رموز بے خودی

«لا نبی بعدی» ز احسان خداست

«لا نبی بعدی» ز احسان خداست

پرده ی ناموس دین مصطفی است

ترجمہ

“میرے بعد کوئی نبی نہیں” اللہ کے احسانوں میں سے ہے، اور یہ مصطفیٰ کے دین کی حرمت و عزت کی حفاظت کرنے والا پردہ ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ختمِ نبوت کو محض ایک نظری حد بندی کے طور پر نہیں بلکہ خدا کے احسان اور دینِ مصطفوی کی حفاظت کے پردے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک “لا نبی بعدی” امت کے لیے رکاوٹ نہیں بلکہ تحفظ، وقار اور استحکام کی عظیم نعمت ہے۔ شعر کے مطابق:

احسان کیوں کہا:

اگر ختمِ نبوت کو صرف اختتام سمجھا جائے تو انسان سوال کر سکتا ہے کہ اس میں نعمت کا پہلو کیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ احسان ہے، کیونکہ اس کے ذریعے دین کو ایک مکمل، محفوظ اور مستحکم مرکز مل گیا۔ اب حق کی میزان بکھرتی نہیں، معیار بار بار بدلتا نہیں، اور امت کو ہر عہد میں نئے مدعیوں کے پیچھے بھٹکنا نہیں پڑتا۔

گویا ختمِ نبوت نے ہدایت کو ایک یقینی اور محفوظ مرکز عطا کیا۔

پردۂ ناموس دین:

ناموس عزت، حرمت اور پاکیزگی کو کہتے ہیں۔ پردہ یہاں حفاظت کی علامت ہے۔ اقبال کے نزدیک “لا نبی بعدی” ایسا حصار ہے جو دینِ مصطفوی کو تحریف، بے جا اضافوں، اور جھوٹے دعووں کے سیلاب سے بچاتا ہے۔ اگر یہ پردہ نہ ہو تو ہر مدعی اپنی نئی راہ، نئی وحی یا نئے مرکز کے دعوے سے امت کو توڑ سکتا ہے۔

اس لیے ختمِ نبوت صرف عقیدہ نہیں، دینی وحدت اور امانت کی حفاظت کا قلعہ بھی ہے۔

مرکز کا استحکام:

جب ایک امت کے پاس ایک آخری، قطعی اور محفوظ نبوی مرکز ہو تو اس کی علمی اور روحانی بنیاد مضبوط رہتی ہے۔ اختلافات کے باوجود رجوع کا مقام واضح رہتا ہے۔ اقبال اسی استحکام کو احسان کہتے ہیں۔ یہ امت کو انتشار کے بے شمار امکانات سے بچاتا ہے۔

مرکز کے تحفظ کے بغیر نہ شریعت محفوظ رہتی ہے، نہ ملت، نہ تہذیب۔

دفاع سے بڑھ کر شکر:

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ ختمِ نبوت کو صرف مناظرانہ موضوع نہ بنایا جائے۔ اسے پہلے شکر کی نظر سے سمجھنا چاہیے: اللہ نے اپنے دین کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ دروازہ بند کر دیا۔ اس کے بعد امت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس امانت کے مطابق علم، اخلاق اور وحدت کی حفاظت کرے۔

اگر ہم اسے صرف نعرہ بنا دیں اور اس کے تقاضوں کو نہ سمجھیں تو شعر کی روح ہم سے دور رہ جائے گی۔

آج کے لیے رہنمائی:

آج جب فکری انتشار، خود ساختہ روحانی دعوے، اور مذہبی اتھارٹی کے بکھرے ہوئے ماڈل عام ہیں، اقبال کی بات اور زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ “لا نبی بعدی” امت کو یاد دلاتا ہے کہ حق کا مرکز واضح ہے، اور اسی وضاحت میں دین کی عزت بھی ہے اور امت کا استحکام بھی۔

یہ عقیدہ اس وقت پوری طرح زندہ ہوگا جب ہم اسے احسان سمجھ کر اس کے تحفظ اور اس کے تقاضوں دونوں کو نبھائیں۔

مثال

کسی آئینی نظام میں اگر اصل دستور محفوظ اور قطعی ہو تو ہر شخص اپنی مرضی کا نیا بنیادی قانون نافذ نہیں کر سکتا۔ یہی استحکام پورے نظام کو بچاتا ہے۔ دین کے باب میں ختمِ نبوت اس سے کہیں زیادہ بلند اور فیصلہ کن حقیقت ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک “لا نبی بعدی” خدا کا عظیم احسان ہے، کیونکہ یہ دینِ مصطفوی کی عزت، مرکزیت اور وحدت کی حفاظت کرتا ہے۔ ختمِ نبوت استحکام، تحفظ اور شکر کی حقیقت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button