رموز بے خودی

کودک ما چون لب از شیر تو شست

کودک ما چون لب از شیر تو شست

لااله آموختی او را نخست

ترجمہ

جب ہمارا بچہ تیرا دودھ چھوڑنے کے قابل ہوا تو تو نے سب سے پہلے اسے توحید کا سبق سکھایا۔

تشریح

اس شعر میں اقبال عورت کے تربیتی کردار کو اس کی بلند ترین شکل میں دکھاتے ہیں۔ بچہ جسمانی غذا پہلے ماں سے لیتا ہے، مگر اقبال یہ بتاتے ہیں کہ مسلمان ماں کا کام صرف جسم کو پالنا نہیں بلکہ روح کو بھی سمت دینا ہے۔ “لب از شیر شست” کا مطلب یہ ہے کہ جب بچہ ابتدائی طبعی پرورش کے مرحلے سے آگے بڑھتا ہے، تو اس کے شعور پر پہلا نقش ماں ہی ڈالتی ہے۔ اور وہ پہلا نقش کیا ہے؟ “لا الہ”۔ یعنی دنیا میں قدم رکھتے ہی اس کی شناخت توحید، بندگی، اور خدا شناسی سے وابستہ کی جاتی ہے۔

یہاں “لا الہ” صرف ایک لفظی سبق نہیں بلکہ پوری فکری بنیاد ہے۔ اس میں انکار بھی ہے اور اقرار بھی؛ باطل معبودوں سے انکار اور ایک خدا کی بندگی کا اقرار۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ اگر یہ سبق بچپن ہی میں دل پر ثبت ہو جائے تو آگے چل کر انسان کی شخصیت میں خودداری، حریت، حق شناسی، اور اخلاقی استقامت پیدا ہوتی ہے۔ ماں اس لیے ملت کی پہلی معلمہ ہے کہ وہ بچے کے اندر سب سے پہلے یہی بنیادی سچ اتارتی ہے کہ جھکنا صرف خدا کے سامنے ہے۔

ماں بطور پہلی معلمہ:

اقبال کے نزدیک ماں بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔ زبان، لہجہ، خوف، محبت، دعا، اور یقین سب سے پہلے اسی کے ذریعے بچے کے اندر اترتے ہیں۔

اس لیے اگر ماں خود ایمانی شعور رکھتی ہو تو اس کا اثر بچے پر عمر بھر قائم رہتا ہے۔

لا الہ کا پہلا سبق:

“لا الہ” انسان کو باطل سہاروں، جھوٹے خداؤں، اور نفس کے غرور سے آزاد کرتا ہے۔ یہ جملہ بچے کے شعور کو ابتدا ہی سے صحیح مرکز عطا کرتا ہے۔

اقبال اسی لیے کہتے ہیں کہ مسلمان بچے کو سب سے پہلے یہی کلمہ سکھانا چاہیے، کیونکہ اسی سے اس کی پوری شخصیت کی سمت متعین ہوتی ہے۔

تربیت کا اولین زمانہ:

بچپن وہ مرحلہ ہے جب لفظ محض سنے نہیں جاتے بلکہ دل پر نقش ہو جاتے ہیں۔ جو بات اس عمر میں پیار، عادت، اور تکرار کے ساتھ دی جائے وہ شخصیت کی بنیاد بن جاتی ہے۔

ماں اگر اس وقت بچے کو توحید، دعا، سچائی، اور حلال و حرام کی پہچان دے تو دین زندگی بھر اس کے ساتھ چلتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بچوں کو ابتدائی عمر سے بہت سی مہارتیں سکھانے پر زور دیا جاتا ہے، مگر ایمان کی بنیاد اکثر بعد کے لیے چھوڑ دی جاتی ہے۔ اقبال کا پیغام اس کے برعکس ہے: پہلا سبق شخصیت کا سب سے اہم سبق ہوتا ہے۔

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر اگلی نسل کو خوددار، باایمان، اور حق شناس بنانا ہے تو ماؤں کی زبان سے توحید کی خوشبو بچپن ہی سے ان کے دلوں میں اترنی چاہیے۔

مثال

جیسے عمارت کی سمت بنیاد رکھتے وقت طے ہو جاتی ہے، ویسے ہی بچے کی فکری سمت اس پہلے سبق سے متعین ہوتی ہے جو اسے ماں کے لبوں سے ملتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں ماں کو ملت کی پہلی معلمہ قرار دیتے ہیں جو بچے کے شعور پر سب سے پہلے توحید کا نقش قائم کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button