سفته ایامش درین تار زرند
سفته ایامش درین تار زرند
همچو گوهر از پی یک دیگرند
ترجمہ
اس کے دن اس سنہری تار میں پروئے ہوئے ہیں، جیسے موتی ایک کے بعد ایک لڑی میں جڑے ہوتے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں اقبال پچھلے شعر کے نکتے کو تصویری اور نہایت حسین انداز میں کھولتے ہیں۔ یاد ماضی اور مستقبل کے ربط کو محفوظ رکھتی ہے، اور اب شاعر اسی ربط کو “تار زر” یعنی سنہری ڈوری سے تعبیر کرتا ہے۔ “سفته” کے معنی ہیں پروئے ہوئے، منظم، لڑی میں بندھے ہوئے۔ گویا انسان کے ایام بکھرے ہوئے ذرات نہیں بلکہ ایک داخلی نظم کے اندر جڑے ہوئے اجزا ہیں۔ یہی نظم شخصیت کو وحدت دیتا ہے۔ اگر دن دن سے، تجربہ تجربے سے، اور حال ماضی و مستقبل سے کٹ جائے تو زندگی بکھر جاتی ہے۔
“ہمچو گوہر از پی یک دیگرند” میں موتیوں کی لڑی کا استعارہ اس تسلسل کو نہایت خوب صورتی سے ظاہر کرتا ہے۔ ہر موتی الگ ہے، مگر سب ایک دھاگے میں بندھے ہیں۔ اسی طرح ہر دن اپنے واقعات، احساسات اور احوال کے اعتبار سے جدا ہے، مگر خودی ان سب کو ایک اندرونی نسبت میں جوڑتی ہے۔ اقبال اس تصویر کے ذریعے بتاتے ہیں کہ تشخص کی اصل الگ الگ لمحوں میں نہیں بلکہ ان لمحوں کے مربوط ہونے میں ہے۔ یہی قانون فرد کے لیے بھی ہے اور ملت کے تاریخی وجود کے لیے بھی۔
سنہری تار:
تار زر محض ربط ہی نہیں بلکہ قیمتی ربط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے ایام کو جوڑنے والی قوت ایک معمولی چیز نہیں بلکہ بڑی نعمت ہے۔ یہ قوت اگر باقی رہے تو شخصیت کے اندر وقار، ترتیب اور شناخت پیدا ہوتی ہے۔
اقبال کے نزدیک یہ سنہری تار حافظہ، شعور، اور خودی کا دوام ہے۔ یہی وہ دھاگا ہے جو مختلف احوال کو ایک بڑی داستان کے اندر باندھتا ہے۔
موتیوں کی لڑی:
ہر موتی اپنی جگہ مکمل نظر آتا ہے، مگر لڑی سے کٹ کر وہ صرف ایک دانہ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح زندگی کے الگ الگ واقعات اگر ایک بڑے ربط میں نہ آئیں تو ان کا معنی کم ہو جاتا ہے۔ اقبال کی نگاہ میں انسان کی پختگی یہ ہے کہ وہ اپنے واقعات کو ایک مربوط معنوی تسلسل میں رکھ سکے۔
ملت کے لیے بھی یہی بات درست ہے۔ اس کے تاریخی ادوار، فتوحات، شکستیں، علمی کارنامے، اور روحانی تجربے اسی وقت معنی خیز بنتے ہیں جب وہ ایک زندہ روایت میں جڑے رہیں۔
بکھراؤ اور نظم:
انسان کے اندر بے شمار احوال آتے ہیں: خوشی، غم، خوف، امید، طلب، شکست، عزم۔ اگر ان سب کے درمیان کوئی داخلی نظم نہ ہو تو شعور پریشان اور منتشر رہتا ہے۔ خودی کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ اس تنوع کو وحدت میں بدلے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال کے ہاں وحدت محض نظری بات نہیں، وجودی ضرورت ہے۔ موتیوں کی لڑی انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ تنوع کو مٹانا نہیں، جوڑنا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کی زندگی میں انسان کو اکثر بکھرے ہوئے دن، بکھری ہوئی توجہ اور بکھرے ہوئے تجربات میسر آتے ہیں۔ وہ ایک دن کچھ اور ہوتا ہے، اگلے دن کچھ اور، مگر ان کے درمیان کوئی سنہری ڈوری محسوس نہیں کرتا۔ اس سے اندر خلا اور بے ربطی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنی زندگی کے ایام کو ایک بڑی معنوی لڑی میں دیکھو۔ اپنے تجربات کو جوڑو، ان سے سبق لو، اور انہیں اپنی خودی کے سفر کا حصہ بناؤ۔ اقبال کے نزدیک پختگی یہی ہے کہ زندگی کے موتی بکھرے نہ رہیں بلکہ ایک روشن تار میں پروئے جائیں۔
مثال
جیسے ہار کے دانے الگ الگ خوب صورت ہونے کے باوجود دھاگے کے بغیر زیور نہیں بنتے، ویسے ہی زندگی کے دن خودی کے ربط کے بغیر پوری شخصیت نہیں بناتے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ خودی انسان کے دنوں اور تجربات کو ایک سنہری لڑی میں پرو دیتی ہے۔ یہی باطنی ربط شخصیت کو انتشار سے بچا کر وحدت اور تشخص عطا کرتا ہے۔
