ما که توحید خدارا حجتیم
ما که توحید خدارا حجتیم
حافظ رمز کتاب و حکمتیم
ترجمہ
ہم وہ ہیں جو خدا کی توحید کی حجت ہیں، اور کتاب اور حکمت کے راز کے محافظ ہیں۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امتِ مسلمہ کی خود شناسی کو بلند ترین سطح پر لے جاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم توحیدِ خدا کی “حجت” ہیں، یعنی دنیا میں توحید کے ثبوت، اس کے گواہ، اس کے حامل اور اس کے نمائندہ ہیں۔ ساتھ ہی ہم “کتاب و حکمت” کے راز کے محافظ ہیں، یعنی ہمارے پاس صرف الفاظ کا مذہب نہیں بلکہ وحی، فہم، دانائی اور عملی بصیرت کی امانت ہے۔ اس شعر میں امت کے فکر، دعوت اور تہذیبی منصب کا نہایت جامع بیان موجود ہے۔ شعر کے مطابق:
توحید کی حجت ہونا:
حجت ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہمارے پاس توحید کا عقیدہ موجود ہے، بلکہ یہ کہ ہمارے وجود سے توحید کی سچائی ظاہر ہونی چاہیے۔ ہمارے اخلاق، ہمارے تعلقات، ہماری عدالت، ہماری عبادت اور ہماری اجتماعی ساخت اس بات کی دلیل بننی چاہیے کہ ایک خدا کے سامنے جھکنے والی زندگی انسان کو کیسے بدل دیتی ہے۔
اگر امت توحید کی حجت ہے تو اس کا ہر شرک آلود رویہ، ہر ظالمانہ ساخت، ہر جھوٹا نظام اور ہر نفس پرستانہ عادت اس منصب کے خلاف جاتی ہے۔ اقبال اس شعر سے امت کو محض دعوے سے نکال کر گواہی کے درجے پر لاتے ہیں۔
توحید کا اجتماعی معنی:
توحید صرف کلامی مسئلہ نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اقتدار، محبت، خوف، وفاداری، قانون اور مقصد سب آخرکار خدا کے تابع ہوں۔ ایک فرد کے دل میں توحید اس کے نفس کو درست کرتی ہے، اور ایک امت کے اندر توحید اس کی تہذیب کو درست کرتی ہے۔
امت اگر واقعی توحید کی حجت بننا چاہتی ہے تو اسے زندگی کے تمام شعبوں میں اس وحدتِ ربوبیت کے اثرات کو ظاہر کرنا ہوگا۔ تقسیمِ وفاداری، دوغلا اخلاق اور دنیا پرستی کے ساتھ توحید کی گواہی کمزور پڑ جاتی ہے۔
کتاب و حکمت کا راز:
“کتاب” سے مراد وحی، قرآن اور الٰہی ہدایت ہے، جبکہ “حکمت” سے مراد اس ہدایت کی گہری سمجھ، اس کا عملی اطلاق، اور زندگی میں اس کی صحیح ترتیب ہے۔ اقبال کے نزدیک امت کے پاس صرف نصوص کی امانت نہیں بلکہ ان کے معنی، ان کے ربط اور ان کی دانائی کی امانت بھی ہے۔
“رمز” کا لفظ بتاتا ہے کہ کتاب و حکمت کے اندر ایک باطنی ترتیب، ایک گہرا نظامِ معنی اور ایک تہذیبی راز پوشیدہ ہے۔ امت کا کام یہ ہے کہ وہ اس راز کو سمجھے، اس کی حفاظت کرے، اور اسے مردہ رسم میں تبدیل نہ ہونے دے۔
حفاظت کی ذمہ داری:
محافظ ہونا صرف نقل کو محفوظ رکھنا نہیں بلکہ روح کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔ اگر قرآن موجود ہو مگر اس کا عدل گم ہو جائے، اگر سنت کا ذکر ہو مگر اس کی رحمت باقی نہ رہے، اگر حکمت کا نام لیا جائے مگر دانائی کی جگہ تعصب لے لے، تو حفاظت ادھوری رہ جاتی ہے۔
اقبال کے نزدیک امت کا شرف تب قائم ہوتا ہے جب وہ کتاب کو بھی محفوظ رکھے اور حکمت کو بھی؛ نص کو بھی سنبھالے اور اس کے باطنی مقصود کو بھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم، عمل، بصیرت اور تقویٰ اکٹھے ہوتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج امت ایک طرف توحید کا دعویٰ کرتی ہے، مگر دوسری طرف بہت مرتبہ خوف، مفاد، شخصیت پرستی اور دنیا پرستی کے سامنے جھک جاتی ہے۔ اسی طرح کتاب کا ذکر تو بہت ہے مگر حکمت کی کمی شدید ہے۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم صرف ورثہ رکھنے والے نہیں بلکہ حجت اور محافظ ہیں۔
اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری تعلیم توحید کو زندہ اخلاق میں بدلے، اور ہمارا علمی نظام کتاب کو حکمت کے ساتھ جوڑے۔ جب یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوں گی تو امت پھر سے اپنی اصل شان پہچان سکے گی۔
مثال
جیسے ایک قاضی صرف قانون کی عبارت کا حافظ نہیں ہوتا بلکہ اس کے مقصد اور عدل کی روح کا بھی نگہبان ہوتا ہے، ویسے ہی امتِ مسلمہ صرف کتاب کے الفاظ کی وارث نہیں بلکہ توحید کی گواہ اور کتاب و حکمت کے راز کی محافظ ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں امتِ مسلمہ کو توحیدِ خدا کی حجت اور کتاب و حکمت کے راز کی محافظ قرار دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کا منصب صرف عقیدہ رکھنا نہیں بلکہ اپنی زندگی سے اس عقیدے کی صداقت ثابت کرنا، اور وحی کے معنی و دانائی کی امانت کو زندہ رکھنا ہے۔