در جهان بانگ اذان بودست و هست
در جهان بانگ اذان بودست و هست
ملت اسلامیان بودست و هست
ترجمہ
دنیا میں اذان کی آواز پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے، اور مسلمانوں کی ملت بھی تھی اور آج بھی موجود ہے۔
تشریح
یہ شعر اقبال کی تاریخ فہمی کا مرکزی اعلان معلوم ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ مصر، روم، ساسانیوں اور دوسری بڑی تہذیبوں کے زوال کا ذکر کرتے ہیں، اور دوسری طرف نہایت اعتماد سے فرماتے ہیں کہ بانگِ اذان دنیا میں تھی بھی اور ہے بھی، اور ملتِ اسلامیہ بھی تھی اور ہے بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی اصل قوت کسی مخصوص سلطنت، نسل، جغرافیے یا وقتی اقتدار میں نہیں، بلکہ اس توحیدی ندا میں ہے جو مسلسل انسانی ضمیر کو بیدار کرتی رہتی ہے۔ شعر کے مطابق:
بانگِ اذان کی معنویت:
اذان صرف نماز کا اعلان نہیں بلکہ توحید، رسالت، فلاح اور بندگی کا جامع پیغام ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ اس کی آواز دنیا میں تھی اور ہے، تو وہ اسلام کی اس زندہ دعوت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو زمانوں کی گرد سے دبتی نہیں۔ سلطنتیں ٹوٹ سکتی ہیں، شہر اجڑ سکتے ہیں، مگر اگر اذان کی ندا باقی ہے تو امت کی روح ابھی زندہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اذان محض ایک عبادتی رسم نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور روحانی شہادت بھی ہے۔ یہ دنیا کو بتاتی ہے کہ خدا کا بندہ ابھی خاموش نہیں ہوا۔
ملت کی بقا:
“ملت اسلامیان بودست و هست” میں تسلسل، ثبات اور زندہ تاریخ تینوں جمع ہیں۔ اقبال کے نزدیک ملت کی حقیقت سیاسی سرحدوں میں مقید نہیں۔ وہ ایک ایمانی رشتہ، ایک اخلاقی مرکز اور ایک مشترک مقصد سے وجود پاتی ہے۔ اسی لیے سلطنتوں کے گرنے سے ملت ختم نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی اصل جڑ دلوں میں ہے، محلات میں نہیں۔
یہ شعر مسلمانوں کو ان کی اصل طاقت یاد دلاتا ہے: اگر وہ اپنے ایمان، دعوت اور اجتماعی شعور کو محفوظ رکھیں تو وقتی شکستیں ان کے وجود کو مٹا نہیں سکتیں۔
تاریخ سے ماورا نہیں، مگر تاریخ سے بڑی:
ملت اسلامیہ تاریخ کے اندر رہتی ہے، آزمائشوں سے گزرتی ہے، کمزور بھی ہوتی ہے، مگر اس کی اصل نسبت وحی سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کی طرح محض ایک تاریخی باب بن کر ختم نہیں ہوتی۔ اس کی بقا اس حقیقت سے بندھی ہے کہ اس کا مرکز اللہ کا کلمہ ہے، نہ کہ محض نسلی یا قومی شناخت۔
اقبال اسی لیے بانگِ اذان کو ملت کے وجود کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ جب تک یہ صدا زندہ ہے، امت کا امکان بھی زندہ ہے۔
مایوسی کا رد:
یہ شعر ہر اس ذہنیت کی تردید کرتا ہے جو مسلمانوں کے حالیہ ضعف کو دیکھ کر ان کے تاریخی خاتمے کا اعلان کر دیتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ نہیں، یہ ملت ابھی باقی ہے، کیونکہ اس کے باطن میں ابھی بھی اذان کی صدا موجود ہے۔ مسئلہ کمزوری کا ہو سکتا ہے، غفلت کا ہو سکتا ہے، مگر وجود کے خاتمے کا نہیں۔
یہ امید اندھی خوش فہمی نہیں بلکہ ایک روحانی حقیقت پر مبنی یقین ہے۔ ملت کی بقا اس کی ربانی نسبت میں پیوست ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان اگر اپنی صورتحال سے پریشان ہوں تو انہیں اپنی اصل علامتوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اذان کا مطلب صرف آواز سننا نہیں بلکہ اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی بنانا ہے: اللہ کی کبریائی، بندگی، فلاح، جماعت اور مسلسل یاد۔ جب یہ معانی اجتماعی زندگی میں تازہ ہوں گے تو ملت کا وجود بھی زیادہ روشن اور مؤثر نظر آئے گا۔
اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ امت کی بقا کا راز اس کے زندہ شعائر اور زندہ ایمان میں ہے۔ اگر اذان صرف مینار سے نہیں بلکہ دل سے بھی بلند ہو تو ملت ہمیشہ نئی تاریخ لکھ سکتی ہے۔
مثال
جیسے کسی دریا کا راستہ کبھی تنگ، کبھی پھیلا ہوا، کبھی شوریدہ اور کبھی خاموش دکھائی دے، مگر اس کا سرچشمہ جاری ہو تو دریا ختم نہیں ہوتا، ویسے ہی اذان کی صدا امت کے وجود کا وہ سرچشمہ ہے جو اسے باقی رکھتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں اعلان کرتے ہیں کہ بانگِ اذان اور ملتِ اسلامیہ دونوں زمانوں سے گزر کر بھی باقی ہیں۔ اس بقا کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی اصل بنیاد وقتی اقتدار نہیں بلکہ توحیدی ندا، ایمانی رشتہ اور وحی سے وابستہ زندہ روح ہے۔