاننے کی وہ صلاحیت ہے جو انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ یہی آدم کا “اعتبار” ہے، یعنی اس کا وقار، اس کی علمی شان، اور اس کی خلافتی اہلیت۔
دوسری سطر “حکمت اشیا حصار آدم است” اس علمی شرف کو عملی تحفظ سے جوڑ دیتی ہے۔ اشیا کی حکمت یعنی دنیا کے قوانین، قوتوں، ساختوں، ربطوں، اور ان کے صحیح استعمال کا علم۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہی آدم کا “حصار” ہے، یعنی قلعہ، دفاع، حفاظت، اور بقا کا ذریعہ۔ گویا آدم کی عزت صرف نظری علم سے نہیں بنتی، اور اس کی حفاظت صرف جذبات سے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے چیزوں کی حکمت سمجھنا، قدرتی اور تمدنی نظم کی زبان جاننا، اور دنیا کے ساتھ ایک باخبر، فعال اور تخلیقی تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔ یہی اقبال کا بڑا نکتہ ہے۔
علم اسما:
نام سیکھنا دراصل چیزوں کو پہچاننا ہے۔ جب انسان کسی شے کو نام دیتا ہے تو وہ اسے بے شکل افراتفری سے نکال کر مفہوم، شعور اور علم کے دائرے میں لے آتا ہے۔ یہی انسانی عقل کی بنیاد ہے: تمیز، شناخت، تصنیف، اور معنی کی ترتیب۔ اقبال کے نزدیک آدم کی بڑائی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔
یہی علم انسان کو صرف حیاتی وجود نہیں رہنے دیتا بلکہ عاقل، ناطق، اور عالم وجود بناتا ہے۔ اگر یہ علم کمزور ہو تو آدم کی خلافت بھی کمزور ہو جاتی ہے، کیونکہ اسے پھر نہ اپنے آپ کی صحیح پہچان رہتی ہے نہ دنیا کی۔
اعتبارِ آدم:
اعتبار وقار، وزن، اور باعزت مقام کا نام ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ آدم کا یہ وقار نسل، رنگ، یا محض جسمانی ساخت سے نہیں آتا، بلکہ علم سے آتا ہے۔ یعنی انسان کی اصل عزت اس کی شعوری اور معنوی اہلیت میں ہے۔
یہ ایک بہت بڑا انسانی اعلان بھی ہے۔ جس معاشرے میں علم مر جائے وہاں آدمی کا اعتبار بھی کم ہونے لگتا ہے۔ وہ دوسروں کے نقشے لیتا ہے، دوسروں کے نام دہراتا ہے، اور اپنی اصل خلافتی شان سے دور ہو جاتا ہے۔ اقبال اسی زوال کے خلاف آدمی کو اس کے علمی مرتبے کی یاد دلاتے ہیں۔
حکمت اشیا:
اشیا کی حکمت سے مراد صرف ان کا ظاہری استعمال نہیں بلکہ ان کے اندر کے قوانین، ان کے باطن کے ربط، اور ان سے خیر پیدا کرنے کی عقل ہے۔ یہ حکمت سائنس بھی ہے، صنعت بھی، فنی تدبیر بھی، تمدنی شعور بھی، اور ایک ایسی عملی دانائی بھی جو دنیا کو صحیح طریقے سے برت سکے۔
اقبال نے “علم اسما” کے ساتھ “حکمت اشیا” لا کر بہت اہم فرق واضح کیا ہے۔ صرف مفہوم جان لینا کافی نہیں، چیزوں سے کام لینا بھی آنا چاہیے۔ شناخت کے بعد تسخیر اور تدبیر آتی ہے۔ یہی انسان کی تکمیل ہے۔
حصارِ آدم:
حصار قلعہ بھی ہے اور حفاظت بھی۔ اقبال کا مطلب یہ ہے کہ جو قوم اشیا کی حکمت نہیں جانتی وہ بے حصار رہتی ہے۔ اس پر دوسروں کی علمی، معاشی، تکنیکی، اور تہذیبی یلغار آسان ہو جاتی ہے۔ لیکن جو اس حکمت سے آشنا ہو، اس کے گرد حفاظت کی دیوار قائم ہونے لگتی ہے۔
یہ حصار صرف دفاعی نہیں، تعمیری بھی ہے۔ آدم کی بقا، اس کی خودی، اس کی آزادی، اور اس کی تہذیبی شان اسی حکمت سے محفوظ رہتی ہے۔ اس لیے اقبال کے نزدیک یہ مسئلہ عیش یا فخر کا نہیں، وجودی ضرورت کا مسئلہ ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج اگر امت اپنے وقار، آزادی اور بقا کی بات کرتی ہے تو اسے اسی شعر میں اپنا نسخہ مل سکتا ہے۔ علم کے بغیر اعتبار نہیں، اور حکمتِ اشیا کے بغیر حصار نہیں۔ محض ماضی کے افتخار، جذباتی نعرے، یا اخلاقی شکایتیں اس کمی کو پورا نہیں کر سکتیں۔
یہ شعر امت کو ایک جامع پروگرام دیتا ہے: شناخت کا علم، اشیا کی حکمت، اور ان دونوں کی بنیاد پر آدمی اور قوم کی عزت و حفاظت۔ اقبال اس حصے کے آخر میں یہی بتا کر گویا پوری بحث کو ایک قرآنی اور تمدنی انجام دے دیتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک معمار کو نقشہ سمجھنے کا علم بھی چاہیے اور عمارت کھڑی کرنے کی فنی حکمت بھی، ویسے ہی انسان کو وقار کے لیے مفہوم کا علم اور بقا کے لیے اشیا کی دانائی دونوں درکار ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں اس پورے حصے کا مرکزی سبق سمیٹ دیتے ہیں: آدم کی عزت علم سے ہے اور اس کی حفاظت اشیا کی حکمت سے۔ یہی علم و حکمت انسان کی خلافت، آزادی اور تمدنی بقا کی بنیاد ہیں۔