رموز بے خودی

ہر کہ آب از زمزم ملت نخورد

ہر کہ آب از زمزم ملت نخورد

شعلہ ہائے نغمہ در عودش فسرد

ترجمہ

جو کوئی ملت کے زمزم سے سیراب نہیں ہوتا، اس کے ساز میں نغموں کے شعلے بجھ جاتے ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ملت کو آبِ زمزم سے تشبیہ دے کر فرد کی روحانی اور جذباتی زندگی کو اس سے جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک ملت وہ سرچشمہ ہے جس سے فرد کی زندگی میں ولولہ اور نغمگی آتی ہے۔ شعر کے مطابق:

ملت کا زمزم:

زمزم آبِ حیات اور برکت کی علامت ہے۔ ملت بھی فرد کے لیے ایسا ہی مقدس سرچشمہ ہے جس سے اسے روحانی توانائی، جذبہ اور مقصد ملتا ہے۔

جو فرد اس سرچشمے سے سیراب ہوتا رہتا ہے، اس کی زندگی میں مقصد کی حرارت اور عمل کا جوش قائم رہتا ہے۔

نغموں کے شعلوں کا بجھنا:

جو فرد اس سرچشمے سے دور رہتا ہے، اس کے دل کا ساز خاموش ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی سے ولولہ، جوش اور نغمگی رخصت ہو جاتی ہے۔

اس کے اندر کی موسیقی اور اس کے جذبوں کے شعلے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں، اور وہ ایک بے کیف اور بے رنگ زندگی گزارنے لگتا ہے۔

فرد کی روحانی خشکی:

ملت سے کٹا ہوا فرد اندر سے خالی اور بے کیف ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کے جذبے اور اس کی امنگیں ملت ہی سے سیراب ہوتی ہیں۔

سرچشمے سے وابستگی:

اقبال یہ پیغام دیتے ہیں کہ فرد کی زندگی کی رونق اور اس کے دل کے نغمے قائم رکھنے کے لیے ملت کے سرچشمے سے مسلسل جُڑے رہنا ضروری ہے۔

مثال

جیسے چراغ تیل کے بغیر بجھ جاتا ہے اور روشنی دینا چھوڑ دیتا ہے، ویسے ہی فرد ملت کے سرچشمے سے دور ہو کر بے نور اور بے نغمہ ہو جاتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ فرد کی زندگی کی رونق اور اس کے دل کے نغمے ملت کے سرچشمے سے وابستہ ہیں، اور اس سے دوری فرد کو بے کیف اور بے رنگ بنا دیتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button