رموز بے خودی

رومیان را گرم بازاری نماند

رومیان را گرم بازاری نماند

آن جهانگیری ، جهانداری نماند

ترجمہ

رومیوں کی وہ گرم بازاری باقی نہ رہی، اور ان کی وہ جہانگیری اور جہانداری بھی قائم نہ رہ سکی۔

تشریح

یہ شعر تاریخ کی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بڑی سے بڑی سلطنت، تہذیب یا سیاسی قوت بھی دائمی نہیں ہوتی۔ علامہ اقبال رومیوں کا ذکر کر کے بتاتے ہیں کہ جنہیں کبھی دنیا کی گرم بازاری، غلبہ، نظام سازی اور جہانگیری حاصل تھی، ان کی وہ چمک بھی باقی نہ رہی۔ “گرم بازاری” سے مراد صرف تجارت یا رونق نہیں بلکہ وہ اجتماعی سرگرمی، سیاسی قوت، تہذیبی مرکزیت اور دنیا میں چلتی ہوئی پذیرائی ہے جس کے باعث ایک قوم فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ وہ سب کمزور ہو سکتا ہے۔ شعر کے مطابق:

گرم بازاری کا مفہوم:

بازار یہاں محض خرید و فروخت کی جگہ نہیں بلکہ زندگی کے میدان کا استعارہ ہے۔ کسی قوم کی “گرم بازاری” کا مطلب یہ ہے کہ اس کے افکار چل رہے ہیں، اس کا نظام نافذ ہے، اس کی سیاست مؤثر ہے، اس کا تمدن کشش رکھتا ہے اور دنیا اس کے سانچے میں ڈھل رہی ہے۔ رومیوں کے بارے میں اقبال کہتے ہیں کہ وہ کیفیت باقی نہ رہی۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ تاریخ میں کوئی بھی غلبہ دائمی سند نہیں رکھتا۔ قوت، شہرت اور تسلط اگرچہ ایک زمانے تک بہت مستحکم دکھائی دیں، مگر وہ زوال سے ماورا نہیں ہوتیں۔

جہانگیری اور جہانداری:

“جہانگیری” سے مراد دنیا کو فتح کرنا اور “جہانداری” سے مراد اس دنیا پر نظام کے ساتھ حکومت کرنا ہے۔ اقبال دونوں الفاظ لا کر بتاتے ہیں کہ صرف فتح کر لینا کافی نہیں، بلکہ اسے سنبھالنا، چلانا اور قائم رکھنا بھی ایک الگ مرحلہ ہے۔ رومیوں کے پاس کبھی یہ دونوں چیزیں تھیں، مگر وہ برقرار نہ رہ سکیں۔

یہ نکتہ صرف ایک تاریخی بیان نہیں بلکہ ایک تہذیبی سبق ہے: اقتدار کا اصل مسئلہ اس کا دوام نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود روحانی اور اخلاقی بنیادیں ہیں۔ جب باطن کمزور ہو جاتا ہے تو جہانگیری بھی ہاتھ سے جاتی ہے اور جہانداری بھی۔

تاریخ کا بے لاگ قانون:

اقبال اس شعر سے یہ احساس دلاتے ہیں کہ تاریخ کسی قوم کے ظاہری رعب سے مرعوب نہیں رہتی۔ وہ مسلسل حرکت میں ہے اور ہر قوت کو آزماتی ہے۔ اگر کسی تہذیب کے اندر تجدید کی طاقت نہ ہو، اخلاقی بنیادیں کمزور ہو جائیں، اور مقصدیت ماند پڑ جائے تو اس کی گرم بازاری ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔

اس لیے اقبال ماضی کے فاتحین کو مثال بنا کر موجودہ امت کو جھنجھوڑتے ہیں کہ صرف طاقت کے مناظر کو دیکھ کر دھوکا نہ کھاؤ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون سی قوت اپنے اندر حیاتِ نو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

باطل کی ناپائیداری:

شعر میں ایک تسلی بھی پوشیدہ ہے۔ اگر باطل یا غیر توحیدی نظام کسی دور میں بہت طاقتور دکھائی دیں تو اہلِ ایمان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کی گرم بازاری ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ دنیا میں بہت سی قوتیں ایسی گزری ہیں جو اپنے وقت میں ناقابلِ شکست لگتی تھیں، مگر تاریخ نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا۔

یہی شعور امت کے اندر استقامت پیدا کرتا ہے۔ وہ وقتی غلبے سے مرعوب ہونے کے بجائے اس کے انجام کو بھی دیکھتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کی بڑی عالمی قوتوں کو دیکھ کر بھی یہی اصول سمجھنا چاہیے۔ جو چیز آج ناقابلِ شکست دکھائی دیتی ہے، وہ بھی اگر اخلاقی بحران، باطنی کھوکھلا پن اور مقصدی زوال کا شکار ہو جائے تو اس کی گرم بازاری باقی نہیں رہتی۔ امت کے لیے سبق یہ ہے کہ وہ اپنی امید کو زندہ رکھے اور اپنے عروج کی بنیاد ظاہری طاقت کے بجائے ایمانی و اخلاقی استحکام پر رکھے۔

اقبال ہمیں تاریخ کو لمبی نظر سے دیکھنا سکھاتے ہیں، تاکہ ہم وقتی غلبے کے شور میں دائمی حقیقتوں کو نہ بھولیں۔

مثال

جیسے ایک بڑی تجارتی منڈی کچھ عرصہ دنیا کا مرکز بنی رہتی ہے مگر جب اس کی اصل پیداوار، دیانت اور تنظیم کمزور ہو جائیں تو اس کی رونق ٹھنڈی پڑ جاتی ہے، ویسے ہی قوموں کی گرم بازاری بھی ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں رومیوں کی مثال سے بتاتے ہیں کہ دنیاوی غلبہ، جہانگیری اور جہانداری دائمی نہیں ہوتیں۔ جب کسی قوت کی باطنی بنیادیں کمزور ہو جائیں تو اس کی گرم بازاری ختم ہو جاتی ہے، اس لیے اہلِ ایمان کو وقتی طاقتوں سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button