رموز بے خودی

ما ز حکم نسبت او ملتیم

ما ز حکم نسبت او ملتیم

اهل عالم را پیام رحمتیم

ترجمہ

ہم اس کی نسبت کے حکم سے ایک ملت ہیں، اور اہلِ عالم کے لیے رحمت کا پیغام ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں امت کی پہچان اور اس کے مشن دونوں کو ایک ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ہم صرف اس لیے ملت ہیں کہ ہمارا رشتہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بندھا ہے، اور چونکہ یہ نسبت رحمت والی نسبت ہے، اس لیے ہماری موجودگی کا مقصد بھی اہلِ عالم کے لیے رحمت کا پیغام بننا ہے۔ شعر کے مطابق:

نسبتِ نبوی کی حکمیت:

یہ ملت خون، زبان یا خطے کی بنیاد پر نہیں بنی۔ اقبال صاف کہتے ہیں کہ ہم “حکمِ نسبت” سے ملت ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا رشتہ ہمیں ایک بناتا ہے۔ یہ نسبت محض محبت کا جذباتی دعویٰ نہیں، بلکہ ایک ایسی نسبت ہے جو عقیدہ، عبادت، اخلاق، قانون اور طرزِ حیات سب کو یکجا کرتی ہے۔

گویا نبوی نسبت ہی ہماری اصل اجتماعی تعریف ہے۔

ملت اور رحمت کا تعلق:

اگر امت کی نسبت رحمت کے رسول سے ہے تو امت خود بھی قہر، تنگ نظری، نسلی غرور اور محض خود غرض دفاع تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اقبال کے نزدیک ملت کا اصل پیغام عالم گیر رحمت ہے۔ یہ رحمت صرف نرم احساسات نہیں، بلکہ عدل، ہدایت، نجات، خیر خواہی اور انسان کو اس کے اصل مقام تک پہنچانے کی کوشش بھی ہے۔

اس لیے امت کی وحدت کا مقصد صرف اپنا تحفظ نہیں، بلکہ عالم کے لیے خیر بننا ہے۔

اہلِ عالم سے خطاب:

یہاں امت کی نظر صرف اپنے اندر نہیں، باہر بھی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے وجود کو ایک عالمی امانت سمجھیں۔ ان کا اخلاق، ان کا علم، ان کا عدل، ان کا پیغام اور ان کی تہذیب دوسروں کے لیے بھی رحمت کا سبب بنیں۔ اگر امت اپنے دائرے میں بند ہو کر صرف اپنے داخلی مسائل میں گم ہو جائے تو اپنے مشن کا ایک بڑا حصہ کھو دے گی۔

رسالت نے اسے عالم گیر خطاب دیا ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی عالم گیر ہے۔

رحمت کے تقاضے:

رحمت کا دعویٰ آسان ہے، مگر اس کے تقاضے سخت ہیں۔ اس میں علم چاہیے، انصاف چاہیے، تحمل چاہیے، سچائی چاہیے، اور غیر کے لیے خیر خواہی چاہیے۔ اقبال کا مقصود یہ نہیں کہ امت صرف ایک نعرہ دہراتی رہے، بلکہ یہ کہ وہ اپنی اجتماعی سیرت میں واقعۃً رحمت کا مظہر بنے۔

یعنی نبوی نسبت کو صرف نام میں نہیں، کردار میں ظاہر کرنا ہوگا۔

آج کے لیے رہنمائی:

آج جب دنیا مسلمانوں کو یا تو خوف کی علامت سمجھتی ہے یا خود مسلمان اپنی شناخت کو محض دفاعی خول میں بند کر لیتے ہیں، اقبال اس شعر کے ذریعے اصل تعریف واپس دیتے ہیں: تم رحمت کے پیغام بردار ہو۔ اگر تمہاری نسبت نبوی ہے تو تمہارا رویہ، علم، دعوت اور اجتماعی مزاج بھی رحمت سے رنگا ہوا ہونا چاہیے۔

یہی وہ صورت ہے جس میں امت اپنی سچی پہچان دوبارہ پا سکتی ہے۔

مثال

ایک ایسا ڈاکٹر جو صرف فیس لینے کے لیے نہیں بلکہ مریض کی اصل بھلائی کے لیے کام کرے، اپنی مہارت کو رحمت بناتا ہے۔ امت کی حیثیت بھی ایسی ہی امانت والی ہونی چاہیے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امت کی اصل تعریف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نسبت ہے، اور اس نسبت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پوری دنیا کے لیے رحمت کا پیغام بنے۔ نبوی نسبت کو کردار کی رحمت میں ڈھلنا چاہیے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button