رموز بے خودی

هر که رمز مصطفی فهمیده است

هر که رمز مصطفی فهمیده است

شرک را در خوف مضمر دیده است

ترجمہ

جس نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو سمجھ لیا ہے، اس نے خوف کے اندر چھپا ہوا شرک بھی دیکھ لیا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال `بخش ۶` کے اختتام پر نہایت بلند اور فیصلہ کن نتیجہ پیش کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کا راز سمجھ لے، وہ یہ بھی سمجھ جاتا ہے کہ غیر اللہ کا خوف محض نفسیاتی کمزوری نہیں بلکہ اس کے اندر شرک کا ایک پوشیدہ عنصر بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ شعر پورے باب کا خلاصہ اور نقطۂ عروج ہے۔ شعر کے مطابق:

رمزِ مصطفیٰ کا مفہوم:

“رمزِ مصطفیٰ” سے مراد صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ نہیں، بلکہ آپ کی تعلیمِ توحید، آپ کی دعوتِ آزادی، آپ کے اعتماد علی اللہ، اور آپ کے اسوۂ مبارکہ کی گہری روح کو سمجھنا ہے۔ جس نے یہ راز پا لیا وہ جان لیتا ہے کہ بندگی کا حقیقی مطلب اللہ کے سوا ہر باطل اقتدار، ہر جھوٹے خوف، اور ہر قلبی غلامی سے آزادی ہے۔

یعنی نبوی پیغام کا لبِ لباب یہ ہے کہ دل کا مرکز صرف خدا ہو۔ اگر یہ مرکز بدل جائے تو بندگی کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔

خوف میں چھپا ہوا شرک:

اقبال یہاں ایک نہایت نازک مگر گہری بات کرتے ہیں۔ وہ نہیں کہتے کہ ہر طبیعی احتیاط شرک ہے، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ وہ خوف جو دل کو اس طرح گھیر لے کہ انسان حق کے بجائے مخلوق کے حکم پر چلے، خدا کے بجائے لوگوں کے ردعمل سے زیادہ ڈرے، اور رب کے بجائے دنیاوی قوتوں کو فیصلہ کن سمجھے، اس کے اندر شرک کا ایک چھپا ہوا رنگ موجود ہے۔

کیونکہ شرک صرف بت پرستی کی ظاہری صورت نہیں، دل کی وہ کیفیت بھی ہے جس میں غیر اللہ کو وہ وزن دیا جائے جو اصل میں صرف اللہ کو حاصل ہونا چاہیے۔

مضمر شرک کی پہچان:

“مضمر” یعنی چھپا ہوا، پوشیدہ۔ اقبال کا زور اس بات پر ہے کہ خوف ہمیشہ کھلے کفر یا واضح انکار کی صورت میں نہیں آتا، بلکہ اندر چھپ کر دل کی ترجیحات بدل دیتا ہے۔ انسان نماز بھی پڑھ سکتا ہے، ذکر بھی کر سکتا ہے، مگر اگر اس کا فیصلہ، اس کی غیرت، اس کی صداقت اور اس کا وقار غیر اللہ کے خوف سے مسلسل دب رہا ہو تو اسے اپنے باطن کی اس تہہ تک اترنا ہوگا۔

یہ خود احتسابی ہی اقبال کی مطلوب بیداری ہے۔ وہ ظاہری دینداری کے ساتھ باطنی توحید کا مطالبہ کرتے ہیں۔

نبوی تربیت اور آزادی:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرت توحیدی آزادی کی تعلیم دیتی ہے۔ آپ نے دلوں کو غیر اللہ کے خوف سے نکالا، غلاموں کو عزت دی، طاقت وروں کے باطل رعب کو توڑا، اور بندوں کو سکھایا کہ اصل خوف خدا کا ہے، اصل امید خدا سے ہے، اور اصل تکیہ بھی اسی پر ہے۔ اقبال اسی نبوی تربیت کے راز کو اس شعر میں سمیٹتے ہیں۔

یعنی جو سچ مچ مصطفوی تعلیم کو سمجھ لے گا، وہ خوف کو معصوم کیفیت سمجھ کر نہیں چھوڑ دے گا، بلکہ اس کے شرکی امکانات کو بھی پہچانے گا۔

فرد اور ملت کے لیے آخری سبق:

یہ بات فرد کے لیے بھی زبردست اہمیت رکھتی ہے اور ملت کے لیے بھی۔ فرد اگر اپنے دل کی کمزوریوں کا جائزہ لے تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ کہاں کہاں مخلوق کا خوف اس پر غالب آ جاتا ہے۔ امت بھی اگر اپنا اجتماعی محاسبہ کرے تو دیکھ سکتی ہے کہ کس حد تک غیر اللہ کے خوف نے اس کی سیاست، اس کی فکر، اس کی تہذیب اور اس کے کردار کو متاثر کیا ہے۔

`بخش ۶` کا اختتام اسی پر ہوتا ہے کہ خوف کے مسئلے کو معمولی نہ سمجھو۔ اگر اسے جڑ سے نہ پہچانا تو توحید ادھوری رہ جائے گی۔ اور اگر اس پوشیدہ شرک کو پہچان لیا تو حیات، عزت اور آزادی کا راستہ کھل جائے گا۔

مثال

اگر کوئی شخص حق جانتے ہوئے بھی صرف اس لیے سچ نہ بولے کہ لوگ ناراض ہو جائیں گے، یا نقصان ہو جائے گا، تو اس کے دل میں مخلوق کا وزن بڑھ گیا ہے۔ یہی وہ پوشیدہ مقام ہے جہاں خوف، توحید کے توازن کو متاثر کرنے لگتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک جو شخص نبوی توحید کے راز کو سمجھ لیتا ہے وہ یہ بھی دیکھ لیتا ہے کہ غیر اللہ کا خوف دل میں ایک پوشیدہ شرک پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے حقیقی مصطفوی تربیت دل کو خوفِ غیر سے آزاد کر کے خالص توحید تک پہنچاتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button