گوشتابش دہ کہ گردد نغمہ خیز
گوشتابش دہ کہ گردد نغمہ خیز
بر فلک از نالہ آرد رستخیز
ترجمہ
اسے کھینچ اور تناؤ دے تاکہ وہ نغمہ خیز ہو جائے، پھر اس کی آہ فلک تک ایک قیامت برپا کر دے گی۔
تشریح
علامہ اقبال پچھلے شعر کے بعد یہاں اس کا علاج بتاتے ہیں۔ اگر تارِ چنگ خوف سے نرم پڑ گیا ہے تو اسے دوبارہ کشنا ہوگا۔ یہی کشیدگی، یہی حوصلہ، یہی باطنی تناؤ اس ساز کو دوبارہ نغمہ خیز بنائے گا۔ پھر اس کی آواز معمولی نہیں رہے گی، بلکہ آسمان تک اثر ڈالنے والی صدا بن جائے گی۔ شعر کے مطابق:
کشش کی ضرورت:
“گوشتابش دہ” یعنی اسے کھینچ، اسے مضبوط کر، اسے وہ تناؤ دے جس سے اس کی اصل آواز پیدا ہو سکے۔ اقبال کے نزدیک شخصیت، فکر اور امت کے ساز کو بھی ایسی ہی کشیدگی چاہیے۔ یہ کشیدگی سستی کے خلاف بیداری، خوف کے خلاف جرات، اور پراگندگی کے خلاف جمعیت ہے۔
اگر زندگی میں یہ کشش نہ ہو تو آواز کمزور پڑتی ہے۔ جو کچھ کہنا تھا وہ پورے طور پر نہیں کہا جاتا، جو کچھ کرنا تھا وہ پوری طاقت سے نہیں ہوتا۔
نغمہ خیزی کا مفہوم:
نغمہ خیز ہونا صرف خوب صورت آواز پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس صلاحیت کا جاگ اٹھنا ہے جو پہلے دب گئی تھی۔ اقبال کے نزدیک انسان کے اندر ایک ایسا نغمہ موجود ہے جو حق، خیر، خدمت، فکر، عشق اور حیات کا نغمہ ہو سکتا ہے۔ مگر وہ تبھی ابھرتا ہے جب خوف کی ڈھیل ختم ہو اور شخصیت میں دوبارہ استحکام آ جائے۔
اس لیے نغمہ خیزی دراصل خودی کی بازیافت بھی ہے۔ یعنی انسان اپنے اصل سچ، اپنی اصل آواز اور اپنی اصل قوت سے دوبارہ آشنا ہو جاتا ہے۔
نالہ جو رستخیز لائے:
دوسرے مصرع میں اقبال شدت بڑھاتے ہیں۔ جب یہ ساز درست ہو جائے گا تو اس کا نالہ معمولی نہیں ہوگا، بلکہ “بر فلک” جا کر “رستخیز” برپا کرے گا۔ یہ مبالغہ نہیں، بلکہ اس حقیقت کا بیان ہے کہ جب کسی دل کی آواز سچ، سوز اور قوت کے ساتھ نکلتی ہے تو وہ زمانوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
یہی وہ آواز ہے جو قومیں جگاتی ہے، دل بدلتی ہے، اور نئی تاریخ کے دروازے کھول سکتی ہے۔ اقبال کی نظر میں بیدار نالہ محض شکایت نہیں، تخلیقی اور انقلابی صدا ہے۔
توحید اور انقلابی صدا:
اقبال کے نزدیک یہ کشش اور یہ نغمہ خیزی توحید سے جڑی ہے۔ جب دل خدا کے ساتھ مضبوط ہو تو اس کے نالے میں سوز بھی ہوتا ہے اور وقار بھی۔ ایسی صدا محض جذباتی شور نہیں ہوتی، بلکہ ایک ربانی وزن رکھتی ہے۔ اسی لیے وہ آسمان تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ تعلیم فرد کو بھی اپنے باطن کو مضبوط کرنے کی دعوت دیتی ہے اور امت کو بھی اپنی اجتماعی آواز کو دوبارہ حق کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی۔
قوموں پر اطلاق:
ایک امت اگر اپنے تار کشیدہ کرے، اپنے دل سے خوف نکالے، اور اپنے باطن میں سوز اور یقین پیدا کرے تو اس کی تہذیبی اور فکری آواز دنیا میں نئی لہر پیدا کر سکتی ہے۔ اقبال یہی چاہتے ہیں کہ امت اپنی مردہ یا کمزور آواز پر اکتفا نہ کرے، بلکہ اسے اس درجہ زندہ کرے کہ وہ زمانے کے جمود کو توڑنے والی صدا بن جائے۔
پس یہ شعر علاج، احیا اور انقلاب تینوں کو ایک ہی استعارے میں جمع کرتا ہے۔
مثال
ایک سازندہ جب اپنے ساز کے تار درست تناؤ میں لاتا ہے تو وہی آلہ جو پہلے کمزور آواز دے رہا تھا، اچانک پورے مجمع کو اپنے سحر میں لے لیتا ہے۔ انسان اور قوم کی آواز بھی اسی طرح درست داخلی کشیدگی چاہتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق خوف سے ڈھیلا پڑا ہوا ساز دوبارہ کشش پائے تو نغمہ خیز ہو جاتا ہے، اور اس کی صدا فلک تک اثر ڈال سکتی ہے۔ یہی کشیدگیِ روح فرد اور ملت دونوں کی بیداری کا ذریعہ ہے۔


