رموز بے خودی

پا نبرده از عدم بیرون هنوز

پا نبرده از عدم بیرون هنوز

از سواد کیف و کم بیرون هنوز

ترجمہ

وہ ابھی عدم سے پوری طرح باہر قدم نہیں رکھ سکے، اور ابھی کیفیت و کمیت کی تاریکی سے بھی باہر نہیں آئے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں امومت کے باب کو ایک نہایت لطیف اور دور رس سمت میں لے جاتے ہیں۔ اب گفتگو صرف موجودہ نسل، موجودہ ماں، یا سامنے آنے والے کردار تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ان امکانات تک پھیل جاتی ہے جو ابھی دنیا میں پوری طرح ظاہر نہیں ہوئے۔ “پا نبرده از عدم بیرون هنوز” سے مراد وہ آئندہ انسان، وہ نسلیں، اور وہ شخصیتیں ہیں جو ابھی وجود کے منظر پر مکمل طور پر نہیں آئیں۔ وہ گویا ابھی عدم اور وجود کے بیچ ایک پوشیدہ مرحلے میں ہیں۔ اقبال اس طرح ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ملت کا سرمایہ صرف وہ نہیں جو نظر آ رہا ہے، بلکہ وہ بھی ہے جو ابھی آنے والا ہے۔

“از سواد کیف و کم بیرون هنوز” اس تصور کو مزید گہرا کرتا ہے۔ “کیف و کم” سے مراد وہ دنیا ہے جس میں چیزیں ناپی، تولی، اور محسوس کی جاتی ہیں۔ کمیت تعداد اور مقدار کی دنیا ہے، اور کیفیت ظاہری حالت و وصف کی۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ آئندہ امکانات ابھی اس دنیا کی پیمائشوں اور ظاہری تعینات میں داخل نہیں ہوئے۔ یعنی وہ ابھی نہ گنے جا سکتے ہیں، نہ ان کی شکل واضح ہے، نہ ان کا پورا اثر سامنے آیا ہے۔ مگر وہ موجود ہیں، بس مخفی صورت میں۔ اس طرح شاعر یہ سمجھاتے ہیں کہ ملت کی اصل قوت کا ایک بڑا حصہ ابھی نہاں ہے، اور یہی نہاں قوتیں امومت کے دامن سے ظاہر ہونے والی ہیں۔

عدم سے قدم نکالنا:

عدم یہاں محض نیستی نہیں بلکہ عدمِ ظہور بھی ہے۔ بہت سی حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو ابھی اپنی مکمل صورت میں ظاہر نہیں ہوتیں، مگر ان کا امکان موجود ہوتا ہے۔ اقبال انہی مخفی امکانات کی بات کر رہے ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعر کی نگاہ صرف حال پر نہیں، مستقبل پر بھی ہے۔ وہ ملت کے اندر ایسے انسانوں کو دیکھ رہے ہیں جو ابھی دنیا کے منظر پر نہیں آئے مگر ان کی تیاری کے اسباب موجود ہیں۔

کیف و کم کی دنیا:

دنیا اکثر انہی چیزوں کو اہم سمجھتی ہے جو گنی جا سکیں، ناپی جا سکیں، یا ظاہری صورت میں دکھائی دیں۔ اقبال اس محدود نظر کو توڑتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقتیں ابتدا میں غیر محسوب اور غیر ظاہر ہوتی ہیں۔

اسی لیے امومت کی عظمت بھی صرف موجودہ پرورش تک محدود نہیں۔ اس کے دامن میں ایسے امکانات چھپے ہوتے ہیں جو ابھی شمار و بیان سے باہر ہیں۔

نسلوں کا مخفی سرمایہ:

ہر قوم کے اندر ایک حصہ موجودہ صورت میں ہوتا ہے اور ایک حصہ آئندہ نسلوں کی صورت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ پوشیدہ حصہ کم اہم نہیں، بلکہ بسا اوقات زیادہ بنیادی ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ماں کی آغوش کو صرف آج کے بچے کی نسبت سے نہ دیکھو، بلکہ کل کے اس انسان کی نسبت سے بھی دیکھو جو ابھی عدم کے پردے میں ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم اکثر صرف فوری نتائج دیکھتے ہیں۔ ہمیں وہی چیز قیمتی لگتی ہے جو فوراً سامنے آ جائے، شمار ہو سکے، یا اپنی نمود دکھا دے۔ اقبال اس جلد بازی کے مقابل ایک صبر آشنا نگاہ دیتے ہیں۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ ملت کی بہت سی بڑی امیدیں ابھی پردۂ امکان میں ہوتی ہیں۔ ان کے ظہور کے لیے امومت، تربیت، اور تہذیبی صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو قوم اپنے پوشیدہ امکانات کی قدر جانتی ہے، وہی اپنے مستقبل کو سنوار سکتی ہے۔

مثال

جیسے زمین کے اندر چھپا ہوا بیج ابھی درخت کی صورت میں دکھائی نہیں دیتا اور نہ اس کی شاخیں گنی جا سکتی ہیں، مگر اس کے اندر پورا باغ پوشیدہ ہو سکتا ہے، ویسے ہی ملت کے آئندہ انسان ابتدا میں عدمِ ظہور کی حالت میں ہوتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ ملت کے بہت سے بڑے امکانات ابھی عدم اور ظہور کے درمیان پوشیدہ ہیں۔ وہ ابھی کیفیت و کمیت کی دنیا میں پوری طرح داخل نہیں ہوئے، مگر انہی مخفی امکانات میں مستقبل کی اصل طاقت چھپی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button