رموز بے خودی

در گلوی ما نفس موج هواست

در گلوی ما نفس موج هواست

چون هوا پابند نی گردد ، نواست

ترجمہ

ہمارے گلے میں سانس محض ہوا کی ایک موج ہے، لیکن جب یہی ہوا بانسری کے پابند ہو جاتی ہے تو نغمہ بن جاتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں پچھلے مضمون کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مادہ ایک ہی ہو سکتا ہے، مگر اس کی صورت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ کس نظم میں داخل ہوتا ہے۔ سانس اپنی اصل میں ہوا ہے، ایک لہر ہے، ایک گزر جانے والی حرکت ہے۔ مگر جب یہی ہوا بانسری کے سوراخوں، ساخت اور ترتیب کے اندر سے گزرتی ہے تو نوا پیدا ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک انسانی قوت، خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اسی اصول کے تابع ہے: پابندی اگر صحیح ہو تو وہ قوت کو کم نہیں کرتی بلکہ اسے معنی، حسن اور اثر عطا کرتی ہے۔ شعر کے مطابق:

نفس بطور موجِ ہوا:

اقبال پہلے یہ یاد دلاتے ہیں کہ خام حالت میں انسان کی بہت سی قوتیں ابھی صرف امکان ہیں۔ سانس جب تک بے سمت ہے، صرف ہوا ہے؛ نہ اس میں نغمہ ہے، نہ ترتیب، نہ مستقل اثر۔ اسی طرح جذبات، خواہشات، خیالات اور صلاحیتیں اپنی خام صورت میں محض موجیں ہیں۔ وہ موجود ضرور ہیں، مگر ابھی ان کی تخلیقی شکل متعین نہیں ہوئی۔

اس نکتے سے اقبال یہ بتاتے ہیں کہ ہر طاقت اپنی اصل حالت میں کامل نہیں ہوتی۔ اسے ایک صورت چاہیے، ایک تربیت چاہیے، ایک راستہ چاہیے۔

نی کی پابندی:

“پابند نی” کا مفہوم بہت گہرا ہے۔ نی ایک حد بھی ہے اور ایک آلہ بھی۔ وہ ہوا کو روکتی بھی ہے، سمت بھی دیتی ہے، اور اس کے بہاؤ کو ایسی ساخت میں داخل کرتی ہے جہاں سے نغمہ پیدا ہو سکے۔ اگر کوئی شخص صرف آزادی کو خیر سمجھے تو وہ اس شعر کو نہیں سمجھ پائے گا۔ اقبال کے نزدیک ہر پابندی قید نہیں ہوتی؛ بعض پابندیاں تخلیق کی شرط ہوتی ہیں۔

نی کے بغیر ہوا بے معنی گزر جاتی ہے، اور نی کے ساتھ وہی ہوا اثر، حسن اور روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ یہی حال ملت کے آئین کا ہے۔

نوا کی پیدائش:

نوا دراصل منظم قوت کی آواز ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں خام مادہ معنی دار صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان یہ سمجھیں کہ ان کی قوت، ان کی تعداد، ان کے وسائل اور ان کے جذبات اس وقت تک حقیقی تاثیر نہیں رکھتے جب تک وہ کسی ربانی آئین کے تابع نہ ہوں۔ پابندی نوا کو جنم دیتی ہے، بے قیدی صرف ہوا کو ہوا رہنے دیتی ہے۔

یہی اصول تربیت کا بھی ہے۔ انسان کی فطری صلاحیتیں جب اچھے استاد، اچھے ماحول، اچھے مقصد اور درست اصول کے تابع ہوتی ہیں تو وہ اپنی بہترین شکل اختیار کرتی ہیں۔

آزادی اور انضباط:

اقبال آزادی کے مخالف نہیں، مگر وہ ایسی آزادی کے مخالف ہیں جو صورت اور مقصد کھو دے۔ ان کے نزدیک اصل آزادی یہ ہے کہ انسان حق کے تابع ہو کر اپنی منتشر قوتوں کو اعلیٰ معنی میں ڈھال دے۔ جو ہوا نی کے تابع ہو گئی، وہ گم نہیں ہوئی بلکہ بلند تر شکل میں ظاہر ہوئی۔ اسی طرح انسان جب حق کے آئین کا پابند ہوتا ہے تو اس کی شخصیت مٹتی نہیں، نکھرتی ہے۔

اس لیے یہ شعر صرف بانسری کی مثال نہیں، پوری اسلامی تربیت کا اصول ہے: خام قوت کو ربانی نظم میں لا کر نوا بنانا۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان دنیا میں بہت سا مواد رکھتے ہیں: آبادی، جذبات، تاریخ، وسائل، علم اور امکانات۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب نی کے پابند ہیں یا صرف بکھری ہوئی ہوا ہیں۔ اگر قرآن اور سنت کے زندہ آئین کے تحت یہ قوتیں منظم ہوں تو نوا پیدا ہو سکتی ہے، ورنہ شور، تھکن اور بے سمتی بڑھتی رہے گی۔

اقبال کا پیغام واضح ہے: پابندی سے مت گھبراؤ، اگر وہ حق کی پابندی ہو؛ کیونکہ اسی سے تمہاری ہوا نوا میں بدل سکتی ہے۔

مثال

جیسے ایک طالب علم کے اندر ذہانت موجود ہو مگر اگر وہ کسی باقاعدہ نصاب، استاد اور مشق کے تابع نہ ہو تو اس کی صلاحیت پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی، ویسے ہی خام طاقت کو صحیح پابندی ہی اثر میں بدلتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ خام ہوا جب نی کے تابع ہوتی ہے تو نوا بن جاتی ہے۔ اسی طرح انسان اور ملت کی قوت بھی صحیح آئین کی پابندی سے بامعنی، خوبصورت اور مؤثر شکل اختیار کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button