سازها خوابیده اندر سوز او
سازها خوابیده اندر سوز او
دوش و فردا زاده ی امروز او
ترجمہ
اس کے سوز کے اندر بہت سے ساز سوئے پڑے ہیں، اور اس کا کل اور اس کا فردا دونوں اس کے آج سے پیدا ہوتے ہیں۔
تشریح
یہ شعر اقبال کے تصورِ حیات کا نہایت جامع بیان ہے۔ پہلے مصرعے میں وہ کہتے ہیں کہ اس کے سوز کے اندر بہت سے ساز سوئے ہوئے ہیں، اور دوسرے مصرعے میں یہ فرماتے ہیں کہ اس کا دوش اور فردا دونوں اس کے امروز سے جنم لیتے ہیں۔ گویا زندگی کے اندر چھپی ہوئی امکانات کی دنیا بھی ہے اور اس کے وقت کی تخلیقی کارگاہ بھی۔ “سوز” میں حرارت، درد، طلب اور اندرونی بیداری ہے، جبکہ “ساز” ان صلاحیتوں، صورتوں اور نغموں کی علامت ہیں جو ابھی پوری طرح ظاہر نہیں ہوئے مگر اس سوز کے اندر مخفی موجود ہیں۔ اقبال کے نزدیک حیات ایک خالی حرکت نہیں، بلکہ باطن میں سوئے ہوئے بے شمار امکانات کا منبع ہے۔
دوسرا مصرعہ اس تصور کو وقت کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ زندگی کا ماضی اور مستقبل دونوں اس کے آج سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امروز محض ایک گزرنے والا لمحہ نہیں بلکہ ایک خلاق مرکز ہے۔ جو کل گزر گیا اور جو فردا آنا ہے، دونوں کا رشتہ آج کے زندہ شعور اور عمل سے ہے۔ اس لیے اقبال کے نزدیک حیات کا اصل مقام امروز ہے۔ اگر آج مردہ ہو جائے تو ماضی بوجھ بن جاتا ہے اور مستقبل دھندلا جاتا ہے۔ اگر امروز بیدار ہو تو دوش بھی معنی پاتا ہے اور فردا بھی روشنی پاتا ہے۔
سوز کے اندر سوئے ہوئے ساز:
یہ ترکیب بہت غیر معمولی ہے۔ عام طور پر ہم ساز کو نغمے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، مگر اقبال کہتے ہیں کہ وہ ساز ابھی سوئے ہوئے ہیں اور ان کا بستر خود سوز ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی اصل قوتیں اپنی باطنی حرارت کے اندر چھپی ہوئی رہتی ہیں، اور مناسب وقت، مناسب فضا یا مناسب بیداری کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک دل میں علم کا ساز، خدمت کا ساز، محبت کا ساز، جرات کا ساز، اور دعا کا ساز سب پوشیدہ ہو سکتے ہیں، مگر ان کے جاگنے کے لیے اندر سوز چاہیے۔
یہی ملت کی سطح پر بھی درست ہے۔ ایک قوم کے اندر بہت سے ساز سوئے ہوتے ہیں: ادب، فن، سیاست، اخلاق، تہذیب، روحانیت، علم، صنعت، خدمت۔ اگر اس کا سوز زندہ ہو تو یہ سب ایک ایک کر کے جاگ سکتے ہیں۔ مگر اگر سوز بجھ جائے تو ساز بھی خاموش رہتے ہیں، خواہ وہ موجود ہی کیوں نہ ہوں۔
امروز کی تخلیقی حیثیت:
“دوش و فردا زاده ی امروز او” اقبال کی زمانہ فہمی کا خلاصہ ہے۔ ماضی اور مستقبل کہیں باہر سے نہیں آتے، زندہ امروز ان دونوں کو معنی دیتا ہے۔ آج کے اندر وہ قوت ہے جو گزرے ہوئے کل کو حافظہ، سبق، روایت یا سرمایہ بنا سکتی ہے؛ اور وہی قوت آنے والے فردا کو امید، منصوبہ، عمل اور تعمیر میں بدل سکتی ہے۔ اگر امروز کمزور ہو تو دوش ملال بن جاتا ہے اور فردا خیالی آرزو۔
یہ شعر انسان کو حال پرستی کی سطحی دعوت نہیں دیتا بلکہ امروز کی ذمہ داری سمجھاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماضی کو بھول جاؤ یا مستقبل کی فکر نہ کرو، بلکہ یہ کہ دونوں کو زندہ آج کے ذریعے برتو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں زندگی وقت کی محض شکار نہیں رہتی، وقت کی خلاق عامل بن جاتی ہے۔
سوز، ساز اور وقت کا ربط:
اس شعر میں باطن، اظہار اور زمانہ تینوں ایک لڑی میں بند گئے ہیں۔ اندر سوز ہے، سوز میں ساز سوئے ہیں، اور ان سازوں کے جاگنے کا میدان امروز ہے۔ گویا آج کا لمحہ تبھی تخلیقی بنتا ہے جب اس کے پیچھے سوز ہو اور اس کے اندر سے ساز ابھرنے کی صلاحیت ہو۔ اقبال کے نزدیک یہی زندہ زندگی ہے: باطن میں حرارت، زمانے میں شعور، اور اظہار میں نغمہ۔
یہ نکتہ اس پوری بخش کے مرکزی موضوع سے بھی جڑتا ہے۔ چونکہ زندگی اس طرح اپنے امروز میں خود کو مرتب کرتی ہے، اس لیے اسے ایسا مرکز بھی چاہیے جو اس کے وقت، اس کے سوز اور اس کی جمعی سمت کو بکھرنے نہ دے۔ اقبال کی بیت الحرام والی بحث اسی سمت بڑھے گی، مگر یہاں وہ پہلے حیات کی اندرونی ساخت سمجھا رہے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم یا تو اپنے ماضی میں کھوئے رہتے ہیں یا اپنے مستقبل کے خوف میں۔ اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ اصل میدان امروز ہے۔ اگر آج کے اندر سوز زندہ ہو، تو سوئے ہوئے ساز جاگ سکتے ہیں اور ماضی و مستقبل دونوں نئی معنویت پا سکتے ہیں۔ اس لیے فرد کو بھی اور ملت کو بھی اپنے امروز کو بے مقصد گزرنے نہیں دینا چاہیے۔
یہ شعر امید سے بھرا ہوا ہے۔ اگر آج ہمارے اندر سب کچھ ظاہر نہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ کچھ ہے ہی نہیں۔ ممکن ہے بہت سے ساز ابھی سوئے ہوں۔ اگر سوز باقی ہے تو وہ جاگ سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ماضی بکھرا ہوا ہے یا مستقبل دھندلا ہے، تو بھی امروز کی بیداری سے دونوں کی نئی تعمیر ممکن ہے۔ اقبال اسی بیدار امروز کی دعوت دیتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک ماہر موسیقار کے دل میں کئی دھنیں پوشیدہ ہوتی ہیں مگر مناسب لمحے پر جا کر بجتی ہیں، ویسے ہی زندگی کے سوز کے اندر بہت سے ساز اور امکانات سوئے ہوتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ زندگی کے باطن میں سوئے ہوئے امکانات موجود رہتے ہیں اور اس کا ماضی و مستقبل دونوں اس کے بیدار امروز سے معنی پاتے ہیں۔ سوز، ساز اور امروز مل کر زندہ حیات کی تخلیقی قوت بناتے ہیں۔