رموز بے خودی

زندہ از یک دم دو صد پیکر کند

زندہ از یک دم دو صد پیکر کند

محفلی رنگیں ز یک ساغر کند

ترجمہ

وہ (کامل رہنما) ایک ہی سانس سے سینکڑوں جسموں کو زندہ کر دیتا ہے، اور ایک ہی ساغر سے ایک رنگین محفل سجا دیتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما کی اس عظیم قوت کو بیان کرتے ہیں جو بیک وقت بہت سے انسانوں کو زندگی اور جوش عطا کر دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

ایک سانس سے سینکڑوں کو زندگی:

اقبال کہتے ہیں کہ وہ رہنما ایک ہی سانس یعنی ایک ہی پیغام اور پکار سے سینکڑوں جسموں کو زندہ کر دیتا ہے۔ یعنی اس کا ایک کلمہ بے شمار مردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے۔

اس کی قوت انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتی ہے، جو ایک ساتھ پوری قوم کو بیدار اور متحرک کر دیتی ہے۔

ایک ساغر سے رنگین محفل:

شاعر کہتے ہیں کہ وہ ایک ہی ساغر سے ایک رنگین اور بارونق محفل سجا دیتا ہے۔ یعنی وہ ایک ہی سرچشمے اور ایک ہی پیغام سے ایک زندہ اور متحرک معاشرہ تشکیل دے دیتا ہے۔

اس کے فیض سے بکھرے ہوئے اور بے رنگ افراد ایک خوبصورت اور ہم آہنگ اجتماع کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

اجتماعی بیداری:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ کامل رہنما کی قوت اتنی عظیم ہوتی ہے کہ وہ بیک وقت ایک پوری قوم کو زندگی، جوش اور رنگ عطا کر دیتا ہے۔

ایک پیغام کی وسعت:

یہ اشارہ نبی کے پیغام کی اس وسعت اور تاثیر کی طرف ہے جو ایک ہی وقت میں لاکھوں دلوں کو بدل دیتا ہے۔

مثال

جیسے ایک چراغ سے بے شمار چراغ روشن ہو جاتے ہیں اور ایک محفل جگمگا اٹھتی ہے، ویسے ہی کامل رہنما کے ایک پیغام سے بے شمار دل زندہ اور ایک پوری قوم بارونق ہو جاتی ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما ایک ہی پیغام سے سینکڑوں دلوں کو زندہ اور ایک پوری قوم کو بارونق بنا دیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button